30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کے خوف کی وجہ سے جماعت کے بغیر گھر میں ہی نماز ادا کی جاسکتی ہے۔ ([1])
تکبیر تحریمہ کے بعد ہاتھ لٹکانا کیسا؟
سُوال : اگر کسى نے تکبىر تحرىمہ کہتے ہوئے ہاتھ اٹھاىااورباندھنے کے بجائے نىچے لٹکا کر پھر ہاتھ باندھے تو کیا اس کى نماز ہوجائے گى؟ (محمد سفیان۔ Facebook کے ذریعے سُوال)
جواب : بعض لوگ ہاتھ لٹکاتے ہیں اور بعض لوگ ہاتھ ہلاتے بھی ہیں۔ سنت یہ ہے کہ تکبیر تحریمہ اس طرح ختم ہو کہ ہاتھ بندھ جائیں۔ ([2]) ہاتھ لٹکانا سنت نہیں ہے اور نہ ہی اس کی حاجت ہے۔ اگر ایسی عادت ہے تو ختم کرنی ہوگی۔
کیا تبرکات کا استخارہ ہوسکتا ہے؟
سُوال : ایسا معلوم ہوا ہے کہ آپ تبرکات کے تعلق سے استخارہ فرماتے ہیں کہ آیا یہ تبرک درست ہے یا نہیں؟ اس کے بعد مختلف شہروں میں دعوت اسلامی کے تحت ان تبرکات کی زیارت کروائی جاتی ہے۔ کیا یہ بات درست ہے؟ (محمد دانش عطاری۔ حیدر آباد)
جواب : میں نے آج تک تبرکات سے متعلق کوئی استخارہ نہیں کیا اور نہ ہی استخارے کے ذریعے تبرکات فائنل کئے جاسکتے ہیں۔ تبرکات کے شرعی تقاضے اور ہیں۔ یہ بات بالکل غلط ہے کہ میں تبرکات کے استخارے کرتا ہوں اور اس کے بعد ان تبرکات کی زیارت کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ یہ غلط فہمی ہے۔ دعوت اسلامی کے تحت صرف عالمی مدنی مرکز فیضان مدینہ کراچی میں سال میں ایک مرتبہ تبرکات کی زیارت کا اہتمام کیا جاتا ہے ، اس کے علاوہ کہیں اور زیارت کا سلسلہ نہیں ہوتا۔
باڑے کے مالکان و ملازمین کے لئے مفید سوالات و جوابات
سُوال : ہمارے پاس 190 جانور ہیں اور ہم پچھلے 20 سال سے یہ کام کررہے ہیں۔ میرے چند سوالات ہیں :
(1) جانوروں کے درمیان گھومنے کی وجہ سے کپڑوں پر گوبر لگ جاتا ہے اور پیشاب کے چھینٹے بھی پڑجاتے ہیں جو سوکھنے کے بعد معلوم بھی نہیں ہوتے کہ کہاں لگے تھے۔ ایسی صورت میں ہمیں نماز پڑھنے کےلئے کیا کرنا چاہیے؟
(2)ہمارے پیچھے یہاں جانوروں کا خیال رکھنےکےلئے منشی وغیرہ ہوتے ہیں۔ اگر وہ جانور کو صحیح طرح چارا اور پانی وغیرہ نہیں دیتے ، یا ان پر ظلم کرتے اور مارتے ہیں تو اس کا گناہ کس کے سر ہوگا؟
(3)ہمیں دودھ نکالنے کے لئے جانوروں کو انجکشن لگانا پڑتا ہے ، کیونکہ بغیر انجکشن لگائے جانور جلدی اور زیادہ دودھ نہیں ہوتا ۔ کیا ہمارا ایسا کرنا صحیح ہے؟ (عبد الرحمن)
جواب : (1)آسان طریقہ یہ ہے کہ آپ اپنے باڑے میں نمازوں کے لئے الگ لباس رکھ لیں اور جب نماز کا وقت آئے تو وہ لباس بدل کر صاف ستھرے ہوکر نماز ادا کیا کریں۔
(2)اگر جانوروں کی صحیح دیکھ بھال نہیں ہوتی اور سیٹھ یہ سب دیکھ کر بھی آنکھ آڑے کان کرتا ہے کہ یار چھوڑو جانے دو تو وہ بھی اس ناانصافی میں شامل ہوگا۔ سیٹھ کو چاہیے اس چیز کی معلومات رکھے اور اگر کوئی کمی دیکھے تو طریقہ کار کے مطابق جانوروں کا خیال رکھنے والےکو سمجھائے ، اگر وہ نہ سمجھے تو فارغ کردے یا آئندہ اس سے اجارہ نہ کرے۔ الغرض جو بھی جائز طریقہ ہو وہ اختیار کرے۔ جانور پر ظلم کرنا انسان پر ظلم کرنے سے زیادہ سخت ہے ، کیونکہ مسلمان ظالم کا مقابلہ کرسکتا ہے اور کورٹ میں بھی جاسکتا ہے ، لیکن یہ بے زبان جانور کس سے فریاد کرے گا! بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جو جانوروں کو بھوکا رکھتے اور بے دردی سے مارتے ہیں ، ایسے لوگ روز جزا بہت مشکل میں آجائیں گے۔ نہ انسانوں پر ظلم کریں ، نہ جانوروں پر ظلم کریں ، بلکہ ایک کیڑی پر بھی ظلم کرنے سے بچیں۔
(3)جانوروں کو ٹیکا لگانے کے حوالے سے ’’دار الافتاء اہل ِسنت‘‘ کا ایک فتویٰ آپ کو پڑھ کر سناتا ہوں : ’’بھینسوں کا دودھ بڑھانے کے لئے انہیں ٹیکے لگانے سے وقتی طور پر زیادہ دودھ تو حاصل ہوجاتا ہے ، لیکن اس کی وجہ سے دودھ میں مضر صحت (یعنی نقصان دہ) اثرات پیدا ہوجاتے ہیں ، اس لئے گورنمنٹ آف پاکستان کی طرف سے ان ٹیکوں کے استعمال کو جرم قرار دیا گیا ہے اور جو کام قانونا جرم ہو وہ شرعا بھی جرم ہوتا ہے ، ([3]) کیونکہ پکڑے جانے کی صورت میں اپنے آپ کو ذلت پر پیش کرنا پایا جائے گا یا گرفتاری پر رشوت دینی پڑے گی ، اور ان میں سے کوئی چیز جائز نہیں ، لہٰذا دودھ بڑھانے کے لئے بھینسوں کو اس قسم کے ٹیکے لگانے کی شرعا اجازت نہیں۔ ‘‘ فتوے میں کچھ دلائل بھی ذکر کئے گئے ہیں۔ آخر میں اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کا ایک ارشاد ہے کہ ’’کسی ایسے امر کا ارتکاب (یعنی ایسا کام کرنا) جو قانوناً ناجائز ہو ، ا ورجرم کی حد تک پہنچے شرعا بھی ناجائز ہوگا کہ ایسی بات کے لئے جرم قانونی کا مرتکب ہو کر (یعنی قانونی جرم کرکے) اپنے آپ کو سزااور ذلت کے لئے پیش کرنا شرعاً بھی روانہیں۔ ‘‘([4])
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع