دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Gharron Main Bad Amani Kiyon Hai? | گھر وں میں بد امنی کیوں ہے؟

book_icon
گھر وں میں بد امنی کیوں ہے؟

، اس لئے کچھ بھی نہ بولے اور  یہ بھی نہ ہو کہ بعد میں منہ پھولا رہے۔ البتہ اگر آنکھوں سے آنسو نکل آئیں تو کوئی حرج نہیں ۔ بعض عورتىں اىسى ہوتى ہىں جو اپنی حکمتِ عملی یعنی صبر  سے جنگلى ٹائپ کے شوہروں کو قابو کرلىتى ہىں ،  جبکہ بعض بے چارىاں نادان ہوتى ہىں اور اپنا گھر توڑ بىٹھتى ہىں۔

کیا تقریبِ نکاح میں چھوارے لٹانا رزق کی بے ادبی ہے؟

سُوال : ہم لوگ بہت شوق سے مدنی چینل پر مدنی مذاکرہ دیکھتے ہیں۔ ابھی مدنی چینل پر نگران شوریٰ کی صاحبزادی کی تقریب نکاح ہوئی جس میں آپ نے چھوارے لٹائے ، اسے دیکھ کر کچھ ساتھی اعتراض کررہے ہیں کہ ’’رزق کو اس طرح پھینکنا نہیں چاہیے۔ ‘‘ یہ ارشاد فرمائیے کہ چھوارے لٹانے میں شرعی مسئلہ کیا ہے؟ اور اس میں کیا حکمت ہے؟   (ACNA۔ پاک آرمی)

جواب : چھوارے پھینکے نہیں جارہے تھے ، بلکہ لُٹائے جارہے تھے۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ احکام شریعت میں لکھتے ہیں کہ ’’حدیث شریف میں (چھوارے) لوٹنے کا حکم ہے اور لٹانےمیں بھی کوئی حرج نہیں۔ ‘‘([1])  لٹانا  اسی طرح ہوسکتا ہے  جس طرح میں نے کیا۔  ’’فتاوی عالمگیری‘‘ جو 400 علمائے کرام کی مل کر لکھی گئی فقۂ حنفی اور فتاوی کی مشہور کتاب ہےاس کے حوالے سے ’’بہار شریعت‘‘([2]) میں لکھا ہے : ’’ نکاح میں چھوارے لُٹائے جاتے ہیں ، ایک کے دامن میں گرے تھے اور دوسرے نے اُٹھا لئے اس کی دوصورتیں ہیں : جس کے دامن میں گرے تھے اگر اُس نے اسی غرض (یعنی مقصد) سے دامن پھیلائے تھے تو دوسرے کو لینا جائز نہیں ، ورنہ جائز ہے۔ ‘‘([3]) اس میں چھوارے لٹانے سے منع نہیں کیا گیا ، بلکہ چھوارے کس کے ہوں گے؟ اس کی صورتیں بیان کی گئی ہیں۔ جب ہم درخت سے پھل توڑتے ہیں تب وہ بھی زمین پر گرتے ہیں ، اسی طرح جب اناج کی کٹائی ہوتی ہے اس وقت بھی کافی اناج زمین پر ہی گررہا ہوتا ہے ، تو ہر صورت میں رزق کے زمین پر گرنے کو بے ادبی کہا جائے ، یہ ضروری نہیں ہے۔ ایسا کسی ضرورت کے تحت بھی ہوسکتا ہے۔

صحت مند بے نمازیوں کے لئے درس عبرت

سُوال : میرے دونوں گردے فیل ہیں اور اب مجھے کورونا وائرس (Covid-19) بھی ہوگیا ہے۔ مجھے نلکیاں  لگی ہوئی ہیں اور میرا واش روم آنا جانا  بھی بند کیا ہوا ہے۔ یہ ارشاد فرمائیے کہ اس صورت میں میری نماز اور وضو وغیرہ کے کیا مسائل ہوں گے؟ (افضال احمد عطاری۔ برمنگھم ، UK۔ ویڈیو سوال)

جواب : اللہُ اکبر! اللہ پاک پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم کے صدقے آپ کو شفا عطا فرمائے۔  افضال بىٹے! صبر کرنا ، اللہ کى رحمت پر نظر رکھنا ، وسوسے مت پالنا ، ىہ مالک کى مرضى ہے۔ اِنْ شَآءَ اللہ گناہ دھل جائىں گے ، درجے بلند ہوں گے اور آپ جنت کى اعلىٰ نعمتوں کے حق دار ہوں گے۔ بس ہمت رکھنا۔ ایسی حالت میں بھی آپ کو نماز کی فکر ہے!! وہ لوگ جو ہٹے کٹے ہوتے ہىں اور انہیں کوئى مرض نہىں ہوتا ، لیکن پھر بھی نماز نہىں پڑھتے ، اُنہیں اِن  سے عبرت حاصل کرنى چاہىے کہ یہ غریب کس حال مىں ہے! لیکن اب بھى اسے وضو اور نماز کی فکر ہے۔

بستر پر وضو اور اشارے سے نماز!!

                                                اگر آپ کے لئے خود اٹھ کر یا کسی کے اٹھانے سے وضو کرنا ممکن ہےتو  پھر وضو کرلىں۔ اگر نقاہت (یعنی کمزوری) کی وجہ سے اٹھنا نہیں چاہتے ، لیکن پھر بھی کوئی آپ کی مدد کرتے ہوئے بستر پر ہی وضو کرواسکتا ہے تو وضو کرلیں۔ ایک مرتبہ میرا آپریشن ہوا تھا تو مجھے بھی ایک اسلامی بھائی بستر پر وضو کرواتے تھے۔ بہرحال! اگر وضو کرسکتے ہیں تو وضو کرنا پڑے گا۔ اگرچہ اس میں تکلیف بہت ہوگی ، لیکن ثواب بھی زیادہ ملے گا ، کیونکہ ’’اَفْضَلُ الْاَعْمَالِ اَحْمَزُہَا۔ ([4]) یعنی افضل ترین عمل وہ ہے جس میں تکلیف اور زحمت زیادہ ہو۔ ‘‘ البتہ اگر آپ وضو کرہی نہیں سکتے ، یا کوئی وضو کروانے والا نہیں ہے تو پھر تیمم کرلیجئے ، اگر خود تیمم نہیں کرسکتے تو کوئی دوسرا بھی تیمم کروا سکتا ہے ، تیمم کے بعد آپ بستر پر ہی اشارے سے نماز پڑھ لیں ، بھلے پاؤں قبلے کی طرف ہی ہوں۔ بس سر کچھ اونچا کرلیا جائے تاکہ چہرہ قبلے کی طرف رہے۔ ([5]) اشارے سےنماز پڑھنے میں ایک خیال یہ رکھنا ہے کہ رکوع کے لئے سر جتنا جھکایا سجدے کے لئے اس سے زیادہ سر جھکانا ہوگا۔ یہ فرض ہے۔  اس میں یہ ضروری نہیں ہے کہ پوری طاقت لگاکر سر جھکائیں ، بلکہ تھوڑا سا رکوع کے لئے اور اس سے تھوڑا زیادہ سجدے کےلئے جھکالیں۔ جن لوگوں کو کرسی پر نماز پڑھنے کی اجازت ہے انہیں بھی سجدے کے لئے رکوع کے مقابلے میں سر زیادہ جھکانا ہوتا ہے۔ بعض کرسیوں میں اس مقصد کے لئے لکڑی کا پھٹا لگا ہوا ہوتا ہے جس پر سر رکھ کر سجدہ کیا جاتا ہے ، اس کی حاجت نہیں ہے ، بس سجدے کا اشارہ رکوع کے اشارے سے زیادہ ہونا چاہیے۔ دعوت اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ نے ایک رسالہ چھاپا ہے جس کا



[1]    احکامِ شریعت ، ص۲۳۲۔

[2]    ’’بہار شریعت‘‘  حضرتِ مولانا مُفتی محمّد اَمجَد علی  اَعظمی رَحْمَۃُ اللہ عَلَیْہ کی شاندار تصنیف ہے جو 3 جلدوں  اور 20 حصّوں پر مشتمل ہے۔ اِس کتاب میں عقائد ، طَہارت ، عِبادات ، مُعامَلات اور روز مرّہ کے عام مسائل شامل ہیں۔ دعوتِ اسلامی کے شعبۂ تصنیف و تالیف ’’اَلْمَدِیْنَۃُ الْعِلْمِیَۃ‘‘ کے مَدَنی عُلَما  نے سالوں محنت کرکے اِس کی تخریج کی ہے اور مکتبۃ المدینہ نے اِسے بہت خُوبصورت اَنداز میں 6 جلدوں میں شائع کیاہے۔ (شعبہ ملفوظاتِ امیرِ اہلِ سنت)

[3]    بہار  شریعت ، ۲ / ۴۷۹ ، حصّہ : ۱۰۔ فتاویٰ ھندیة ، کتاب اللقطة ، ۲ / ۳۹۳۔

[4]    مرقاة المفاتیح ، کتاب العتق ، الفصل الاول ، ۶ / ۵۴۹ ، تحت الحدیث : ۳۳۸۳۔

[5]     ردالمحتار ، کتاب الصلاة ، مطلب اذا صلی الشافعى...الخ ،  ۲ / ۳۶۹۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن