30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سُوال: وُضو کرنے کے بعد نماز نہ پڑھنى ہو تو کیا پھر بھى وُضو مىں مِسواک کرنا مستحب ہے ؟
جواب: مِسواک وُضو کى سُنَّتِ قَبلىہ ہے ، ىعنى جب بھى وُضو کرنا ہو تو اس سے پہلے مِسواک کى جائے گی ۔ ([1])چاہے اس وُضو سے نماز پڑھیں یا نہ پڑھیں ۔
سُوال: گىارھوىں شرىف کا ختم دِلانا جائز ہے ىا نہىں؟ (اوکاڑہ پنجاب سے سُوال)
جواب: گىارھوىں شرىف کا ختم بالکل جائز ہے ۔ ىہ اِىصالِ ثواب کى ہی اىک صورت ہے ۔ حضورِ غوثِ پاک عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الرَّزَّاق کو اِیصالِ ثواب کریں تو اسے گىارھوىں شرىف، خواجہ غرىب نواز رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کو اِیصالِ ثواب کریں تو اسے چھٹى شرىف اور مىرے آقا اعلىٰ حضرت، امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن کو اِیصالِ ثواب کریں تو اسے پچیسویں شرىف کہہ دیتے ہیں ۔ ابھی سو سالہ عرسِ اعلىٰ حضرت کی بھی آمد آمد ہے ، اِنْ شَآءَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ دعوتِ سلامى بھى دھوم دھام سے صد سالہ عرسِ اعلیٰ حضرت مَنائے گى ۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ اس کى تىارىاں ابھى سے جارى ہیں ۔ بارھوىں شرىف بھی کَرم فرما ہو گى تو وہ بھی دھوم دھام سے مَنائیں گے ۔ گیارھویں شریف، بارھویں شریف ىہ سب اِىصالِ ثواب ہی کى صورتىں ہىں انہیں مَنانے مىں کوئى حَرج نہىں بلکہ ثواب ہی ثواب ہے ۔
سُوال: بے نمازىوں کے لىے کىا کیا وعىدىں ہىں اِرشاد فرمادىجیے ۔
جواب: بے نمازی کی سب سے بڑى بدنصىبى ىہ ہے کہ وہ اللہ و رسول عَزَّ وَجَلَّو صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا نافرمان ہے ۔ اللہ پاک نے قرآنِ کرىم مىں جگہ جگہ نماز کا حکم فرماىا ہے لىکن ىہ اس حکم کو عملى جامہ نہىں پہنا رہا ۔ اسى طرح پىارے آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے بھى بے شمار مَواقع پر نماز کا حکم دىا ہے لىکن ىہ اس حکم کو عملى طور پر نہىں اپنا رہا، تو ىہ اس کى بدبختى اور بدنصىبى ہے ۔ جو جان بوجھ کر اىک نماز ترک کرے گا تو اس کے لىے جہنم کا مخصوص دروازہ ہے جس سے وہ جہنم مىں داخِل کىا جائے گا ۔ ([2])اعلىٰ حضرت عَلَیْہِ رَحْمَۃُرَبِّ الْعِزَّت فرماتے ہىں: جو نماز قضا کرتا ہے تو وہ ہزاروں سال جہنم کے عذاب کا حقدار ہے ۔ ([3]) بہرحال مسلمان کو ہر حال مىں نماز قائم رکھنى چاہیے ، بے نمازى اِنسان کس کام کا؟ بچوں بلکہ گھر کے تمام اَفراد کو نماز کى تلقىن کرتے رہنا چاہیے ۔ اگر وہ نہىں بھى پڑھتے جب بھى ہمیں بولنے (یعنی نیکی کی دَعوت دینے ) کا ثواب تو ملے گا، نیز بار بار بولنے اور سمجھانے سے اِنْ شَآءَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نماز کی توفیق بھی مل ہی جائے گی ۔
ہم پہلے بلىک بورڈ اور نمایاں جگہوں پر لکھا ہوا دىکھتے تھے کہ ”نماز قائم کرو “ىہ دىکھ دىکھ کر نماز پڑھنے کا ذہن بنتا کہ نماز بہت اَہم ہے ، اسے تَرک نہیں کرنا چاہیے اور حقىقت بھی یہی ہے کہ نماز بہت اَہم ہے ۔ لہٰذا اب بھی اگر ہم بات بات پر نماز کا تذکرہ کرتے رہىں تو سُننے والوں کو تَرغیب ملتی رہے گی، ىوں وہ نمازى بنىں گے اور اِنْ شَآءَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ مَساجد بھی آباد ہوں گى ۔
گلاب کی پتیوں پر پاؤں رکھنا کیسا؟
سُوال: عموماً لوگ گلاب کی پتیوں پر نہىں چلتے ان کا ىہ خىال ہوتا ہے کہ ان پر پاؤں نہیں رکھنا چاہىے ، آپ اِس بارے مىں کىا اِرشاد فرماتے ہىں؟
جواب: دَراصل بعض اىسى رِواىات ہىں جن میں یہ ذِکر ہے کہ پىارے آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے پسىنۂ مُبارَکہ کا قطرہ زمىن پر تشرىف لایا تو اس سے گلاب کا پھول پیدا ہوا ہے ۔ اکثر مُحَدِّثِینِ کِرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام نے اِن رِوایات کو تسلیم نہیں کیا بلکہ انہیں موضوع (یعنی مَن گھڑت) قرار دیا ہے ۔ چونکہ اِن رِوایات میں پیارے آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے مُبارَک پسینے سے گلاب کے پھول کے پیدا ہونے کا ذِکر ہے ، ا ِس تَصَوُّر کى وجہ سے لوگ ان پر پاؤں رکھنا پسند نہىں کرتے ۔
بہرحال اگر کسى کے پاؤں مىں گلاب کے پھول کی پتیاں آگئیں اور اس نے ان پر پاؤں رکھ دیا تو اس میں کوئى حَرج نہىں ہے ۔ اگر کوئى ان پر پاؤں نہىں رکھتا تب بھی اس مىں حَرج نہىں ہے ۔ پھول کى پتىاں نچھاور کرنے کا عُرف ہے ۔ عُلَمائے کِرام کَثَّرَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام پر بھى ىہ پتیاں نچھاور کى جاتى ہىں، ظاہر ہے جب پتیاں نچھاور کرىں گے تو وہ زمىن پر ہی آئیں گى، جب زمىن پر آئىں گى تو لوگوں کے پاؤں بھى ان پر پڑىں گے لہٰذا ان پر پاؤں رکھنے میں کوئی حَرج نہیں ۔
”مٹتے مٹتے نام ہو ہى جائے گا“ کا مَطلب
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع