دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Gheebat ki Tabah kariyan | غیبت کی تباہ کاریاں

naat khwanon ke mabain gheebat ki chand misalain

book_icon
غیبت کی تباہ کاریاں
            

ایک اہم مدنی وصیت

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! میری عمر تادمِ تحریر تقریباً 60برس ہوچکی ہے، موت لمحہ بہ لمحہ قریب آ رہی ہے،نہ جانے کب آنکھ بند ہو جائے ۔ اللّٰہُ رحمٰن عَزَّوَجَلَّ کے دربارِ والا شان میں سلامتیٔ ایمان اور نَزْع و قبرو حشر میں امن و امان ، بے حساب بخشش اور جنَّت الفردوس میں مَدَنی سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے جَوار کا طلبگار ہوں ۔ میں نے اپنی مختصر سی زندگی میں دنیا کے بَہُت نَشِیب وفَراز دیکھے ہیں ، اِخلاص کم اور دِکھاواکثیر،وَفا کم اور خوشامدخَطیر(یعنی زیادہ) ہے، اس سے بڑھ کر بھی کیابے وفائی ہو گی کہ وہ ماں باپ جنہوں نے ہزار اِحسانات کئے ہوتے ہیں مگر اُن کی کوئی ایک معمولی سی بات بھی ناگوار گزرجاتی ہے تو سارے اِحسانات بُھلا کر،ناخَلَف اولاد اُن کو لات مار دیتی ہے!آہ! مکّار و عیّارشیطان نے قُلوب و اَذہان میں بَہُت زیادہ خرابیاں ڈالدی ہیں ۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ دعوتِ اسلامی میں لاکھوں لاکھ مسلمان شامل ہیں جیسا کہ عموماً تنظیموں میں لوگوں کا آنا جانا رہتا ہے اِسی طرح دعوتِ اسلامی سے بھی روٹھ ٹوٹ کر کچھ افرادکو الگ ہوتے پایا ہے ، مَدَنی ماحول سے دُوری کے بعد بعضوں کی بے عملیوں کا سلسلہ بھی سامنے آیا ہے، بعض ناراض اسلامی بھائیوں نے اپنا اپنا جداگانہ ’’گروپ‘‘ بھی بنایاہے، بعضوں نے میرے خلاف بَہُت کچھ کہا، لکھا اور دعوتِ اسلامی کی مرکزی مجلسِ شوریٰ کی بھی جی بھر کرمُخالَفتیں کی ہیں مگر اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ یہ الفاظ لکھنے تک دعوتِ اسلامی برابر ترقّی کی مَنازِل طے کر رہی ہے اور کوئی بھی گروپ بظاہر اب تک دعوتِ اسلامی سے آگے بڑھنا کُجا برابری بھی نہیں کرنے پایا۔میں نے تنظیمی کاموں میں زندگی کاکافی حصّہ گزارا ہے، لہٰذا اپنے تجرِبات کی روشنی میں تمام اسلامی بھائیوں اور اسلامی بہنوں کی خدمتوں میں محض آخِرت کی بھلائی کے پیشِ نظر ہاتھ جوڑ کر مَدَنی وصیَّت کرتا ہوں : میری یہ بات ہمیشہ کیلئے گِرِہ میں باندھ لیجئے کہ میرے جیتے جی بھی اور میرے مرنے کے بعد بھی دعوتِ اسلامی میں ایک بار شُمولیَّت کر لینے کے بعددعوتِ اسلامی کا تَشَخُّص (مَثَلاً سبزعمامہ شریف وغیرہ)رکھتے ہوئے طریقۂ کار سے ہٹ کر ہرگز کسی قسم کا ’’ مُتَوازی گروپ ‘‘ مت بنایئے گا، دین کے کام کے حوالے سے بھی اگرآپ نے اپنا کوئی الگ سلسلہ شروع کیاتو غیبتوں ، تہمتوں ، بدگمانیوں ، دل آزاریوں آپس کی دشمنیوں ، باہمی نفرتوں وغیرہ وغیرہ سے خود کو بچانا قریب قریب ناممکن ہو جائے گابلکہ ہو سکتا ہے کہ بے شمار مسلمان اِ س طرح کی آفتوں کی لپیٹ میں آ جائیں ۔ اگر کوئی یہ سمجھے کہ دعوتِ اسلامی سے جدا ہونے کے بعد الگ گروپ بنا کر میں نے تو فُلاں فُلاں دین کا بَہُت بھاری کام سرانجام دیا ہے، تو میں اُس کی توجُّہ اِس طرف دلانا چاہوں گا کہ وہ یہ بھی غو ر کر لے کہ جُدا ہونے کے باعِث کہیں غیبتوں وغیرہ گناہوں کی نُحوستوں میں تو نہیں پھنسا تھا؟ اگر نہیں پھنسا تھا تو صد کروڑ مبارک! اوراگر پھنسا تھا تو پھر ضمیر ہی سے پوچھ لے کہ میرے فُلاں فُلاں مُستَحَب دینی کاموں کا وَزن زیادہ یا اِن دینی کاموں کے ضِمن میں جن غیبتوں وغیرہ حرام چیزوں کاصُدور ہوا ان کا وَزن زائد؟اگر دل خوفِ خدا عَزَّوَجَلَّ کا حامِل ہوا، علمِ دین کا فیضان رہا اور ضمیر زندہ پایا تو یہی جواب ملیگا کہ یقینا زندگی بھر کے مُستَحَب کاموں کے مقابلے میں صِرف ایک بار کی ہوئی گناہ بھری غیبت ہی زیادہ وَزنی ہے کہ مُستَحَب کام نہ کرنے پر عذاب کی کوئی وعید نہیں جبکہ غیبت پر عذاب کا اِستحقاق ہے ۔معلوم ہوا ایک بار دعوتِ اسلامی میں شامل ہو جانے کے بعد نکلنے یا نکالے جانے پر جُدا گانہ گروپ بنا نے میں مِن حَیثُ الْمَجْمُوع ( یعنی مجموعی حیثیت سے) نقصان ہی کا پہلو غالِب ہے۔

فتاوی رضویہ کے اہم اقتسابات

اگر سچ پوچھئے تو ایسادینی کام جس سے مسلمانوں میں نفرت کی کیفیت جنَم لینے لگے اوراس کاکرنا فرض،واجِب یاسُنَّتِ مُؤَکَّدہ نہ ہو تو اُس کام کو ترک کرناہی مناسب ہے اگر چِہ افضل ومُستَحب ہو۔٭ چُنانچِہ ا یک مقام پر میرے آقا اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ مسلمانوں کے اتّحاد کی اَھمِیَّت کو اُجاگر کرنے کیلئے نقل فرماتے ہیں : ’’لوگوں کی تالیفِ قلبی ( یعنی دلجوئی ) اور ان کو مُجتَمع ( مُتَّحِد) رکھنے کے لئے اَفضل کو ترک کرنا انسان کے لئے جائز ہے تا کہ لوگوں کو نفرت نہ ہو جائے جیسا کہ نبیِّ کریم، رء ُوفٌ رَّحیم علیہ اَفْضَلُ الصَّلٰوۃِوَ التَّسلیم نے بیتُ اللہ شریف کی عمارت کو اس لئے اہلِ قریش کی بنیادو ں پر قا ئم رکھا تا کہ جو لوگ نئے نئے اسلام لائے وہ کسی غلط فہمی میں مبتلا نہ ہو جائیں ۔(فتاوٰی رضویہ مُخَرَّجہ ج ۷ ص ۶۸۰ مُلَخَّصاً )٭تَنفیرِ مسلمین (یعنی مسلمانوں کو نفرت میں مبتلا کرنے)سے بچنے کیلئے ضَرورتاً مُستحَب کو ترک کر دینے کا حکم ہے۔ جیسا کہ میرے آقااعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ مسلمانوں کے درمیان پیار و مَحَبَّت کی فَضا قائم رکھنے کا ایک مَدَنی اُصول بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں : اِتیانِ مُستَحب و ترکِ غیرِ اَولیٰ پر مُداراتِ خلق و مُراعاتِ قُلوب کو اہم جانے اور فتنہ و نفرت و ایذاو وحشت کا باعِث ہونے سے بَہُت بچے ۔(فتاوٰی رضویہ مُخَرَّجہ ج۴ ص۵۲۸)٭ میرے آقا اعلیٰ حضر ت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ شریعتِ مطہرہ کا قاعدہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں : دَرْءالْمَفَاسِدِ اَہَمُّ مِنْ جَلْبِ الْمَصَالِحِ یعنی خرابیوں کے اسباب دور کرنا خوبیوں کے اسباب حاصل کرنے سے اَہَمّ ہے۔ ( فتاوٰی رضویہ مُخَرَّجہ ج ۹ ص۵۵۱) صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

جس نے تشخص تبدیل کرلیا!

رہے وہ حضرات جودعوتِ اسلامی کا تَشَخُّص تَرک کرچُکے اور بِلااجازتِ شرعی دعوتِ اسلامی کی کسی قسم کی مخالَفَت بھی نہیں کرتے اورغیبتوں ، تہمتوں اور بَدگُمانیوں وغیرہ میں پڑے بغیر اپنی ترکیب سے دینی خدمات انجام دے رہے ہیں ، اللہ تعالیٰ اُن کی کاوِشوں کوقَبول فرمائے۔مگر وہ جو تشخُّص تبدیل کر کے الگ گروپ بنا نے کے بعد بلااجازتِ شرعی دعوتِ اسلامی کی مُخالَفَت کرکے نیکی کی دعوت عام کرنے والی اس مَدَنی تحریک کو کمزور کرنے کی مذموم کوششوں میں مصروف ہوں ،اِس مقصد کے لئے غیبتوں ،تہمتوں ،بہتان تراشیوں ، بدگمانیوں ، عیب دَریوں ، بُرے چَرچوں ،اِلزام تراشیوں اور چُغلیوں کو اپنا ہتھیار بنالیں اور اسے اپنے زُعمِ فاسِد میں دین کی بہت بڑی خدمت تصوُّر کریں ،ایسوں کو سنبھل جانا چاہئے کہ یہ دین کی خدمت نہیں ، انتہائی دَرَجے کی مذموم حَرَکت ہے بلکہ شرعاً اِن ناجائز کاموں کا اِرتکاب کر کے اپنے نامۂ اعمال کو گناہوں سے پُر کرنا ہے۔ یُونہی جو تشخُّص برقرار رکھتے ہوئے بھی بِلااِجازتِ شرعی دعوتِ اسلامی کی مُخالَفَت کرے گا اور لوگوں کو مُتَنَفّر کرکے(یعنی نفرت دِلا کر) دعوت اسلامی اور اس کے طریقۂ کار کو نقصان پہنچانا اُس کا مقصد ہوگا وہ بھی فعلِ ناجائز کا مُرتکِب ٹھہرے گا ۔

برا چرچا کرنا حرام ہے

دیکھا یہ گیا ہے کہ جب کوئی شخص کسی کی مخالفت پر اُتر آتا ہے تو خواہ مخواہ اُس پر تنقیدیں کرتا ،بال کی کھال اُتارتا اور اس کی خامیوں یا خطاؤں کا بُرا چرچا کرتا پھرتا ہے (مگر جسے اللہ عَزَّوَجَلَّ بچائے)۔جب ان کی آپس میں بنتی تھی تو اِسے گویااُس کے پسینے میں سے بھی خوشبو آتی تھی اب ناراضی کے بعد اُس کا عِطر بھی بدبودار لگتا ہے ۔ یادرکھئے ! کسی مبلِّغ بالخصوص سُنّی عالِم کی کسی خامی یا خطا کو بلا مَصلَحتِ شرعی کسی پر ظاہر کرنا یالوگوں میں اس کا بُرا چرچا کرنا نیکی کی دعوت اور اسلام کی تبلیغ کے کام کے مُعامَلے میں بَہُت، بَہُت اور بَہُت نقصان دہ اور آخِرت میں باعثِ عذاب ہے ، میرے آقا اعلیٰ حضرت،اِمامِ اَہلسنّت،مولیٰناشاہ امام اَحمد رضا خان علیہ رحمۃُ الرَّحمٰن فتاوٰی رضویہ جلد 29 صَفْحَہ 594 پر فرماتے ہیں :اور اہلسنّت سے بتقدیرِ الہٰی جو ایسی لَغزِش ِ فاحِش واقِع ہو اس کا اِخفاء(یعنی چھپانا) واجِب ہے کہ معاذَ اﷲ لوگ اُن سے بَداِعتِقاد ہوں گے تو جو نفع اُن کی تقریر اور تحریر سے اسلام و سنّت کو پہنچتا تھا اس میں خَلَل واقع ہوگا۔ اس کی اِشاعت، اِشاعت ِ فاحِشہ (یعنی بُرا چرچا کرنا)ہے۔ اور اِشاعتِ فاحِشہ بنَصِّ قراٰن عظیم حرام، قالَ اللّٰہُ تعالٰی :(یعنی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے) اِنَّ الَّذِیْنَ یُحِبُّوْنَ اَنْ تَشِیْعَ الْفَاحِشَةُ فِی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌۙ-فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِؕ- ترجَمۂ کنزالایمان : وہ لوگ جو چاہتے ہیں کہ مسلمانوں میں بُرا چرچا پھیلے ان کے لئے دردناک عذاب ہے دنیا اور آخرت میں۔ ( فتاوٰی رضویہ ج ۲۹ ص ۵۹۴)

دعوت اسلامی سے بچھڑنے والوں کےلئے اتمام حجت

جو آج تک مجھ سے ناراض ہو کر یا مرکزی مجلسِ شوریٰ سے روٹھ کر جُدا ہو گئے ، ان میں سے جن جن کی میری وجہ سے دل آزاری یا کسی قسم کی حق تلفی ہوئی ہو اُن سے ہاتھ جوڑ کرمُعافی کاطلبگار ہوں ،دونوں غلامزادے اور نگران واراکینِ شوریٰ بھی مُعافی مانگ رہے ہیں ،مجھے اور انہیں خدا و مصطَفٰے عَزَّوَجَلَّ و صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے لئے مُعاف مُعاف اور مُعاف فرما دیں ۔ہم سب نے بھی رضائے خدا و مصطَفٰے عَزَّوَجَلَّ و صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے لئے ان سب کو جنہوں نے حق تلفیاں کی ہوں اُن کو مُعاف کیا۔ناراض ہو کریا اختلاف کر کے جنہوں نے اپنی اپنی تنظیمیں قائم کیں ، جُداگانہ گروپ بنائے ان سبھی کوکُھلے دل سے دعوت دیتا ہوں کہ اللہ و رسول عَزَّوَجَلَّ و صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا واسِطہ صُلح فرما لیں ، محض رِضائے الہٰی عَزَّوَجَلَّ کی خاطِر، میں ہر ناراض مسلمان سے غیر مشروط طور پر بھی صُلح کیلئے تیار ہوں ۔ ہاں جو تنظیمی اِختِلافات کو مُذاکرات کے ذَرِیعے حل کر کے صُلْحکرنا چاہتے ہیں اُن کیلئے بھی دروازے کُھلے ہیں ، جلدی رابِطہ کیجئے اور مرکزی مجلسِ شوریٰ کے ساتھ بیٹھ جایئے ۔اگر آپ حکم فرمائیں گے توممکنہ صورت میں اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ شوریٰ کے ساتھ ساتھ میں بھی بیٹھ جاؤں گا ۔ آیئے ، آجایئے، اللہ رَبُّ الْعِزَّت عَزَّوَجَلَّ کی رحمت اور تاجدار ِرسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی نگاہِ عنایت سے متّحد ہو کر شیطان کے ہتھکنڈوں کوناکام بنا تے ہیں ، اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ مِل جُل کر دین کا خوب مَدَنی کام کریں گے۔

اگر آپ دعوتِ اسلامی کے ساتھ کام کرنا نہیں چاہتےتو۔۔۔

اگر کوئی ناراض اسلامی بھائی دعوتِ اسلامی کے ساتھ ملکر مَدَنی کام نہیں کر نا چاہتا تو کم ازکم ناراضیاں ہی دُور کر کے ہمیں مُعافی سے نواز دے اور اس پر ہمیں مُطلَّع کر کے مسلمان کا دل خوش کرنے کے ثواب کا حقدار بنے کہ اس طرح اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ نفرتیں مٹیں گی، فاصلے سِمٹیں گے اور شیطان مردود کامنہ کالااور مُعاف کرنے والے کا منہ اُجْیالا ہو گا۔ایک بار پھر اس حدیثِ پاک کا واسِطہ دیکر ہم مُعافی مانگتے ہیں جس میں ہمارے مکّی مَدَنی آقامیٹھے میٹھے مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ہے:’’ جو کوئی اپنے مسلمان بھائی سے معذرت کرے اور وہ (بِلا اجازت شرعی) اس کا عذر قبول نہ کرے تو اُسے حوضِ کوثر پر حاضِرہونا نصیب نہ ہو گا۔‘‘ ( اَلْمُعْجَمُ الْاَ وْسَط ج ۴ ص ۳۷۶ حدیث ۶۲۹۵) یاد رکھئے ! اِس طرح کی بات کرنا ہر گز مناسِب نہیں کہ الیاس کو ہمارے پاس خود آنا چاہئے اگر خود نہیں آسکتا تو نگرانِ شوریٰ یا کسی رکنِ شوریٰ ہی کو ہمارے پاس یاہمارے فُلاں ’’ بڑے ‘‘ کے پاس بھیج دے۔اِس طرح کی باتیں کرنے والے کے بارے میں یہ وَسوسے آسکتے ہیں کہ یہ صُلح کرنانہیں چاہتے اِس لئے ٹالَم ٹَول سے کام لے رہے ہیں ، جب ہم نے تحریر کی صورت میں پہل کر ہی دی ہے تو مُخلِصین کے لئے رُکاوٹ کس چیز کی ہے! ہرناراض اسلامی بھائی کوچاہئے کہ رِضائے الہٰی عَزَّوَجَلَّ کی خاطر آگے بڑھے اور گلے لگ جائے ۔ اگر آ کر ملنا نہیں چاہتا تو کسی بھی رُکنِ شوریٰ سے کم از کم فون ہی پر رابِطہ کر لے۔ ع اللہ کرے دل میں اُتر جائے میری بات صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

یا اللہ عَزَّوَجَلَّ تو گواہ رہنا

یاربِّ مصطَفٰے عَزَّوَجَلَّ و صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ! تو گواہ رہنا میں نے اپنے بچھڑے ہوئے اسلامی بھائیوں کیلئیصُلح کا پیغام مُشتہَر کر دیاہے۔ اے میرے پیارے پیارے اللہ عَزَّوَجَلَّ ! میرے ناراض اسلامی بھائیوں کے دلوں میں مجھ مسکین کے لئے رحم ڈال دے کہ وہ مجھے مُعافی کی بھیک دیکر مجھ سے صلح کر لیں ، یااللّٰہعَزَّوَجَلَّ ! تو میرے دل کے حال سے باخبر ہے کہ اس صلح کی درخواست میں میرا اصل مقصدصرف صِرف اورصرف اُخروی مفاد ہے، میں مرنے سے پہلے پہلے فَقَط تیری رِضا کیلئے ہر ناراض مسلمان سے صلح کرنا اور اپنے روٹھے ہوئے اسلامی بھائیوں کو منا لینا چاہتا ہوں ۔ یااللّٰہعَزَّوَجَلَّ !میں تیری خُفیہ تدبیر سے بَہُت ڈرتا ہوں ،اے میرے پیارے پروردگار عَزَّوَجَلَّ ! تو کبھی بھی مجھ سے ناراض نہ ہونا، میرے پاک پروردگار عَزَّوَجَلَّ ! میراایمان ایک لمحے کے کروڑویں حصّے کیلئے بھی کبھی مجھ سے جدا نہ ہو، یااللّٰہعَزَّوَجَلَّ !میری اورمیرے روٹھے ہوئے تمام اسلامی بھائیوں سَمیت ہر دعوتِ اسلامی والے اور والی کی بے حساب بخشش فرما۔ یااللّٰہعَزَّوَجَلَّ ! اپنے پیارے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے صدقے ساری امّت کی مغفِرت فرما۔ یااللّٰہعَزَّوَجَلَّ ! ہماری صفوں میں اِتّحاد پیدا فرما۔ یااللّٰہعَزَّوَجَلَّ ! ہمیں ذہنی ہم آہنگی نصیب فرما ، یااللّٰہعَزَّوَجَلَّ ! ہمیں بِلاطلبِ منصب ایک ساتھ مل کر اِخلاص کے ساتھ تیرے دین کی خدمت کی سعادت عنایت فرما۔ اٰمین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سنّتیں عام کریں دین کا ہم کام کریں نیک ہو جائیں مسلمان مدینے والے صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد تُوبُوااِلیَ اللہ! اَسْتَغْفِرُاللہ صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

غیبت کے خلاف اعلان جنگ

آہ! ’’ غیبت‘‘ نے اُمّت کی اکثریت کو نہایت شدّت کے ساتھ اپنی حِراست میں لیا ہوا ہے، شیطان غیبت کے ذَرِیعے بھر پور طریقے پرلوگوں کو جہنَّم کی طرف دھکیلتا چلا جا رہا ہے۔ ہوش میں آیئے! غیبت کے خلاف اعلانِ جنگ کر کے ایک دم مورچے پر ڈٹ جایئے! جس جس نے اب تک جس قَدَر غیبتیں کی ہوں اُن کی تو بہ اور مُعافی تلافی میں لگ جائے ، عزمِ مُصمَّم کیجئے کہ ’’ نہ غیبت کریں گے نہ سنیں گے‘‘( اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ َّ ) افسوس صد کروڑ افسوس! غیبت ہمارے مَدَنی ماحول کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے لہٰذا دعوتِ اسلامی کے تمام ذمّے دار اسلامی بھائیوں اور اسلامی بہنوں کی خدمتوں میں میری ہاتھ جوڑ کر ’’مَدَنی التجائ‘‘ ہے کہ غیبت کے خلافِ اعلان جنگ کے ضِمْن میں غیبتوں کے دروازوں پر تالے لگاتے چلے جایئے، اب تک جو بھی آپ کی ذمّے داری کے دَوران مَدَنی ماحول سے دُور ہوئے ،ان کے مُعامَلے میں 112بارغور کر لیجئے کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ انہوں نے آپ کی غیبتیں کی ہوں اور آپ کو غصّہ آجانے کی وجہ سے یا خود آپ نے اُن کی غیبتیں کی ہوں اس سبب سے وہ دلبرداشتہ ہو کر گھر جا بیٹھے ہوں ۔اگر ایسا ہے تواچّھی اچّھی نیّتیں کر کے برائے رِضائے ربِّ اکبر عَزَّوَجَلَّ فوراً سے پیشتر مگربُلا کر نہیں ، خودان کے پاس جا کر ہاتھ جوڑ کر پاؤں پکڑ کر اے کاش! رو رو کر مُعافی تلافی کی ترکیب بنا کر انہیں منا کر راضی کر کے گلے لگا لیجئے ۔ بلکہ ہر بچھڑے ہوئے کو تلاش کر کے ان کے پاس بھی خودجا کر ہاتھ باندھ کر، منّت وسماجت کر کے انہیں دوبارہ مَدَنی ماحول میں لے آیئے اور اِنفِرادی کوشِش کے ذَرِیعے ان سبھوں کو پھر سے سنّتوں کی خدمتوں میں مصروف کردیجئے ۔(جن پر تنظیمی ذمّے داری نہیں وہ بھی اسی طرح کریں ،ہاں جن پر تنظیمی پابندی لگی ہوان کومت چھیڑئیے، ان کے بارے میں بڑے ذمّے دار ان جو تنظیمی فیصلہ کریں ان پر عمل کیجئے) اے خاصۂ خاصانِ رُسُل وقتِ دعا ہے اُمّت پہ تری آ کے عجب وقت پڑا ہے چھوٹوں میں اطاعت ہے نہ شفقت ہے بڑوں میں پیاروں میں محبت ہے نہ یاروں میں وفا ہے جو کچھ ہیں وہ سب اپنے ہی ہاتھوں کے ہیں کر تُوت شکوہ ہے زمانے کا نہ قسمت کا گِلہ ہے دیکھے ہیں یہ دن اپنی ہی غفلت کی بدولت سچ ہے کہ بُرے کام کا انجام بُرا ہے ہم نیک ہیں یا بدہیں پھر آخِر ہیں تمہارے نسبت بَہُت اچّھی ہے اگر حال بُرا ہے تدبیر سنبھلنے کی ہمارے نہیں کوئی ہاں ایک دُعا تیری کہ مقبولِ خدا ہے

میں نے الیاس قادری کو معاف کیا

تمام اسلامی بھائیوں اور اسلامی بہنوں سے دست بستہ عاجِزانہ عرض کرتا ہوں کہ اگر میں نے نیز غلامزادوں اور نگران واراکینِ مرکزی مجلسِ شورٰی میں سے جس جس نے آپ میں سے کسی کی غیبت کی ہو،تُہمت دھری ہو،ڈانٹ پلائی ہو، کسی طرح سے دل آزاری کی ہو مجھے اور اُنہیں مُعاف مُعاف اور مُعاف فرما دیجئے۔جان ومال ،اہل وعیال اور عزّت آبرو میں دُنیا کے اندر جو چھوٹے سے چھوٹے اور بڑے سے بڑے حُقوق العباد (یعنی بندوں کے حقوق) تصوُّر کئے جاسکتے ہیں ،فرض کیجئے کہ وہ حُقُوق میں نے،غلامزادوں اور نگران واراکین شوریٰ نے آپ کے تَلَف (یعنی ضائِع)کردیئے ہیں ، ان تمام حُقوق کو ذہن میں رکھتے ہوئے ہمارے سبب سے تلف شدہ حقوق مُعاف مُعاف اور مُعاف فرما کر ثوابِ عظیم کے حقدار بنئے۔ہاتھ باندھ کر مَدَنی اِلتِجاء ہے کہ کم از کم ایک بار دل کی گہرائی کے ساتھ کہدیجئے : ’’ میں نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کیلئے محمد الیاس عطّارؔ قادِری رضوی ،غلامزادوں اور نگران واراکینِ شوریٰ کو مُعاف کیا۔‘‘ہم سب نے بھی ہماری تمام چھوٹی بڑی حق تلفیاں کرنے والوں کو اللہ ورسول عَزَّوَجَلَّ و صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خاطر مُعاف کیا ۔

قرضخواہوں سے مدنی التجا

جس کا مجھ پر قرض آتا ہو یا میں نے کوئی چیز عارِیتاًلی ہو اورواپس نہ لوٹائی ہو تو وہ دعوتِ اسلامی کی مرکزی مجلسِ شوریٰ کے نگران یاغلامزادوں سے رُجوع کرے، اگر وُصول کرنا نہیں چاہتا تو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رضا کیلئے مُعافی کی بھیک سے نواز کر ثوابِ آخِرت کا حقدار بنے۔جو لوگ میرے مقروض ہیں ، اُن کو میں نے اپنے تمام ذاتی قرضے مُعاف کئے ۔یا الہٰی ؎ تُو بے حساب بخش کہ ہیں بے حساب جُرم دیتا ہوں واسِطہ تجھے شاہِ حجاز کا صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد تُوبُوااِلیَ اللہ! اَسْتَغْفِرُاللہ صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

گُونگی بول اُٹھی!

غیبت کرنے سننے کی عادت نکالنے،نمازوں اور سنّتوں کی عادت ڈالنے کیلئے دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے ہر دم وابَستہ رہئے، ہفتہ وار سنتوں بھرے اجتماع میں پابندی سے شرکت فرمایئے، سنّتوں کی تربیت کیلئے مَدَنی قافِلوں میں عاشقانِ رسول کے ساتھ سنّتوں بھرا سفر کیجئے ،کامیاب زندگی گزارنے اور آخِرت سنوارنے کیلئے مَدَنی انعامات کے مطابِق عمل کرکے روزانہ فکرِ مدینہ کے ذَرِیعے رسالہ پُر کیجئے اور ہر مَدَنی ماہ کی 10 تاریخ کے اندر اندر اپنے ذمّے دار کو جمع کروایئے آپ کی ترغیب و تحریص کیلئے ایک مَدَنی بہار پیش کی جاتی ہے۔چُنانچِہ ضِلع خوشاب (پاکستان)کے کسی گاؤں میں ایک اسلامی بہن کی یکایک زَبان بند ہوگئی ،کسی علاج سے فائدہ نہ ہوا،بغرضِ علاج انہیں بابُ المدینہ (کراچی)لایاگیا،یہاں بھی ڈاکٹری علاج کارگر نہ ہوا،ان کی زَبان بندہوئے تقریباً 6ماہ گزرچکے تھے ، ان کو تبلیغِ قراٰن وسنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک ، دعوتِ اسلامی کے عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کے تہ خانے میں ہر اتوار کو دوپہر تقریباً ڈھائی بجے ہونے والے اسلامی بہنوں کے سنّتوں بھرے اجتماع میں حاضِری کی سعادت حاصِل ہوئی۔ وہاں ایک اسلامی بہن نے اِنفِرادی کوشِش کرتے ہوئے مسلسل 12اجتماع کے اندر حاضِری دینے کیلئے ان کو راضی کیا، ترتیب وار شرکت کرتے ہوئے 8 رَمضانُ المبارَک ۱۴۳۰ھ کو ان کا چَھٹا اجتماع تھا ،اس اجتماع کے اختتام پر پڑھے جانے والے صلوٰۃ سلام کے دوران اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ اچانک وہ گونگی اسلامی بہن بول اُٹھی حضرتِ شَبّیر و شَبَّر کے طفیل ٹال ہرآفت اے نانائے حُسین صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد تُوبُوااِلیَ اللہ! اَسْتَغْفِرُاللہ صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط بِسْمِ اللّٰہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ط

’’مجھے دعوت اسلامی سے پیار ہے ‘‘ کے بائیس حُرُوف کی نسبت سے درسِ فیضانِ سُنَّت کے 22 مَدَنی پھول

1۔فرمانِ مصطَفٰی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ : جو شخص میری اُمّت تک کوئی اِسلامی بات پہنچائے تا کہ اُس سے سُنَّت قائم کی جائے یا اُس سے بد مذہبی دُور کی جائے تو وہ جنتَّی ہے۔ ( حِلْیَۃُ الْاولیاء ج ۱۰ ص ۴۵ رقم ۱۴۴۶۶) 2۔سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:’’ اللہ تعالیٰ اسکوتَروتازہ رکھے جو میری حدیث کو سنے ، یاد رکھے اور دوسروں تک پہنچائے ۔‘‘( سُنَنِ تِرمِذی ج ۴ ص ۲۹۸ حدیث ۲۶۶۵ ) 3۔حضرتِ سیِّدُنااِدریس عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کے نام ِمبارَک کی ایک حِکمت یہ بھی ہے کہ کُتُب الہٰیہ کی کثرتِ درس وتدریس کے باعث آپ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کا نام اِدریس ہوا۔ ( تفسیرکبیر ج ۷ ص ۵۵۰ ، تفسیر الحسنات ج ۴ ص ۴۸) 4۔حُضورِغوثِ پاک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ، دَرَسْتُ الْعِلْمَ حتّٰی صِرْتُ قُطْباً (یعنی میں عِلْم کادرْس لیتا رہایہاں تک کے مقامِ قُطْبِیَّت پر فائز ہوگیا) ( قصیدۂ غوثیہ ) 5۔فیضانِ سُنَّتسے دَرْس دینا بھی دعوتِ اسلامی کا ایک مَدَنی کام ہے ۔ گھر، مسجِد ، دُکان، اسکول ،کالج، چوک وغیرہ میں وقت مقرَّر کر کے روزانہ درس کے ذَرِیْعے خوب خوب سُنتوں کے مَدَ نی پھول لُٹائیے اور ڈھیروں ثواب کمائیے۔ 6۔فیضانِ سنَّت سے روزانہ کم از کم دودرس دینے یا سننے کی سعادت حاصِل کیجئے۔ 7۔پارہ 28 سورۃُ التَّحْرِیم کی چھٹی آیت میں ارشاد ہو تا ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ اَهْلِیْكُمْ نَارًا وَّ قُوْدُهَا النَّاسُ وَ الْحِجَارَةُ تَرجَمۂ کنزالایمان :اے ایمان والو ! اپنی جانوں اور اپنے گھر والوں کو اُس آگ سے بچاؤجس کے ایندھن آدَمی اور پتَّھر ہیں ۔ اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو دوزخ کی آگ سے بچانے کا ایک ذَرِیْعہ فیضانِ سُنَّت کا در س بھی ہے۔( درس کے علاوہ سنّتوں بھرے بیان یا مَدَنی مذاکرہ کا روزانہ ایک کیسٹ بھی گھر والوں کو سنایئے) 8۔ذِمَّہ دار گھڑی کا وقت مقرَّر کر کے روزانہ چوک درس کا اہتِمام کریں ۔مَثَلاً رات 9 بجے مدینہ چوک (ساڑھے نوبجے)بغدادی چوک میں وغیرہ۔چُھٹّی والے دن ایک سے زیادہ مقامات پرچوک درس کا اہتِمام کیجئے۔( مگر حُقوقِ عامّہ تَلَف نہ ہوں مَثَلاً مسلمانوں کاراستہ نہ رُکے ورنہ گنہگار ہوں گے) 9۔ دَرس کیلئے وہ نَماز مُنْتَخب کیجئے جس میں زِیادہ سے زِیادہ اسلامی بھائی شریک ہو سکیں ۔ 10۔دَرْس والی نَماز اُسی مسجِد کی پہلی صَف میں تکبیرِ اولیٰ کے ساتھ باجما عَت ادا فرمایئے۔ 11۔مِحراب سے ہٹ کر (صحن وغیرہ میں )کوئی ایسی جگہ درس کیلئے مخصوص کر لیجئے جہاں دیگر نَمازیوں اورتلاوت کر نے والوں کو دُشواری نہ ہو۔ 12۔ذَیلی نگران کو چاہیئے کہ اپنی مسجِد میں دوخیر خواہ مقَرَّر کرے جو درس (بیان ) کے موقع پر جانے والوں کو نرمی سے روکیں اورسب کو قریب قریب بٹھائیں ۔ 13۔ پردے میں پردہ کیے دوزانو بیٹھ کر دَرس دیجئے۔اگر سننے والے زیادہ ہوں تو کھڑے ہو کر یا مائیک پر دینے میں بھی حرج نہیں جبکہ نَمازیوں وغیرہ کو تشویش نہ ہو۔ 14۔ آواز نہ تو زیادہ بُلند ہو اور نہ ہی بالکل آہستہ،حتی الامکان اتنی آواز سے درس دیجئے کہ صِرْف حاضِرین سُن سکیں۔اس بات کی ہمیشہ احتیاط فرمایئے کہ درس وبیان کی آواز سے کسی سوتے ہوئے یا کسی نمازی یا مشغولِ تلاوت وغیرہ کو تکلیف نہ ہو۔ 15۔دَرْس ہمیشہ ٹھہر ٹھہرکراور دھیمے انداز میں دیجئے۔ 16۔ جو کچھ دَرْس دینا ہے پہلے اس کا کم از کم ایک بارمُطالَعَہ کرلیجئے تا کہ غلَطیاں نہ ہوں ۔ 17۔فیضانِ سنّت کے مُعَرَّب الفاظ اِعراب کے مطابِق ہی ادا کیجئے اس طرح اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّتَلَفُّظ کی دُرُست ادائیگی کی عادت بنے گی۔ 18۔ حمدو صلوٰۃ، دُرُود و سلام کے دونوں صیغے، آیَتِ دُرُوداور اِختتامی آیات وغیرہ کسی سُنّی عالم یا قاری کوضَرور سنادیجئے۔ اِسی طرح عَرَبی دُعائیں وغیرہ جب تک عُلَمائے اہلسنّت کو نہ سنا لیں اکیلے میں بھی نہ پڑھا کریں ۔ 19۔ فیضانِ سُنّت کے علاوہ مکتبۃُ المدینہ سے شائع ہونے والے مَدَنی رسائل سے بھی دَرْس دے سکتے ہیں ۔ (1) ؎ 20۔ دَرس مع اِختتامی دعاء سات مِنَٹ کے اندر اندر مکمَّل کر لیجئے۔ 21۔ ہر مبلّغ کو چاہیے کہ وہ دَرس کا طریقہ، بعدکی ترغیب اور اختِتامی دعا زَبانی یاد کر لے۔ 22۔ دَرسکے طریقہ میں اسلامی بہنیں حسبِ ضَرورت ترمیم کرلیں ۔

فیضانِ سنّت سے دَرْس دینے کا طریقہ

تین بارا س طرح اعلان فرمایئے:قریب قریب تشریف لائیے ۔پردے میں پردہ کئے دو زانو بیٹھ کر اس طرح ابتِدا ء کیجئے : اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط اس کے بعد اِس طرح دُرودو سلام پڑھایئے: اَلصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامُ عَلَیْكَ یَا رَسُولَ اللہ وَعَلٰی اٰلِكَ وَ اَصْحٰبِكَ یَا حَبِیْبَ اللہ اَلصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامُ عَلَیْكَ یَا نَبِیَّ اللہ وَعَلٰی اٰلِكَ وَ اَصْحٰبِكَ یَا نُوْرَ اللہ اگر مسجِد میں ہیں تو اسطرح اعتکا ف کی نیّت کروایئے۔ نَوَیْتُ سُنَّتَ الاعْتِکَاف (ترجَمہ: میں نے سنّتِ اعتکاف کی نیت کی ) پھر اسطرح کہئے ! میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! قریب قریب آ کر درس کی تَعظِیم کی نیّت سے ہو سکے تو دوزانو بیٹھ جائیے اگر تھک جائیں تو جس طرح آپ کو آسانی ہو اُسی طرح بیٹھ کر نگاہیں نیچی کیے توجُّہ کے ساتھ فیضانِ سُنَّت کا دَرس سنئے کہ لاپرواھی کیساتھ اِدھر اُدھر دیکھتے ہوئے، زمین پر اُنگلی سے کھیلتے ہوئے ،لباس بدن یا بالوں وغیرہ کوسَہْلاتے ہوئے سُننے سے اسکی بَرَکتیں زائل ہو نیکا اندیشہ ہے۔ ( بیان کے آغازمیں بھی اِسی انداز میں ترغیب دِلایئے)یہ کہنے کے بعد فیضانِ سنَّت سے دیکھ کر دُرُود شریف کی ایک فضیلت بیان کیجئے ۔ پھر کہئے: صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد جو کچھ لکھا ہوا ہے وُہی پڑھ کر سنایئے۔آیات و عَرَبی عبارات کا صِرْف ترجَمہ پڑھئے۔ کسی بھی آیت یا حدیث کا اپنی رائے سے ہر گزخُلاصہ مت کیجئے۔

دَرْس کے آخِر میں اِس طرح ترغیب دلایئے

(ہر مُبلّغ کو چاہیے کہ زَبانی یاد کر لے اور درس و بیان کے آخر میں بِلا کمی و بیشی اِسی طرح ترغیب دلایا کرے) اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ تبلیغ قراٰن و سنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کے مہکے مہکے مَدَنی ماحول میں بکثرت سنتیں سیکھی اور سکھائی جاتی ہیں ۔( اپنے یہاں کے ہفتہ وار اجتِماع کا اعلان اس طرح کیجئے مثلاً بابُ المدینہ کراچی والے کہیں )ہر جُمعرات کو فیضانِ مدینہ مَحَلّہ سوداگران پُرانی سبزی منڈی میں مغرِب کی نَماز کے بعد ہونے والے سنتوں بھرے اجتِماع میں ساری رات گزارنے کی مَدَنی التجاء ہے۔ عاشِقانِ رسول کے مَدَنی قافِلوں میں سنتوں کی تربیّت کیلئے سفر اور روزانہ فکرِ مدینہ کے ذَرِیْعے مَدَ نی اِنعامات کا رسالہ پُر کر کے ہرمَدَنی ماہ کے ابتِدائی دس دن کے اندر اندر اپنے یہاں کے ذ مّہ دار کو جَمع کروانے کا معمول بنا لیجئے ۔ اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ اِس کی بَرَکت سے پابندِ سنّت بننے ، گناہوں سے نفرت کرنے اور ایمان کی حفاظتکیلئے کُڑھنے کا ذِہن بنے گا۔ ہر اسلامی بھائی اپنا یہ مَدَنی ذِہن بنا ئے کہ مجھے اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اِصلاح کی کوشِش کرنی ہے۔ اِنْ شَآءَاللہ عَزَّوَجَلَّ اپنی اِصلا ح کی کوشِش کیلئے مَدَنی اِنعامات پر عمل اور ساری دنیا کے لوگوں کی اِصلاح کی کوشِش کیلئے(2) مَدَنی قافِلوں میں سفر کرنا ہے۔ اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ اللہ کرم ایسا کرے تجھ پہ جہاں میں اے دعوتِ اسلامی تری دھوم مچی ہو آخِر میں خشوع وخُضُوع (یعنی بدن کی عاجِزی و انکساری اور دل ودماغ کی حاضری) کے ساتھ دُعا میں ہاتھ اُٹھانے کے آداب بجالاتے ہوئے بلا کمی و بیشی اس طرح دعا مانگئے: اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْن o وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْن ۔ یاربِّ مصطَفٰی عَزَّوَجَلَّ و صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ! بطفیل مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہماری ،ہمارے ماں باپ کی اور ساری اُمّت کی مغفِرت فرما۔ یااللّٰہ عَزَّوَجَلَّ! درس کی غلَطیاں اور تمام گناہ مُعاف فرما، عمل کا جذبہ دے، ہمیں پرہیزگار اور ماں باپ کافرما ں بردار بنا۔ یااللّٰہ عَزَّوَجَلَّ !ہمیں اپنا اور اپنے مَدَنی حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا مُخلِص عاشِق بنا۔ ہمیں گناہوں کی بیماریوں سے شِفا عطا فرما۔ یااللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ! ہمیں مَدَنی انعامات پر عمل کرنے، مَدَنی قافِلوں میں سفر کرنے اور اِنفِرادی کوشِش کے ذَرِیعے دوسروں کو بھی مَدَنی کاموں کی ترغیب دلوانے کا جذبہ عطا فرما ۔ یااللّٰہ عَزَّوَجَلَّ !مسلمانوں کوبیماریوں ، قرضداریوں ، بے رُوزگاریوں ، بے اولادیوں ، بے جامقدّمہ بازیوں ، اور طرح طرح کی پریشانیوں سے نَجات عطا فرما۔ یااللّٰہ عَزَّوَجَلَّ !اسلام کا بول بالا کر ا ور دُشمنانِ اسلام کا منہ کالا کر۔ یااللّٰہ عَزَّوَجَلَّ !ہمیں دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول میں استِقامت عطا فرما۔ یااللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ! ہمیں زَیرِگنبدِخَضرا جلوۂ محبوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ میں شہادت ، جنَّتُ الْبقیع میں مدفن اور جنَّتُ الفردوس میں اپنے مدنی حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا پڑوس نصیب فرما۔ یااللّٰہ عَزَّوَجَلَّ !مدینے کی خوشبو دار ٹھنڈی ٹھنڈی ہواؤں کا واسِطہ ہماری جائز دُعائیں قبول فرما۔ جس کسی نے بھی دُعا کے واسِطے یا رب کہا کر دے پوری آرزو ہر بے کس و مجبور کی اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ شعر کے بعد یہ آیت ِدُرُود اور دُعا کی اختتامی آیا ت پڑھئے: اِنَّ اللّٰهَ وَ مَلٰٓىٕكَتَهٗ یُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِیِّؕ-یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْهِ وَ سَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا(۵۶) ( پ ۲۲ الاحزاب :۵۶) سب دُرُودشریف پڑھ لیں پھر پڑھئے: سُبْحٰنَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا یَصِفُوْنَۚ(۱۸۰)وَ سَلٰمٌ عَلَى الْمُرْسَلِیْنَۚ(۱۸۱)وَ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۠(۱۸۲) ( پ ۲۳ اَلصّٰفٰت ) درس کی کمائی پانے کے لیے(کھڑے کھڑے نہیں بلکہ) بیٹھکر خندہ پیشانی کے ساتھ لوگوں سے مُلاقات کیجئے، چند نئے اسلامی بھائیوں کو اپنے قریب بٹھا لیجئے اور انفرادی کوشِش کے ذَرِیعے اُنہیں مَدَنی انعامات اور مَدَنی قافلوں کی بَرَکتیں سمجھایئے۔ تمہیں اے مُبلّغ یہ میری دعا ہے کیے جاؤ طے تم ترقی کا زینہ دعائے عطّاؔر : یا اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ! مجھے اور پابندی کے ساتھ فیضانِ سنَّت سے روزانہ کم از کم دو دَرس ایک گھر میں دوسرا مسجد، چوک یااسکول وغیرہ میں دینے اور سننے والے کی مغفِرت فرما اور ہمیں حُسنِ اَخلاق کا پیکر بنا۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ مجھے درسِ فیضانِ سنّت کی توفیق ملے دن میں دو مرتبہ یاالٰہی

ماخذ ومراجع

نمبرشمار کتاب مصنف/مؤلف مطبوعہ/سال اشاعت 1 قراٰن پاک کلامِ الٰہی عزوجل ضیاء القراٰن پبلی کیشنز مرکز الاولیاء لاہور 2 ترجمۂ کنز الایمان اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن رضا اکیڈمی بمبئی ہند 3 تفسیر بغوی امام ابو محمدحسین بن مسعودرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ دار الکتب العلمیۃ بیروت ۱۴۱۴ھ 4 تفسیر قرطبی امام ابو عبد اللہ محمد بن احمد انصاری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ دار الفکر بیروت ۱۴۱۹ھ 5 تفسیر درمنثور امام جلال الدین سیوطی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ دارالفکربیروت ۱۴۰۳ھ 6 تفسیرات احمدیہ علّامہ احمد بن ابو سعید جونپوری المعروف ملّا جیون رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ پشاور 7 تفسیر روح البیان شیخ اسماعیل حقی بروسی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کوئٹہ 8 تفسیرخزائن العرفان سید نعیم الدین مرادآبادی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ رضا اکیڈمی بمبئی ہند 9 تفسیر نعیمی مفتی احمد یارخان نعیمی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ مکتبہ اسلامیہ مرکز الاولیاء لاہور 10 صحیح بخاری امام محمد بن اسماعیل بخاری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ دار الکتب العلمیۃ بیروت ۱۴۱۹ھ 11 صحیح مسلم امام مسلم بن حجاج قشیری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ دار ابن حزم بیروت ۱۴۱۹ھ 12 سنن ترمذی امام محمد بن عیسیٰ ترمذی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ دار الفکر بیروت ۱۴۱۴ھ 13 سنن نسائی امام احمد بن شعیب نسائی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ دار الکتب العلمیۃ بیروت۱۴۲۶ھ 14 سنن ابو داود امام سلیمان بن اشعث سجستانی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱۴۲۱ھ 15 سنن ابن ماجہ امام محمد بن یزید قزوینی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ دار المعرفۃ بیروت ۱۴۲۰ھ 16 سنن کبری امام ابو بکر احمد بن حسین بیہقی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ دار الکتب العلمیۃ بیروت ۱۴۲۴ھ 17 سنن دارمی امام عبد اللہ بن عبد الرحمن دارمی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ باب المدینہ کراچی ۱۴۰۷ھ 18 سنن دارقطنی امام حافظ علی بن عمردارقطنی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ مدینۃ الاولیاء ملتان ۱۴۲۰ھ 19 تاریخ بغداد امام ابوبکر احمد بن علی خطیب بغدادی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ دار الکتب العلمیۃ بیروت ۱۴۱۷ھ 20 الجامع لاخلاق الراوی امام ابوبکر احمد بن علی خطیب بغدادی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ مکتبۃ المعارف ۱۴۰۳ھ 21 شعب الایمان امام ابو بکر احمد بن حسین بیہقی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ دار الکتب العلمیۃ بیروت ۱۴۲۱ھ 22 مستدرک امام محمد بن عبد اللہ حاکم نیشاپوری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ دار المعرفۃ بیروت ۱۴۱۸ھ 23 المسند امام احمد بن حنبل رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ دار الفکر بیروت ۱۴۔ ۱۴۱۱ھ 24 مسند ابی یعلی امام احمد بن علی موصلی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ دار الکتب العلمیۃ بیروت ۱۴۱۸ھ 25 الفردوس بمأثور الخطاب امام شیرویہ بن شہر دار دیلمی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ دار الفکر بیروت ۱۴۰۶ھ 26 معجم کبیر امام سلیمان بن احمد طبرانی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ دار احیاء التراث العربی بیروت۱۴۲۲ھ 27 معجم الاوسط امام سلیمان بن احمد طبرانی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ دار الفکر بیروت ۱۴۲۰ھ 28 شرح السنۃ امام ابو محمد الحسین بن مسعود بغوی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ دار الکتب العلمیۃ بیروت ۱۴۲۴ھ 29 الدعوات الکبیر امام ابو بکر احمد بن حسین بیہقی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کویت ۱۴۱۴ھ 30 مصنف عبد الرزاق امام ابو بکر عبد الرزاق بن ھمام صنعانی دار الکتب العلمیۃ بیروت ۱۴۲۱ھ 31 صریح السنۃ امام ابو جعفر محمد بن جریرطبری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ 32 الاخوان امام ابو بکر عبد اللہ بن محمد المعروف ابن ابی الدنیا المکتبۃ العصریۃ بیروت ۱۴۲۶ھ 33 ذم الغیبۃ امام ابو بکر عبد اللہ بن محمد المعروف ابن ابی الدنیا المکتبۃ العصریۃ بیروت ۱۴۲۶ھ 34 الزہد امام احمد بن حنبل رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ دار الغد الجدید مصر ۱۴۲۶ھ 35 الزہد امام عبد اللہ بن مبارک مروزی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ دار الکتب العلمیۃ بیروت 36 الاحادیث المختارۃ امام ابو عبد اللہ محمد بن عبد الواحد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ دار خضر بیروت ۱۴۲۰ھ 37 الاحسان بترتیب صحیح ابن حبان حافظ محمد بن حبان بن احمد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ دار الکتب العلمیۃ بیروت۱۴۱۷ھ 38 جمع الجوامع امام جلال الدین سیوطی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ دار الکتب العلمیۃ بیروت ۱۴۲۱ھ 39 جامع صغیر امام جلال الدین سیوطی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ دار الکتب العلمیۃ بیروت ۱۴۲۵ھ 40 ریاض الصالحین علّامہ ابو زکریا یحییٰ بن شرف نووی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ دار السلام ۱۴۲۰ھ 41 کنز العمال علامہ علاؤ الدین علی متقی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ دار الکتب العلمیۃ بیروت ۱۴۱۹ھ 42 الترغیب والترہیب علامہ عبد العظیم بن عبد القوی منذری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ دار الفکر بیروت ۱۴۲۱۸ھ 43 حلیۃ الاولیاء علامہ ابونعیم احمد بن عبد اﷲ اصفہانی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ دار الکتب العلمیۃ بیروت ۱۴۱۸ھ 44 صفۃ الصفوۃ علامہ ابن جوزی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ دار الکتب العلمیۃ بیروت ۱۴۲۳ھ 45 شرح صحیح مسلم علامہ ابو زکریا یحییٰ بن شرف نووی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ دار الکتب العلمیۃ بیروت 46 مرقاۃ المفاتیح علامہ ملا علی قاری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ دار الفکر بیروت ۱۴۱۴ھ 47 فیض القدیر علامہ محمد عبد الرء ُوف مناوی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ دار الکتب العلمیۃ بیروت ۱۴۲۲ھ 48 اشعۃ اللمعات شیخ عبد الحق محدث دہلوی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کوئٹہ 49 مراٰۃ المناجیح مفتی احمد یارخان نعیمی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ ضیاء القراٰن پبلی کیشنز مرکز الاولیاء لاہور 50 نزہۃ القاری مفتی محمد شریف الحق امجدی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فریدبک اسٹال مرکز الاولیاء لاہور ۱۴۲۱ھ 51 منح الروض علامہ ملّا علی قاری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ دار البشائرالاسلامیہ بیروت ۱۴۱۹ھ 52 ھدایہ علامہ علی بن ابی بکر مَرغینانی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ دار احیاء التراث العربی بیروت 53 خلاصۃ الفتاوی علامہ طاہر بن عبد الرشید بخاری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کوئٹہ 54 مجمع الانہر علامہ عبد الرحمن بن محمد بن سلیمان رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ دار الکتب العلمیۃ بیروت ۱۴۱۹ھ 55 فتاوٰی عالمگیری شیخ نظام وجماعۃ من علماء الہند رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِم دار الفکر بیروت ۱۴۰۳ھ 56 درمختا ر علامہ علاء الدین محمدبن علی حصکفی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ دار المعرفۃ بیروت ۱۴۲۰ھ 57 رد المحتار علامہ ابن عابدین محمد امین شامی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ دار المعرفۃ بیروت ۱۴۲۰ھ 58 فتاوٰی رضویہ اعلٰی حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن رضا فاؤنڈیشن مرکز الاولیاء لاہور 59 الملفوظ اعلٰی حضرت امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن مکتبۃ المدینہ باب المدینہ۱۴۲۹ھ 60 فتاوٰی امجدیہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ مکتبہ رضویہ باب المدینہ ۱۴۱۹ھ 61 بہارِ شریعت مفتی محمد امجد علی اعظمی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ مکتبۃ المدینہ باب المدینہ ۱۴۲۹ھ 62 تاریخ بغداد علامہ احمدبن علی خطیب بغدادی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ دار الکتب العلمیۃ بیروت ۱۴۱۵ھ 63 تاریخ دمشق علامہ ابو القاسم علی بن حسن رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ دار الفکر بیروت ۱۴۱۶ھ 64 تاریخ الخلفاء امام جلال الدین سیوطی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ ضیاء القرآن پبلی کیشنز 65 دلائل النبوۃ امام ابو بکر احمد بن حسین بیہقی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ دار الکتب العلمیۃ بیروت ۱۴۲۳ھ 66 الخیرات الحسان علامہ شہاب الدین احمد بن حجر ہیتمی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ دار الکتب العلمیۃ بیروت ۱۴۰۳ھ 67 المناقب علامہ موفق بن احمد مکی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کوئٹہ ۱۴۰۷ھ 68 تبیض الصحیفۃ امام جلال الدین سیوطی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ پشاور 69 القول البد یع امام حافظ محمد بن عبد الرحمن سخاوی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ مؤسسۃ الریان ۱۴۲۲ھ 70 رسالہ قشیریہ امام ابو القاسم عبدالکریم بن ھوازن قشیری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ دار الکتب العلمیۃ بیروت ۱۴۱۸ھ 71 قوت القلوب شیخ ابو طالب محمد بن علی مکی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ مرکز اہلسنّت برکات رضا ہند ۱۴۲۳ھ 72 تنبیہ المغترین علامہ عبد الوہاب بن احمد شعرانی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ دار المعرفۃ بیروت ۱۴۲۵ھ 73 احیاء العلوم امام ابوحامد محمد بن محمد غزالی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ دار صادر بیروت ۲۰۰۰؁ء 74 منہاج العابدین امام ابوحامد محمد بن محمد غزالی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ دار الکتب العلمیۃ بیروت 75 اتحاف السادۃ علامہ سید محمد بن محمدحسینی زبیدی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ دار الکتب العلمیۃ بیروت 76 حدیقہ ندیہ علامہ عبد الغنی نابلسی حنفی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ پشاور 77 سبع سنابل علامہ میر عبد الواحد بلگرامی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ مکتبہ قادریہ مرکز الاولیاء لاہو ر ۱۴۰۲ھ 78 تذکرۃ الاولیاء شیخ فرید الدین محمدعطار رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ انتشارات گنجینہ تہران 79 روض الریاحین عبد اللہ بن اسعد بن علی یافعی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ دار الکتب العلمیۃ بیروت ۱۴۲۱ھ 80 الروض الفائق علامہ شعیب بن سعد عبد الکافی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱۴۱۶ھ 81 بحر الدموع علامہ ابن جوزی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ مکتبۃ دار الفجر دمشق ۱۴۲۴ھ 82 عیون الحکایات علامہ ابن جوزی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ دار الکتب العلمیۃ بیروت 83 الزواجر عن اقتراف الکبائر علامہ ابو العباس احمد بن محمد بن حجرہیتمی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ دار المعرفۃ بیروت ۱۴۱۹ھ 84 المختصر المحتاج الیہ محمد بن احمد بن عثمان ذہبی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ دار الکتب العلمیۃ بیروت ۱۴۰۵ھ 85 مصباح الظلام امام ابو عبداللہ محمد بن موسی بن نعمان مزالی دار المدینۃ المنورۃ 86 شرح الصدور امام جلال الدین سیوطی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ مرکز اہلسنت برکات رضا ہند ۱۴۲۳ھ 87 تنبیہ الغافلین فقیہ ابو اللیث محمد بن احمد سمرقندی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ پشاور ۱۴۲۰ھ 88 التوبیخ والتنبیہ امام عبداللہ بن محمد بن جعفر بن حیان رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ مکتبۃ الفرقان قاہرہ مصر 89 مکاشفۃ القلوب امام ابو حامد محمد بن محمدغزالی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ دار الکتب العلمیۃ بیروت 90 نزہۃ المجالس علامہ عبد الرحمن بن عبد السلام صفوری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ دار الکتب العلمیۃ بیروت ۱۴۱۹ھ 91 مستطرف علامہ شہاب الدین محمد بن ابو احمد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ دار الفکر بیروت ۱۴۱۹ھ 92 حیاۃالحیوان الکبری علامہ کمال الدین محمد بن موسی دمیری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ دار الکتب العلمیۃ بیروت ۱۴۱۵ ؁ ھ 93 بوستان سعدی شیخ سعدی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کتاب خانہ ملی ایران 94 جاء الحق مفتی احمد یارخان نعیمی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نعیمی کتب خانہ گجرات 2007ء 95 سوانح کربلا علامہ سید نعیم الدین مرادآبادی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ مکتبۃ المدینہ باب المدینہ ۱۴۲۹؁ ھ 96 کتاب التعریفات علامہ سید شریف علی بن محمدجرجانی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ دارالمنار 97 تہذیب الاسماء واللغات ابو زکریا یحییٰ بن شرف نووی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ 98 غیبت کیا ہے علامہ محمد عبد الحی لکھنوی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ مکتبۂ عارفین باب المدینہ کراچی 1978ء
1 ۔۔۔امیر اہلسنت دَامَت بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے رسائل کے علاوہ کسی اور کتاب سے درس کی اجازت نہیں ہے۔مرکزی مجلس شوریٰ 2 ۔۔۔یہاں اسلامی بہن کہے :گھر کے مردوں کو مدنی قافلوں میں سفر کروانا ہے۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن