30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سنّتیں سیکھنے سکھانے کا حلقہ بھی لگایا جاتا ہے۔جس کی بَرَکت سے سینکڑوں گونگے بہرے اسلامی بھائیوں کی زندگی میں مَدَنی انقلاب برپا ہوچکا ہے۔اس ضمن میں چند حکایات پڑھئے اور جھومئے۔
(4) رو رو کر آنکھیں سُرخ ہوگئیں
صوبہ پنجاب اسلام آباد کی شمس العارفینمسجد میں عُمومی اسلامی بھائیوں کے ساتھ ساتھ گونگے بہرے اسلامی بھائیوں کا بھی حلقہ لگتا تھا۔ایک مرتبہ اجتماع میں ایک ایسے گونگے بہرے اسلامی بھائی شریک ہوئے جو تھوڑا بہت سُن بھی سکتے تھے ۔ وہ خُصوصی اسلامی بھائی دعوتِ اسلامی کے مخصوص انداز میں دعا و اذکار کے طریقہ کارکو دیکھ کر بے حد متاثر ہوئے۔ دورانِ دعاان پر رقت طاری ہوگئی (کیونکہ یہ خُصوصی اسلامی بھائی تھوڑا بہت سُن بھی سکتے تھے۔) اجتماع کے اختتام پردیکھا گیاکہ ان خُصوصی اسلامی بھائی کی آنکھیں رَو رَو کر سرخ ہوچکی ہیں ۔ جب کسی نے اسقدررونے کی وجہ پوچھی تو انہوں نے اشارے میں بتایا کہ میں خوفِ خدا وندی عَزَّوَجَلَّاور جہنم کے ڈر سے روپڑا، میں نے اپنے تمام پچھلے گناہوں سے توبہ کرلی ہے ۔یہ بتاتے وقت بھی ان پَر رقت طاری تھی ۔
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
بلوچستان (پاکستان )کے شہر’’ٹُھل‘‘ میں گونگے بہرے افراد میں جھگڑے کے باعث دو گروہ بن گئے تھے ۔ آئے دن مارکُٹائی کا سلسلہ رہتا۔ باب الاسلام کے شہرعطار آباد(جیکب آباد)میں خصوصی یعنی گونگے بہرے اسلامی بھائیوں کے سنّتوں بھرے اجتماع کی ترکیب بنی ۔ مجلس کے اسلامی بھائیوں نے ٹھل کے گونگے بہرے اسلامی بھائیوں پر انفرادی کوشش کی اور انہیں اس سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کیلئے تیّار کرلیا۔اجتماع میں پہنچنے کے بعد بھی وہ دونوں گروہ آپس میں ناراض تھے۔مبلغین نے خیر خواہی کرتے ہوئے انہیں الگ الگ سمجھانے کی کوشش کی مگروہ کسی صورت میں صلح کیلئے تیّار نہ ہوئے۔جب سنّتوں بھرااجتماع اختتام پذیر ہواتوعاشقانِ رسول کیصحبت کی بَرَکت سے گونگے بہرے اسلامی بھائیوں میں کافی تبدیلی محسوس ہورہی تھی۔ موقع دیکھ کر مجلس کے اسلامی بھائیوں نے ان پراشاروں کی زبان میں صلح کیلئے دوبارہ انفرادی کوشش کی تو اس بار وہ ہاتھوں ہاتھ صلح کیلئے تیّار ہوگئے اور ایک دوسرے سے معافی مانگنے لگے ، بلکہ بعض تو ایک دوسرے کے گلے لگ کر رونے لگے۔ مبلغین نے اس خوشی میں مَدَنی قافلے میں سفر کرنے کیلئے ترغیب دلائی تو یہ تمام گونگے بہرے اسلامی بھائی مَدَنی قافلے میں سفر کیلئے تیار ہو گئے اور یہ قافلہ بلوچستان کے شہر ’’ڈیرہ اللہ یار ‘‘ روانہ ہوگیا۔
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
اَلْحَمْدُ لِلّٰہعَزَّوَجَلَّ 30جولائی2007 ء بروز پیر شریف گونگے بہرے اسلامی بھائیوں کا سنّتوں بھرا اجتماع جامع مسجد غوثیہ شیخوپورہ میں منعقد ہوا۔ اس علاقہ میں گونگے بہرے اسلامی بھائیوں میں کام شروع ہوئے زیادہ عرصہ نہیں ہواتھا مگراسلامی بھائیوں کی انفرادی کوشش کی برکت سے اجتماع میں کثیر تعداد میں گونگے بہرے اسلامی بھائیوں نے شرکت کی۔
مبلغ اسلامی بھائی نے شیخِ طریقت، امیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے رسالے’’سمندری گنبد‘‘ کی مدد سے اشاروں کی زبان میں بیان کیا ۔یہ رسالہ والدین کی اطاعت کے موضوع پر اپنی مثال آپ ہے ۔ والدین کی اطاعت کی فضیلت اور نافرمان اولاد پر عذاب کا تذکرہ اشاروں کی زبان میں سن کر گونگے بہرے اسلامی بھائی آبدیدہ ہوگئے ۔امیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے قلم سے نکلے ہوئے الفاظ کا اثر تھا کہ وہاں پر موجود ڈیف کلب کا صدراپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکا۔ وہ دورانِ بیان اُٹھا اور مبلغ کے سینے سے لگ کر رونے لگا۔ بہرحال رقت انگیز ماحول میں بیان جاری رہا ۔بعدِ اجتماع جب امیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ سے مرید ہونے کیلئے نام لکھنے کا سلسلہ ہوا تو ایسا لگ رہا تھا جیسے ہر ایک گونگا چاہتا ہے کہ میں پہلے اپنے آپ کو عطاری رنگ میں رنگ لوں ۔شرکاء ِ اجتماع نے نمازوں کی پابندی اور اجتماعات میں شرکت کی نیّت کرنے کے ساتھ ساتھ آئندہ زندگی اطاعتِ الٰہی میں گزارنے کا بھی عزم کیا ۔ اس اجتماع میں موجود 4 بد مذہب گونگے بہروں نے توبہ بھی کی اور امیرِاَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ سے مرید ہوکر ’’عطاری‘‘ بھی بن گئے۔
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
علاقائی دورہ برائے نیکی کی دعوت
علاقائی دورہ برائے نیکی کی دعوت مسلمانوں میں نیکی کی دعوت عام کرنے کا ایک بہترین ذریعہ ہے ۔اس میں گھر گھر ، دکان دکان جاکر اسلامی بھائیوں کو نیکی کی دعوت
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع