30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اچھی اور بُری دُنیا کی پہچان کا طریقہ
سُوال: دُنىا کے مُعاملات کى خَرابى تو ہم سب جانتے ہىں، اب اس دُنىا مىں رہتے ہوئے اس سے کىسے بچىں؟(مَدَنی صحرا ، مانسہرہ، خىبر پختونخواہ سے سُوال )
جواب: بے شک دُنىا اچھى نہىں بلکہ خَراب ہے ۔ اب خَراب دُنیا سے مُراد کون سى دُنىا ہے تو اس کی پہچان کا اىک آسان فارمولا (یعنی قاعدہ کلیہ)ىہ ہے کہ جس دُنىوی معاملے سے آخرت کو نقصان پہنچے تو وہ خراب ہے اور دُنىا کا جو معاملہ آخرت کو فائدہ پہنچائے تو وہ اچھا ہے ، مثلاً ماں باپ بھى دُنىا مىں ہىں لیکن ماں باپ کى اِطاعت و فرمانبردارى کرکے ہم جنَّت حاصِل کر سکتے ہىں تو دُنىا کا ىہ معاملہ اچھا ہے ۔ ىہ وہ دُنىا نہىں جس کی مَذَمَّت بیان کی گئی ہے ۔ اِسى طر ح بال بچوں کى پَرورش کرنا ، رِزقِ حَلال اس لىے حاصِل کرنا کہ خود کو سُوال سے بچائے ، اپنے ماں باپ اور بال بچوں کا پىٹ بھرے ، ان کى خِدمت کرے ، راہِ خُدا مىں خَرچ کرے تو ان اچھی نیتوں سے کمائی کرنا خراب دُنىا والا حصّہ نہىں ۔ بہرحال یہ مَدَنی پھول ذہن مىں رکھىے کہ دُنىا کا جو معاملہ آخرت کو نقصان پہنچائے تو وہ خراب دُنىا ہے اور جو مُعاملہ آخرت کو فائدہ پہنچائے تو وہ اچھی دُنىا ہے ۔
حضرت عیسٰی عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا تعارف اور آمد
سُوال: نُزولِ عىسىٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے بارے مىں کچھ بتا دیجیے ۔
جواب: حضرتِ سَیِّدُنا عیسىٰ رُوْحُ اللہ عَلٰی نَبِیِّنَا وَ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اللہ پاک کے مشہور نبى اور رَسول ہىں ۔ یہ دُنیا میں ہمارے پىارے آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم سے پہلے تشریف لائے ۔ ان کے بعد پھر پىارے آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کى تشرىف آورى ہوئى ۔ حضرتِ سَیِّدُنا عیسىٰ رُوْحُ اللہ عَلٰی نَبِیِّنَا وَ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو زندہ آسمانوں پر اُٹھا لیا گىا، انہىں ابھی وفات پىش نہىں آئى ۔ قُربِ قىامت میں چوتھے آسمان سے زمىن پر تشرىف لائىں گے ۔ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام جس وقت زمىن پر اُتریں گے تو نماز کى جماعت ہو رہى ہو گى ۔ مسلمانوں کے امام ىعنى امام مہدى رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نماز پڑھا رہے ہوں گے ۔ بعد مىں نمازىں حضرتِ سَیِّدُنا عیسىٰ رُوْحُ اللہ عَلٰی نَبِیِّنَا وَ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پڑھاىا کرىں گے ۔ ([1])
حضرتِ سَیِّدُنا عیسىٰ رُوْحُ اللہ عَلٰی نَبِیِّنَا وَ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام صلىب توڑىں گے اور حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کى شرىعت پر عمل کرىں گے ۔ ىعنى انجىلِ مُقَدَّس کى تعلىم اس وقت عام نہىں کرىں گے بلکہ قرآنِ کرىم کى تعلىمات عام فرمائىں گے ۔ آپ عَلٰی نَبِیِّنَا وَ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کى بَرکت سے لوگوں کے دِلوں
سے حَسد، بُغض اور کىنہ وغیرہ ىہ سب چیزیں نکل جائىں گی کىونکہ کسى کے دِل مىں دُنىا کى محبت نہ رہے گى ۔ ہر اىک کو دِىن و اىمان کى لگن لگ جائے گى ۔ چونکہ محبت ِ دُنىا ہی ان سب کى جڑ ہے ، جب جڑ ہى کٹ جائے گی تو شاخىں کىسے رہىں گى ۔ نىز مختلف دِىن(مذہب) نہ رہىں گے ، سب کا دِىن ایک اِسلام ہوگا ۔ غرض کہ نہ دُنىوى جھگڑے رہىں گے ، نہ دِىنى اِختلافات، نہ کسى کو حرصِ مال ہو گى، نہ عِزَّت و جاہ کى خواہش غرض کہ آپ کی بَرکت سے دِلوں کی دُنیا بدل جائے گی ۔ لوگوں کو مال کى نہ ضَرورت رہے گی نہ ہوس، کفاىت اور قناعت دونوں چیزیں مُىَسَّر ہوں گى اس لیے مال لینا منظور نہیں کریں گے کہ انہیں رَغبت نہ ہو گی ۔ ([2])
حضرتِ سَیِّدُنا عیسىٰ رُوْحُ اللہ عَلٰی نَبِیِّنَا وَ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نکاح کرىں گے ، اولاد بھى ہو گى اور پھر 45 سال دُنىا مىں رہ کر وفات پائىں گے ۔ ہمارے پىارے آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم جہاں آرام فرما ہىں اُسی کے ساتھ حضرتِ سَیِّدُنا عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا مزار شریف بنے گا ۔ آج بھی سبز سبز گنبد کے اندر ایک قبر کی جگہ موجود ہے جہاں حضرتِ سَیِّدُنا عیسىٰ رُوْحُ اللہ عَلٰی نَبِیِّنَا وَ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام دَفن کىے جائىں گے ۔ ([3])
سُوال: اگر کوئى زندگی میں ہی اپنی قبر تىار کر لے تو ایسا کرنا کىسا ؟
جواب: اعلىٰ حضرت، امامِ اہلسنَّت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن نے اپنے لیے پہلے سے قبر تیار رکھنے کو بے جا فرمایا ہے ([4])اس لیے کہ عام آدمى کو ىہ پتا نہىں ہوتا کہ کہاں اس کی وفات ہو گی ۔ حضرتِ سَیِّدُنا عىسىٰعَلٰی نَبِیِّنا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا معاملہ الگ ہے ، اس لیے کہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قبرِ اَنور کی جگہ کا تعین خود فرمانِ رسالت مآب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم سے ہوا ہے ۔ ([5]) لہٰذا اس پر عام آدمی کو قیاس نہیں کیا جا سکتا ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع