30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پڑھنے کے بعد یہ پانچ آیات پڑھیے:
الٓمّٓۚ(۱)ذٰلِكَ الْكِتٰبُ لَا رَیْبَ ﶈ فِیْهِ ۚۛ-هُدًى لِّلْمُتَّقِیْنَۙ(۲)الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ وَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَۙ(۳)وَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَۚ-وَ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ یُوْقِنُوْنَؕ(۴)اُولٰٓىٕكَ عَلٰى هُدًى مِّنْ رَّبِّهِمْۗ-وَ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ(۵) (پ۲،البقرۃ:۱۶۳)
{۱} وَ اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌۚ-لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ۠(۱۶۳) (پ۸،الاعراف:۵۶)
{۲} اِنَّ رَحْمَتَ اللّٰهِ قَرِیْبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِیْنَ(۵۶) (پ۱۷،الانبیاء:۱۰۷)
{۳} وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ(۱۰۷)
{۴} مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَ لٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَؕ-وَ كَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا۠(۴۰) (پ۲۲،الاحزاب:۴۰)
{۵} اِنَّ اللّٰهَ وَ مَلٰٓىٕكَتَهٗ یُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِیِّؕ-یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْهِ وَ سَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا(۵۶) (پ۲۲،الاحزاب:۵۶)
اب دُرُود شریف پڑھیے :
صَلَّی اللہُ عَلَی النَّبِیِّ الْاُمِّیِّ وَاٰلِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ صَلٰوۃً وَّسَلَامًا عَلَیْکَ یَا رَسُوْلَ اللہِ
سُبْحٰنَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا یَصِفُوْنَۚ(۱۸۰)وَ سَلٰمٌ عَلَى الْمُرْسَلِیْنَۚ(۱۸۱)وَ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۠(۱۸۲) (پ۲۳،الصّٰفّٰت:۱۸۰۔۱۸۲)
اب ہاتھ اٹھاکر فاتحہ پڑھانے والابُلند آواز سے ’’اَلْفَاتِحَہْ‘‘ کہے، سب لوگ آہستہ سےسُوْرَۃُ الْفَاتِحَہِ پڑھیں ، اب فاتحہ پڑھانے والا اس طرح اعلان کرے: ’’میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! آپ نے جو کچھ پڑھا ہے اُس کا ثواب مجھے دیدیجئے۔‘‘ تمام حاضرین کہہ دیں : آپ کو دیا۔اب فاتحہ پڑھانے والا ایصالِ ثواب کردے، ایصالِ ثواب کے الفاظ لکھنے سے قبل امامِ اہلسنت اعلیٰ حضرت مولانا شاہ احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃ ُاللہِ الرَّحْمٰن فاتحہ سے قبل جو سورتیں وغیرہ پڑھتے تھے وہ تحریر کرتا ہوں :
اعلٰی حضرت رَضِیَ اللّٰہ تعالٰی عَنْہُ کا فاتحہ کا طریقہ
ایک بار
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ(۱)الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِۙ(۲)مٰلِكِ یَوْمِ الدِّیْنِؕ(۳)ِیَّاكَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاكَ نَسْتَعِیْنُؕ(۴)اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَۙ(۵)صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْهِمْ ﴰغَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْهِمْ وَ لَا لضَّآلِّیْنَ۠(۷)
ایک بار
اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَۚ-اَلْحَیُّ الْقَیُّوْمُ ﳛ لَا تَاْخُذُهٗ سِنَةٌ وَّ لَا نَوْمٌؕ-لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِؕ-مَنْ ذَا الَّذِیْ یَشْفَعُ عِنْدَهٗۤ اِلَّا بِاِذْنِهٖؕ-یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْۚ-وَ لَا یُحِیْطُوْنَ بِشَیْءٍ مِّنْ عِلْمِهٖۤ اِلَّا بِمَا شَآءَۚ-وَسِعَ كُرْسِیُّهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَۚ-وَ لَا یَـُٔوْدُهٗ حِفْظُهُمَاۚ-وَ هُوَ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ(۲۵۵)
تین بار
قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌۚ(۱)اَللّٰهُ الصَّمَدُۚ(۲)لَمْ یَلِدْ ﳔ وَ لَمْ یُوْلَدْۙ(۳)وَ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ كُفُوًا اَحَدٌ۠(۴)
ایصالِ ثواب کیلئے دعا کا طریقہ
یا اللہ ! عَزَّوَجَلَّ جو کچھ پڑھا گیا (اگر کھانا وغیرہ ہے تو اس طرح سے بھی کہیں ) اور جو کچھ کھانا وغیرہ پیش کیا گیا ہے بلکہ آج تک جو کچھ ٹوٹا پھوٹا عمل ہو سکا ہے اسکا ثواب ہمارے ناقص عمل کے لائق نہیں بلکہ اپنے کرم کے شایانِ شان مرحمت فرما اور اسے ہماری جانب سے اپنے پیارے محبوب ،دانائے غُیُوب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں نَذْر پہنچا۔ سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے تَوَسُّط سے تمام انبیائے کرام عَلَیْہِمُ الصَّلوٰۃ ُوَالسَّلَامُ، تمام صحابہ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم تمام اولیائے عِظام رَحْمَۃُ اﷲ ِتَعَالیٰ عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْنَ کی جناب میں نَذْر پہنچا۔ سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے تَوَسُّط سے سَیِّدُ نا آدم صفیُّ اﷲ عَلَیْہِ السَّلَام سے لیکر اب تک جتنے انسان و جِنّات مسلمان ہوئے یا قیامت تک ہوں گے سب کو پہنچا،اس دَوران جن جن بزرگوں کو خُصُوصاً ایصالِ ثواب کرنا ہے ان کا نام بھی لیتے جائیں ، اپنے ماں باپ اور دیگر رشتے داروں اور اپنے پیر و مرشِد کو ایصالِ ثواب کریں ۔( فوت شدگان میں سے جن جن کا نام لیتے ہیں ان کو خوشی حاصل ہوتی ہے) اب حسبِ معمول دعا ختم کردیں ۔ (اگر تھوڑا تھوڑا کھانا اور پانی نکالا تھا تو وہ دوسرے کھانوں اور پانی میں ڈال دیں ) (نماز کے احکام،ص۴۸۶۔۴۹۴)
امام کیلئے 30 مدنی پھول
از:بانی ٔدعوتِ اسلامی ،عاشق اعلیٰ حضرت ،شیخِ طریقت، امیرِ اہلسنّت حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطاؔر قادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ
اِمامت اسلام کی بہترین خدمت اور رزقِ حلال کے حصول کاعظیم ذریعہ ہے مگر لاپرواہی کے باعث مقتدیوں کی نمازوں کا بوجھ مَعَاذَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ جہنم میں پہنچا سکتا ہے لہٰذا ممکن ہو تو دعوتِ اِسلامی کے عالمگیر مرکزفیضانِ مدینہ محلہ سوداگران پرانی سبزی منڈی کراچی (یا جہاں میسر آئے)میں اِمامت کورس ضرور ضرور ضرور کیجئے۔
{۱} بہارِشریعت کے ابتدائی چار حصّے پڑھ کرسمجھ لیجئے ضرورتاً علمائے اَہلسنت سے بھی رَہنمائی حاصل کر لیجئے ۔
{۲} نماز میں جو سورتیں اور اَذْکار پڑھتے ہیں وہ لازماًکسی سُنِّی قاری کوسنا دیں ۔
{۳} اگر معاشی پریشانی نہ ہو تو بلا اُجرت اِمامت اِنْ شَآءَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ آپ کے لئے دونوں جہان میں باعثِ سعادت ہے ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع