30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
رہتی کیونکہ قرآن میں وہ سب کچھ ہے جس کی حاجت بنی آدم کو ہوتی ہے۔(ہمارا اسلام، کتب سماوی، حصہ۳، ص۹۹، ۱۰۰ ملتقطاً)
سوال:توکیا قرآنِ مجید میں کمی بیشی نہیں ہوسکتی اورجس کایہ عقیدہ ہو کہ قرآن پاک میں کمی بیشی جائز ہے وہ کون ہے؟
جواب:قرآن مجید میں کمی بیشی ناممکن ہے، چونکہ یہ دِین ہمیشہ باقی رہنے والا ہے لہٰذا قرآن شریف کی حفاظت اللہ عَزَّوَجَل نے اپنے ذمہ رکھی ہے اِسی لئے اس میں کسی حَرْف یانقطہ کی بھی کمی بیشی نہیں ہو سکتی اورنہ کو ئی اپنی خواہش سے اس میں گھٹا بڑھاسکتا ہے اگرچہ تما م دنیا اس کے بدلنے پر جمع ہو جائے اور جو یہ کہے کہ قرآن شریف کا ایک بھی حَرْف کسی نے کم کردیایا بڑھا دیا، یا بدل دیا وہ قطعاً کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج ہے۔ (ہمارا اسلام،آسمانی کتابیں ،حصہ۲،ص۵۱)
صحابۂ کِرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم اجمعین
سوال:صحابی کسے کہتے ہیں نیز مہاجر اور اَنصار سے کون لوگ مراد ہیں ؟
جواب: جس نے ایمان کی حالت میں نبی ٔکریم ،رء وف رحیم،صاحبِ وجہ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو دیکھا ہو اور ایما ن پر اس کی وفات ہوئی ہو ،اسے صحابی کہتے ہیں ۔ ان ہی میں مہاجر و اَنصار ہیں یعنی جو صحابہ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم مکہ معظمہ سے اللہ عَزَّوَجَل اور رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی محبت میں اپنا گھر بار چھوڑ کر مدینہ طیبہ ہجرت کر گئے تھے انہیں مہاجرین صحابہ کہا جاتا ہے جبکہ مدینہ منورہ کے وہ صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم جنھوں نے رسولِ اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اور مہاجرین کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کی مدَد و نصرت کی وہ اَنصار کہلاتے ہیں ۔(ہمارا اسلام،صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم،حصہ۳،ص۱۰۹)
سوال: صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کے متعلق ہمارا کیا عقیدہ ہونا چاہیے؟
جواب : تمام صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم ، آقائے دو عالم، نورِ مجسم، شاہِ بنی آدم، تاجدارِ عرب و عجم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے جاں نثار اور سچّے غلام ہیں ان کا جب بھی ذکر کیا جائےتو خیر ہی کے ساتھ کرنا فرض ہے۔ تمام صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم جنتی ہیں وہ جہنم کی بھنک نہ سنیں گے اور ہمیشہ ہمیشہ اپنی من مانتی مرادوں میں رہیں گے قِیامت کی سب سے بڑی گھبراہٹ انہیں غمگین نہ کرے گی فرشتے ان کا اِستقبال کریں گے۔ رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ہر صحابی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی یہ شان قرآنِ عظیم اِرشاد فرماتا ہے لہٰذا صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم میں سے کسی کی کسی بات پر گرفت کرنا اللہ و رسول عَزَّوَجَلَّ و صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے خلاف ہے اور کوئی وَلی کتنے ہی بڑے مرتبے کا ہو کسی صحابی کے رُتبہ کو نہیں پہنچ سکتا۔ ان میں سے کسی کی شان میں گستاخی کرنا یا کسی کے ساتھ بد عقیدگی رکھنا گمراہی ہے اور ایسا شخص جَہنَّم کا مستحق ہے۔ (ہمارا اسلام، صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم، حصہ۳، ص۱۰۹)
سوال: تمام صحابہ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم میں افضل کون سے صحابہ ہیں ؟
جواب : اَنبیاء و مرسلین علیہم الصلوۃ والتسلیم کے بعد خدا عَزَّوَجَلَّ کی ساری مخلوق سے اَفضل حضرتِ سیِّدناصدیقِ اکبر ہیں پھر حضرتِ سیدنا فاروقِ اعظم پھرحضرتِ سیِّدنا عثمانِ غنی پھرحضرتِ سیِّدنامو لیٰ علی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم ۔یہ حضرات ،رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے وِصالِ ظاہری کے بعد آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے خلیفہ ہوئے ۔ اِن خلفائے اَربعہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کے بعد حضرتِ سیِّدنا طلحہ، حضرتِ سیِّدنازبیر ،حضرتِ سیِّدناعبد الرحمن بن عوف، حضرتِ سیِّدناسعد بن ابی وقاص ،حضرتِ سیِّدنا سعید بن زید اور حضرتِ سیِّدنا ابو عبیدہ بن الجراح رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کو فضیلت حاصل ہے چنانچہ چار خلفاء اور چھ یہ معزز ہستیاں مل کر دس ہوئے ان ہی کو ’’عشرۂ مبشرہ‘‘ کہاجاتا ہے یعنی وہ دس افراد جن کے جنتی ہونے کی بشارت رَحمتِ عالمیان ،نبی غیب دان، سرورِکون و مکان صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نےدنیا ہی میں دے دی تھی لہٰذا یہ تمام نفوسِ قدسِیَّہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم قطعی جنتی ہیں ۔ (ہمارا اسلام، صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم،حصہ۳،ص۱۱۰۔۱۱۱ ملتقطاً)
سوال: خلیفہ ہونے کا کیا مطلب ہے ؟
جواب:نبی ٔ رَحمت، آقائے امَّت،محبوبِ رب العزت عَزَّوَجَلَّ و صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا ایسا قائم مقام جو مسلمانوں کے تمام دِینی اور دنیاوی کاموں کو شریعتِ مطہَّرہ کے موافق انجام دے اور جائز کاموں میں اس کی فرمانبرداری کرنا مسلمانوں پر فرض ہو، اسے خلیفہ رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کہتے ہیں ۔حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے بعد تمام مسلمانوں کے اتفاق سے حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ خلیفہ برحق ہوئے ۔ (ہمارا اسلام، صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم،حصہ۳،ص۱۱۰)
سوال:حضرت سیِّدنااَمیر معاوِیہ کون ہیں ؟
جواب : حضرت سیِّدنااَمیر معاوِیہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ بھی صحابی ہیں اور شاہانِ اسلام میں سب سے پہلے بادشاہ، اسی کی طرف توراۃ مقدس میں اشارہ ہے کہ وہ نبی آخر الزمان (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ) مکہ میں پیدا ہوگا اور مدینہ کو ہجرت فرمائے گا اور اس کی سلطنت شام میں ہوگی، تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی بادشاہی اگرچہ سلطنت ہے مگر کس کی ! محمد رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی۔ خود سیدِنا امام حسن رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے خلافت سیِّدنا امیر معاویہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے سپرد فرمادی تھی اور ان کے دستِ مبارک پر بیعت فرمالی تھی لہٰذا ان کی یا ان کے والد ماجد حضرت سیِّدناابو سفیان یا والدۂ ماجدہ حضرت ِ سیِّدتنا ہندہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کی شان میں گستاخی کرنا سخت بے اَدَبی اور حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو اِیذا دینا ہے اسلئے کہ یہ سب صحابہ ہیں ۔ (بہا رشریعت،امامت کا بیان، حصہ اول،ص۲۵۸وہما را ا سلام،صحابہ کرام،حصہ۳،ص۱۱۱)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع