دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Ghulaab Ki Patiyon Par Paon Rakhna Kaisa | گُلاب کی پتّیوں پرپاؤں رکھنا کیسا؟

book_icon
گُلاب کی پتّیوں پرپاؤں رکھنا کیسا؟

جانتا ہو اگرچہ وہ عالِم کی تعریف (Definition)پر پورا نہ اُتر رہا ہو مگر  وہ جاہِل بھی نہیں ہے ۔  عالِم کی  تعریف کچھ اِس طرح ہے کہ اُسے  اپنی ضَرورت کے فَرض عُلُوم معلوم ہوں ، اس کے ساتھ ساتھ وہ اپنی ضَرورت کے  مَسائل  بغیر کسی کی مدد کے  کتابوں سے نکالنے کی صَلاحیت رکھتا ہو اور اُسے اپنے عَقائد بھی معلوم ہوں انہیں  بھول نہ گیا ہو  ۔ ([1])ہر غیرِ عالِم کو جاہِل نہیں کہنا چاہیے ۔

گوشت یا زندہ مُرغ کو وار کر جنگل میں پھینکنا کیسا؟

سُوال: بعض لوگ  گوشت ىا زندہ مُرغ اپنے  اوپر سے وار کر جنگل مىں پھىنک دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ پیچھے مُڑ کر نہیں دیکھنا کیا یہ دُرُست ہے ؟  

جواب: صَدَقے کی کئی  اَقسام ہیں فرض صَدَقہ جیسا کہ  زکوۃ، واجِب صَدقہ جیسا کہ  فطرہ  اور دِیگر صَدقاتِ واجبہ ۔  نفلی صَدَقہ جیسے کسی غریب قوم میں ثواب کی نیت سے رَقم  دینا جسے  اُردو میں خیرات کہا جاتا ہے یہ بھی صَدَقہ  ہی ہے ۔  اس کے علاوہ صَدَقے کی بعض صورتیں اور بھی  ہیں جیسا کہ جان کا صَدَقہ دینا وغیرہ ۔ اگر جان کا صَدَقہ دینا ہو تو فتاویٰ رضویہ شریف  میں ہے کہ جان کے بدلے یوں جان کا صَدَقہ دیا جائے کہ حَلال جانور ذَبح  کر کے دے دیا جائے ۔ ([2]) لہٰذا جان کا صَدقہ نکالنے کے لیے  بکرا یا مُرغی ذَبح کر کے دینا زیادہ اچھا ہے اور زندہ دینے میں بھی کوئی حَرج نہیں ۔ اِسی طرح رَقم ، کپڑا اور اَناج وغیرہ چیزیں بھی صَدَقے میں دی  جا  سکتی ہیں ۔  سُوال میں جو صَدَقے کی صورتیں بتائی گئیں یہ بابا جی لوگوں کے ڈھکوسلے ہوتے ہیں انہیں اِختیار کرنے  سے بچنا چاہیے ۔ صَدَقہ نکالنے کے لیے زندہ مُرغ پھینک دینا یا بکرے کی سِری  یا پائے قبرستان کے چوراہے میں دَفن کرنا مال کو ضائع کرنا ہے اور ایسا صَدَقہ جس میں مال کو ضائع کیا جائے حرام ہے  ۔ ([3])  

رہی بات پیچھے مُڑ کر نہ دیکھنے کی تو مجھے لگتا ہے کہ یہ بابا جی لوگوں پر تأثر (Impression) ڈالنے کے لیے بولتے ہوں گے کہ مُرغ پھینک دینا اور پیچھے مُڑ کر نہ دیکھنا ۔  نیز یہ بھی ممکن ہے کہ بابا جی ایسی جگہ مُرغ یا بکرا پھینکوا رہے ہوں کہ جہاں پہلے سے  ہی بابا جی کے بندے موجود ہوں  کہ جیسے ہی  بکرا یا مُرغ چھوڑا جائے وہ اسے پکڑ کر لے جائیں لہٰذا بابا جی اس خوف سے کہ اگر مُرغ  یا بکرا چھوڑنے والے نے مُڑ کر دیکھ لیا تو کہیں میرا بھانڈا پھوٹ نہ جائے ۔ اس لیے صَدَقہ نکالنے والے کو یہ کہہ کر خوفزدہ کر دیتے ہوں کہ پیچھے مُڑ کر نہیں دیکھنا اور اگر دیکھنے پر کچھ ہوا تو مجھے نہیں بولنا ۔  

بعض صورتوں میں ”مُڑ کر نہ دیکھنا“بطورِ محارہ بھی اِستعمال ہوتا ہے جیسا کہ یہ  کہا جاتا ہے ”راہِ خُدا میں دیا تو مُڑ کر مَت دیکھو “اِس سے مُراد یہ ہوتا ہے کہ راہِ خُدا  میں دینے کے بعد یہ تمنا نہ کرو کہ مجھے واپس مِل جائے یا میں واپس لے لوں وغیرہ ۔  بہرحال بابا جی جو بولتے ہیں کہ ”پیچھے مُڑ کر مَت دیکھو “اس میں ان کی کیا حِکمت ہے مجھے معلوم نہیں اور اس سے متعلق جو باتیں میں نے ذِکر کیں یہ  بطورِ تَفَنُّن کے  ہیں ۔  

کسی پر نفسیاتی اَثر   ڈالنا کیسا؟

سُوال: کسی پر نفسیاتی اَثر   ڈالنا کیسا ہے ؟([4])  

جواب:  نفسیاتی اَثر ڈالنا ہر صورت میں ناجائز نہیں ہوتا بلکہ بعض  صورتوں میں جائز بھی ہوتا ہے جیسا کہ  مریض  کو اگر  دو چار باتیں ایسی بتائی جائیں کہ جس میں اُس کا نقصان نہ ہو اور اُن باتوں کا تعلق نفسیات سے ہو اس سے اُسے سکون ملے گا  تو صحیح ہے ۔  جب لوگ ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں تو اس کے گلے  میں اسٹیتھو سکوپ (Stethoscope) لگا ہوتا ہے لہٰذا اگر مریض بولتا ہے کہ مجھے نَزلہ ہو رہا  ہے یا کھانسی آ رہی ہے تو ڈاکٹر صاحِب اسٹیتھو سکوپ (Stethoscope)کو کان میں لگا کر  مریض کے سینے اور پیٹھ پر رکھتے ، مریض کا  پیٹ اور پیٹھ دَباتے اور دو چار سُوالات بھی کرتے ہیں  جس کے باعِث مریض یہ سمجھتا ہے کہ ڈاکٹر بہت اچھا ہے اور بڑی دیکھ بھال کر کے مجھے دَوا دے رہا ہے ، حالانکہ ڈاکٹر کو پتا ہوتا ہے کہ اُس نے مریض کو کیا دَوا دینی ہے ۔ مجھے تو یہ محسوس ہوتا ہے کہ ڈاکٹر صاحبان مریض پر نفسیاتی اَثر ڈالنے کے لیے اِس طرح چیک کرتے ہوں گے ۔  اِسی طرح جب دوا بن رہی ہوتی ہے تو اس دَوران اگر مریض بولے کہ ڈاکٹر صاحب مجھے یوں بھی ہوتا ہے تو ڈاکٹر صاحب دوا تو دے چکے ہوتے ہیں لہٰذا اب مریض پر مزید نفسیاتی اَثر ڈالنے کے لیے کمپاؤنڈر کو آواز دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ایکوا (Aqua)کر دینا جس کے سبب مریض یہ سمجھتا ہے کہ کمپاؤنڈر کو  مزید دوا ڈالنے کا کہا جا رہا ہے حالانکہ ایکوا (Aqua) پانی کو کہتے ہیں  یعنی ڈاکٹر صاحب کمپاؤنڈر کو  کہتے ہیں کہ دوا میں پانی مِلا دینا ۔

 



[1]    ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت، ص ۵۸ مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی ۔ فتاویٰ رضویہ ، ۲۶ / ۵۷۵   

[2]    فتاوی رضویہ ، ۲۴ / ۱۸۶ ماخوذاً 

[3]    فتاوی رضویہ ، ۲۰ / ۴۵۵ ماخوذاً

[4]    یہ سُوال شعبہ فیضانِ مَدَنی مذاکرہ کی طرف سے قائم کیا گیا ہے جبکہ جواب امیرِ اہلسنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا عطا فرمودہ  ہی  ہے ۔ (شعبہ فیضان مَدَنی مذاکرہ)

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن