30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سُوال: مسجد کی مِحراب بنانا کیسا ہے ؟
جواب: طاق نُما مسجد کی مِحراب پہلے نہیں تھی بعد مىں بنى ہے اور یہ بِدعَتِ حَسَنَہ(یعنی اچھی بِدعَت)ہے ۔ حضرتِ سَیِّدُنا عمر بِن عبدُالعزىز عَلَیہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْعَزِیْز نے سب سے پہلے مسجدِ نبوى شرىف عَلٰی صَاحِبِھَاالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام مىں مِحراب بنانے کى اِبتدا کى ۔ ([1])مِحراب دَراصل مسجد کے بالکل بىچ کا حصّہ ہوتا ہے ، امام کا وہاں کھڑا ہونا سُنَّت ہے ، چاہے وہ طاق نُما بنا ہو ىا نہ بنا ہو ۔ اب مَساجد کى پہچان مِحراب سے ہی ہوتی ہے لہٰذا مِحراب بنانی چاہىے ۔
قضا نمازوں اور روزوں کا فِدیہ ادا کرنے کا طریقہ
سُوال: فوت شُدہ کى قضا نمازوں اور روزوں کا فِدىہ ادا کرنے کا طرىقہ بیان فرما دیجیے ۔
جواب: فوت شُدہ نے جتنى نمازىں قضا کى ہىں ان کا حِساب لگایا جائے ، اب اگر عمر بھر نمازىں نہىں پڑھىں تو جب سے بالغ ہوا اس وقت سے حِساب لگاىا جائے ۔ ىہ بھى معلوم نہ ہو کہ کب بالغ ہوا تھا تو مَرد کا 12 سال اور عورت کا نو سال کی عمر سے حِساب لگایا جائے ۔ یہ حِساب ہجری سن کے اِعتبار سے لگانا ہو گا نہ کہ عىسوى سن سے کىونکہ دونوں مىں فرق ہے ۔ اسلامى معاملات سارے کے سارے ہجرى سن کے حِساب سے ہوتے ہىں ۔ بَدقسمتى سے مسلمانوں کا سن ہجری کى طرف دھىان ہى نہىں ۔ ہجرى سن کو فاروقى سال بھى کہا جاتا ہے کیونکہ اَمِیْرُ الْمُؤمِنِیْن حضرتِ سَیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے ہجرى سن کو باقاعدہ جارى فرماىا تھا ۔ ([2]) اگر اسے اسلامى سال بولىں تو بھی دُرُست ہے ۔
بہرحال فوت شُدہ کی عمر سے اِس طرح قضا نمازوں اور روزوں کا حِساب لگایا جائے ۔ حِساب لگانے کے بعد مثلاًاىک ہزار (1000)دِن کى قضا نمازىں بنتی ہىں، اب روز کى ىوں تو پانچ نمازىں ہىں مگر وتر کا بھى فِدىہ دىنا ہو گا تو ىوں ایک دِن کے چھ فِدىے بنىں گے ۔ اِسی طرح مثلاًاىک ہزار (1000) دِن کے روزے بھی قضا بنتے ہوں تو ہر روزے کا بھى اىک فِدىہ دینا ہوگا ۔ تو یوں ہزار (1000)دِن کی قضا نمازوں اور روزوں کے سات ہزار (7000) فِدیے بن جائیں گے ۔ اب ایک فِدیہ کی مِقدار ایک صَدَقۂ فِطر ہے جو ہم رمضانُ المبارک میں دیتے ہیں مثلاً اِس سال (۱۴۳۹ ھ بمطابق 2018 کو ) ایک صَدَقۂ فِطر کی قیمت گیہوں (یعنی گندم ) کے حِساب سے 100 روپے تھی جبکہ کھجور اور کشمش کے حِساب سے زیادہ بنتی ہے ۔ اب اگر گیہوں (یعنی گندم ) کی رَقم کے حِساب سے مسکین کو سات ہزار (7000) فِدیوں کی قیمت دیں گے تو یہ (700000) بنے گی ۔ اب اگر اتنی رَقم پا س نہیں تو اس میں حیلے کی بھی گنجائش ہے مثلاً اس کے پاس اىک ہزار (1000) فِدیے کی رَقم ہے ، وہ رَقم فِدیے کے طور پر کسی شَرعی فقیر کو دے ، شَرعی فقیر اس رَقم پر قبضہ کرنے کے بعد تحفے کے طور پر یہ رَقم اسے واپس لوٹا دے اور یہ قبضہ کرنے کے بعد پھر اس شَرعی فقیر کو فِدیے میں یہ رَقم دے تو اِس طرح سات بار کرنے سے سات ہزار (7000) فِدیوں کی ادائیگی ہو جائے گی ۔ ساری عمر کے روزوں کا حِساب لگانے میں جس جس رَمضان کے 29 دِن کا ہونا ىقىنى معلوم ہو تو اسے 29 شمار کیا جائے ۔ مزید تفصیلات جاننے کے لیے مکتبۃُ المدینہ کی شائع کردہ کتاب”نماز کے اَحکام “ میں موجود رِسالے ”قضا نمازوں کا طریقہ “ کا مُطالعہ کیجیے ، یہ رِسالہ مکتبۃُ المدینہ سے الگ سے بھی مِل سکتا ہے ۔
پاگل کتا کاٹے تو کیا اِحتیاطی تَدابیر اِختیار کی جائیں؟
سُوال : اگر کسی کو پاگل کتا کاٹ لے اور شدید زخمی کر دے تو علاج معالجے کے ساتھ کیا اِحتیاطی تَدابیر اِختیار کی جائیں؟سُنا ہے کہ ایسا شخص سورج کی روشنی میں نہ نکلے ، اس پر پانی کا پرچھانواں اور لائٹ کی روشنی بھی نہ پڑے ، کیا یہ باتیں دُرست ہیں ؟
جواب: سوال میں جو قیودات بتائی گئیں ہیں ان کا مجھے عِلم نہیں ۔ البتہ بسااوقات تجربہ کار لوگ ایسی باتیں بتاتے ہیں اور ان کی بتائی ہوئی بعض باتیں دُرُست بھی ہوتی ہیں ۔ اب تو ترقی یافتہ دور ہے ، ایسے اِنجکشن بھی آتے ہیں کہ جن سے پاگل کتے کے کاٹے کا علاج ہو جاتا ہے ۔ پاگل کتے کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ جس شخص کو پاگل کتا کاٹے اگر وہ شخص کسی اور کو کاٹ لے تو اسے بھی وہ مَرض ہو جاتا ہے لہٰذا اِحتیاط کی جائے ۔ اَپنے آپ کو پاگل کتے سے اِتنا دُور رَکھا جائے کہ وہ کاٹنے ہی نہ پائے ۔ یاد رَکھیے ! یہ ضَروری نہیں کہ پاگل کتا کاٹے ہی کاٹے گا بلکہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ پاگل کتا نہیں کاٹتا ۔
سُوال: کىا دُنىا مىں صِرف دو ہی قسم کے لوگ ہوتے ہىں عالِم اور جاہِل، اگر کوئی عالِم نہىں تو اب چاہے وہ کتنا ہى مُطالعہ کر لے وہ جاہِل ہى کہلائے گا؟
جواب: ہر غیرِ عالِم جاہِل ہی ہو ایسا نہیں ہے ۔ یاد رکھیے ! ہر مسلمان کے لیے اپنی ضَرورت کے شَرعی مَسائِل سیکھنا فرض ہے لہٰذا جو مسلمان اپنی ضَرورت کے فرض عُلُوم
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع