30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سُوال: اعلىٰ حضرت عَلَیْہِ رَحْمَۃُرَبِّ الْعِزَّت کا ایک شعر ہے ”بے نِشانوں کا نِشاں مٹتا نہىں ، مٹتے مٹتے نام ہو ہى جائے گا“ اِس شعر مىں اعلىٰ حضرت رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کىا مَدَنى پھول عطا فرمارہے ہىں بیان فرما دیجیے ۔
جواب: اس شعر مىں عىن ممکن ہے کہ اعلیٰ حضرت، امامِ اہلِسنَّت، مُجَدِّدِ دِین و مِلَّت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن کا مَطْمَحِ نظر(یعنی اصلی مقصد) یہ ہو کہ اپنے عمل کو چُھپاىا جائے ۔ اَحاد ىثِ مُبارَکہ میں یہ مَضامىن موجود ہىں کہ جو مخلص ہوتا ہے وہ اپنے عمل کو چاہے کتنے ہى پَردوں مىں چُھپائے اللہ تعالىٰ اس کے عمل کو ظاہر کر ہى دىتا ہے ۔ ([1]) جو اپنے آپ کو بے نشان رکھتا ہے ، اپنا نام نہىں چاہتا، شُہرت کا طالِب نہىں ہوتا ، حُبِّ جاہ سے بچتا ہے اور وہ اپنے اس عمل میں مخلص بھی ہوتا ہے تو اللہ پاک اسے مشہور کر دىتا ہے اور لوگوں کے دِلوں مىں اس کى عزَّت ڈال دىتا ہے ۔ اعلىٰ حضرت عَلَیْہِ رَحْمَۃُرَبِّ الْعِزَّت کے اىک کلام کا مَقطع بھى ہے :
رضا جو دِل کو بنانا تھا جَلوہ گاہِ حبىب
تو پىارے قىدِ خودى سے رِہىدہ ہونا تھا (حدائقِ بخشش)
ىعنی اپنے آپ کو کچھ سمجھنے سے خود کو آزاد کرنا ہو گا کہ مىں کچھ بھى نہىں ہوں، جو اپنے آپ کو کچھ نہ سمجھے تو وہ بہت کچھ بن جاتا ہے اور جو اپنے آپ کو کچھ سمجھتا ہے وہ کچھ بھى نہىں رہتا ۔
بعض لو گوں میں اَنانیت بہت ہوتی ہے ، بات بات پر کہتے ہیں مىں نے ىہ کىا، مىں نے وہ کىا ، انہیں سمجھ لىنا چاہىے کہ بکرى ”مىں مىں“ کرتى ہے او ر بلآخر چھرى کے نىچے آجاتى ہے ۔ اس لىے ”مىں مىں“ نہىں کرنی چاہىے ۔ تعرىف وہ اچھى ہوتى ہے کہ لوگ کسى کى تعرىف کرىں ۔ اپنے مُنہ مىاں مٹھو بننا اور اپنى تعرىف کے پُل باندھنا لوگوں کو بَدظن کرتا ہے اورلوگ کہتے ہیں کہ اسے جب دىکھو اپنى واہ وا ہی کرتا رہتا ہے ۔
مِٹا دے اپنى ہستى کو اگر کچھ مَرتبہ چاہے
کہ دانہ خاک مىں مِل کر گُلِ گلزار ہوتا ہے
کیا کمزور دُبلے پتلے بچے بھی بھوک سے کم کھانا کھائیں؟
سُوال: بھوک سے کم کھانا سُنَّتِ مُبارَکہ ہے لىکن جو کمزور دُبلے پتلے بچے ہوتے ہىں انہیں والدین کہتے ہىں کہ تم زىادہ کھانا کھاىا کرو تو کىا وہ پىٹ بھر کر کھا سکتے ہیں ىا نہىں؟
جواب: پىارے آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کى مُبارَک سُنَّت تو ىہ ہے کہ دِن مىں اىک
بار کھانا تناول فرماتے ۔ اب تو فوڈ کلچر کا دور ہے ، ہر وقت لوگ جانوروں کی طرح کھاتے رہتے ہىں، گویا اِنسانوں اور جانوروں کے کھانے کا مقابلہ ہے کہ دونوں میں کون زىادہ کھاتا ہے ۔ بَہرحال اگر کوئى پىٹ بھر کر کھاتا ہے تو وہ گناہگار نہىں ہے ۔ ہاں اتنا کھا لیا کہ ظَنِّ غالِب ہے کہ اب مَزىد کھاؤں گا تو پىٹ خَراب ہو جائے گا اور بىمار ہو جاؤں گا تو ىہ جو مزىد کھا رہا ہے ىہ حرام ہے ۔ ([2]) اگر کسى کمزور شخص کے لیے سحرى میں کم کھانے کی وجہ سے دِن میں روزہ رکھنا مشکل ہو جاتا ہے ، اس لىے وہ پىٹ بھر کر کھاتاہے تا کہ روزہ پورا کر سکے تو اس کا یہ پىٹ بھر کر کھانا بھی کارِ ثواب ہے ۔ اِسی طرح محنت مزدورى کے کئی اىسے کام ہوتے ہىں کہ اگر بندہ کم کھائے گا تو وہ کام کر نہىں پائے گا تو بھلے پیٹ بھر کر کھا لے مگر اتنا نہ کھائے کہ بىمار پڑ جائے ۔ حدىثِ پاک مىں ہے : بھوک کے تین حصّے کر لیے جائیں ایک حِصّہ غِذا، ایک حِصّہ پانی اور ایک حِصّہ سانس کے لیے ۔ ([3]) اگر کوئی اِس پر کاربند ہو جائے تو اِنْ شَآءَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نہ تو وہ کمزور ہو گا اور نہ ہی بىمار پڑے گا ۔ کم کھانے کی عادت بنانے کے لیے تھوڑا تھوڑا کھانا کم کیا جائے ، اگر کوئی ایک دَم کھاناکم کر دے گا تو اسے کمزوری محسوس ہو گی ۔
رہی بات کمزور دُبلے پتلے بچوں کی کہ انہیں والدین کہتے ہىں کہ تم زىادہ کھانا کھاىا کرو تو انہیں ماں باپ کی اِطاعت کرتے ہوئے کھا لینا چاہیے ۔ وىسے بھى مىٹھا مىٹھا ہَپ ہَپ ہوتا ہے ۔ جو بچے ماں باپ کی اور کوئى بات نہىں مانتے تو کم ازکم یہ بات ماننے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں کہ اَمّى کہتى ہے بىٹا کھا لو لہٰذا اور کھا لیتا ہوں
[1] حدیثِ پاک میں ہے : اگر تم میں سے کوئی شخص ایسی سخت چٹان میں کوئی عمل کرے جس کا نہ تو کوئی دَروازہ ہو اور نہ ہی روشندان، تب بھی اس کا عمل ظاہر ہو جائے گا اور جو ہوناہے وہ ہو کر رہے گا ۔ (مسندِ امام احمد ، مسند ابی سعید خدری ، ۴ / ۵۷، حدیث: ۱۱۲۳۰ دار الفکر بیروت )اِس حدیثِ پاک کے تحت حکیم الامت حضرتِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں: اِس فرمانِ عالی کا مقصد یہ ہے کہ تم رِیا کرکے اپنے ثواب کیوں بَرباد کرتے ہو؟ تم اِخلاص سے نیکیاں کرو خُفیہ کرو اللہ تعالیٰ تمہاری نیکیاں خود بخود لوگوں کو بتادے گا، لوگوں کے دِل تمہیں نیک ماننے لگیں گے ، یہ نہایت ہی مُجَرَّب ہے ۔ بعض لوگ خُفیہ تہجد پڑھتے ہیں لوگ خواہ مخواہ انہیں تہجد خواں کہنے لگتے ہیں، تہجد بلکہ ہر نیکی کا نُور چہرے پر نَمُودار ہوجاتا ہے جس کا دِن رات مُشاہَدہ ہو رہا ہے ۔ لوگ حضور غوثِ پاک، خواجہ اجمیری(رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہِمَا)کو وَلی کہتے ہیں کیونکہ ربّ تعالیٰ کہلوا رہا ہے یہ ہے اِس فرمانِ عالی کا ظہور ۔ (مِراٰۃُ المناجیح ، ۷ / ۱۴۵)
[2] بہارِ شریعت، ۳ / ۳۷۴، حصّہ ۱۶ مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی
[3] شُعَبُ الایمان، باب فی المطاعم والمشارب...الخ، الفصل الثانی فی ذم كثرة الاكل، ۵ / ۲۸، حدیث: ۵۶۵۰ دارالکتب العلمیة بیروت
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع