30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
رسول کے ہمراہ سنّتوں کی تربیت کیلئے سفر کرنے والے مَدَنی قافلوں میں سفر کی سعادت حاصل کرتے ہیں ۔اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ اس مَدَنی قافلے میں گونگے بہرے اسلامی بھائیوں کے ساتھ اشاروں کی زبان سیکھے ہوئے عمومی اسلامی بھائی بھی شامل ہوتے ہیں جنہیں خصوصی اسلامی بھائیوں کو تربیت دینے کے ساتھ دورانِ سفرپیش آنے والے مسائل کا حل اورمدنی قافلے کا جدول چلانے کا طریقہ وغیرہ بھی سکھایا جاتاہے۔ گونگے بہرے اسلامی بھائیوں سے متعلق مَدَنی قافلہ ودیگر مَدَنی کاموں کی بَرَکتوں پَر مشتمل چند مَدَنی بہاریں ملاحظہ کیجئے۔
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِعَزَّوَجَلَّ 15جولائی2007ء بروز اتوار گونگے بہرے اسلامی بھائیوں کا سنّتوں بھرا اجتماع جامع مسجد فریدیہ رضویہ سیٹلائٹ ٹاؤن بہاولپور میں منعقد ہوا۔ گونگے بہرے اسلامی بھائیوں کا پنجاب کے کسی شہر میں یہ پہلا سنّتوں بھرااجتماع تھا۔ سنّتوں بھرے اجتماع کی دعوت کے سلسلے میں گونگے بہرے اسلامی بھائیوں کے مَدَنی قافلے مختلف شہروں کی طرف روانہ ہوئے۔ایک مَدَنی قافلہ لودھراں کی جامع مسجد میں پہنچا۔ نمازِ عصر کے وقت معلوم ہوا کہ امام صاحب نماز کے بعدبیان فرمائیں گے۔ بعدِ عصر جب امام صاحب کا بیان شروع ہوا تو اشاروں کی زبان کے تربیت یافتہ مبلغ دعوتِ اسلامی گونگے بہرے اسلامی بھائیوں کو اشاروں کی زبان میں بیان بتانے لگے۔ بیان کے بعد عالم صاحب نے مبلغ کو قریب بلاکر معلومات کیں تو انہیں مجلسِ خصوصی اسلامی بھائی کا تعارف پیش کیا گیا۔ وہ بَہُت خوش ہوئے اور اپنے گھر تشریف لے گئے۔ کچھ ہی دیر بعد وہ اپنے ساتھ ایک نوجوان کولے آئے جس کے سر پر سفید عمامہ اور چہرے پر سُنّت کے مطابق داڑھی شریف تھی۔ فرمانے لگے : ’’ یہ میرا بیٹا ہے جو dumb Deaf & (یعنی گونگا بہرا) ہے آپ لوگوں کے مَدَنی کام کے اس انداز سے میں بَہُت خوش ہوا ہوں ، میرا بیٹا بآسانی انگلش لکھ اور پڑھ سکتا ہے، کمپیوٹر بھی چلا لیتا ہے مگر اشارے نہیں جانتاآپ لوگوں سے عرض ہے کہ اسے بھی اشارے سکھادیں ۔‘‘جب امیرِ قافلہ نے انہیں بہاولپور میں ہونے والے سنّتوں بھرے اجتماع کی دعوت پیش کی تو انہوں نے بخوشی قبول کرلی۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ وہ نہ صرف خود اجتماع میں تشریف لائے بلکہ کئی عمومی اسلامی بھائیوں کو بھی اپنی گاڑی میں ساتھ لے آئے۔
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(13)جا پانی وفد پر انفراد ی کوشش
پنجاب مکی کے ڈویژن اسلام آباد میں واقع بلیوایریا(اسلام آباد) Deaf(گونگے بہروں ) کی ایسوسی ایشن کے ایک بڑے ادارے میں 31مئی2007بروز جمعرات ایک جاپانی وفد آیا۔ان کے ساتھ پاکستان کے ایک مالیاتی ادارے کے منیجر صاحب بھی تھے جو پاکستان سطح پر ڈیف(یعنی گونگے بہروں ) کیلئے ڈونیشن کی ترکیب بناتے ہیں ۔اُس ایسوسی ایشن کے صدراور اراکین کے علاوہ Deafپر مشتمل پاکستانی کرکٹ ٹیم کے Deafکپتان بھی موجود تھے۔تبلیغِ قرآن و سنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کی اَہَم منفرد مجلس بنام ’’خصوصی اسلامی بھائی‘‘کے چند اراکین بھی وہاں موجود تھے۔مالیاتی ادارے کے منیجر صاحب نے(جو گونگے بہروں میں دعوتِ اسلامی کی خدمات سے بَہُت متاثر ہیں )جاپانی وفد کو ’’مجلس خصوصی اسلامی بھائی‘‘سے متعارف کروایا۔مبلغینِ دعوتِ اسلامی نے امیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے مرتب کردہ مَدَنی انعامات اور(انگریزی زبان میں ترجمہ شدہ)مَدَنی رسائل وفد کے اراکین اور دیگر شرکاء کو تحفۃ ًدئیے اور قبلہ شیخِ طریقت، امیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا تعارف بھی پیش کیا۔پھر تمام شرکاء کو’’دعوتِ اسلامی کا تعارف‘‘نامیVCDدکھانے کا اہتمام کیا گیا۔اس دوران مبلغ اسلامی بھائی اشاروں کی زبان میں وضاحت پیش فرماتے رہے۔ جس سے شرکاء انتہائی متاثر ہوئے ۔انہوں نے دعوتِ اسلامی کی خدمات کو بَہُت سراہا اور امیرِ اَہلسنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ سے ملاقات کا اشتیاق ظاہر کیا ۔ کرکٹ ٹیم کے Deafکپتان نے آئندہ پانچوں وقت نماز پڑھنے کی بھی نیت کی۔
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
پنجاب کے ایک ’’ گونگے بہرے ‘‘ اسلامی بھائی جو دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول کی برکت سے سنّت کے مطابق داڑھی شریف رکھنے کے ساتھ ساتھ سر پر سبز عمامے شریف کا تاج بھی سجاچکے تھے۔باجماعت نماز کے تو ایسے پابند ہوگئے کہ اذان سے پہلے ہی مسجد میں چلے جاتے اور ذکر و اذکار میں مشغول رہتے۔مسجد کے نمازی بھی ان سے بے حد متاثر تھے۔ یہ گونگے بہرے اسلامی بھائی Deafاسکول میں پڑھتے تھے۔اسکول کے طلبہ انہیں تنگ کرتے اورکہتے : ’’(مَعَاذَ اللہ ) تم داڑھی کٹوادو ، ابھی تمہاری عمرہی کیا ہے وغیرہ وغیرہ ۔‘‘مگر ان کے دل میں آقا صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی سنتوں پرعمل کا ایسا جذبہ تھا کہ وہ ان مشوروں کو کسی خاطر میں نہ لاتے ۔ ایک دفعہ اسکول میں چند لڑکوں نے ان کو پکڑا اور ٹیچر نے ان کی داڑھی کاٹ دی(مَعَاذَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ )۔اس گونگے بہرے اسلامی بھائی کو ان کے اس ظالمانہ عمل کا بہت صدمہ ہوا ۔وہ مارے دکھ اور شرم کے گھر میں جا بیٹھے اور روتے رہے۔بالآخر سنتوں پر عمل ترک کرنے کے بجائے انہوں نے اس اسکول کو ہی چھوڑ دیا ۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ یہ گونگے بہرے اسلامی بھائی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع