دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Gharron Main Bad Amani Kiyon Hai? | گھر وں میں بد امنی کیوں ہے؟

book_icon
گھر وں میں بد امنی کیوں ہے؟

کیا وہیل چیئر مسجد میں لاسکتے ہیں ؟

سُوال : بعض لوگ  Wheel chair (معذوروں کی کرسی)  مسجد میں لے کر آتے ہیں اور وہی Wheel chair باہر بھی گھوم رہی ہوتی ہے۔ اس بارے میں  کىا احتىاطىں کرنی  چاہئیں؟(SMS کے ذریعے سُوال)

جواب : جب  یقینی معلومات ہو کہ یہ ناپاک پانی سے گزری ہے ، تب تو مسجد میں نہیں لانی چاہیے۔ اگر اس میں کوئی مَیل کچیل نظر آرہا ہے جس سے مسجد کا فرش آلودہ ہوسکتا ہوتو بھی نہیں لانی چاہیے۔ اگر خشک ہوتو اُس کا دَارومَدار عُرف پر ہے ، جیسے لوگ حرمین شریفین  میں Wheel chair لے جاتے ہىں ، کیونکہ  وہاں کا عُرف ہے۔ جب یہ پاک ہو تو اسے دھونے کا حکم نہیں دے سکتے کہ  معذور آدمى Wheel chair کىسے دھوئے گا! ناپاک پہىے تو مسجدِ نبوى شرىف کے فَرش پر گھمانے کی اِجازت نہیں ملے گی۔ ہاں! اگر ناپاک نہىں ہیں اور ناپاک ہونے کا پتا بھی نہىں ہےتو پاک ہے۔ ([1]) سُوال کرنے والے نے ہوسکتا ہے حرمین شریفین کا منظر دیکھا ہواور اُسی کےبارے میں پوچھا ہو ، کیونکہ ہمارے  ىہاں Wheel chairپر کسى کو مسجدنہیں  لے جاتے ، میں نے بھى کبھى کسی کو نہیں دىکھا۔

دل آزاری کرنے اور دل  آزاری ہونے میں فرق

سُوال :    مسلمانوں کى دل آزارى کرنا کىسا؟ اور اس کا گناہ کتنا ہے؟ (SMS کے ذریعے سُوال)

جواب : مسلمان کى دل آزارى بڑا گناہ ہے  اور اس مىں جہنّم کا عذاب ہے۔ ([2]) اب سمجھ تو یہی آتا ہے کہ دل آزاری کا جتنا شدیدمعاملہ ہوگا اتنا گناہ بھی شدید ہوگا ، جیسے کسی کو اِىذا دىنے والى نظر وں سے گُھور کر دىکھا تو ىہ بھى گناہ اور ناجائز ہے۔ ([3]) دوسرا ىہ کہ کسی کا سر پھوڑ دىا یا  ہاتھ توڑ دىاتو  دل آزارى  اس پر بھى ہوگی ، لیکن ان  دونوں مىں فرق ہے۔ کسی کی معمولى سی دل آزارى بھی نہیں کرنی  چاہىے۔ بعض اوقات لوگ اپنى طرف سے بات بات پر کہہ دیتے ہیں کہ ’’ہماری دل آزاری ہوگئی ہے‘‘  جیسے یہ پیالہ میری مِلک ہے اور کوئی یوں کہے کہ ’’ىہ پىالہ مجھے دے دو ، ورنہ مىرى دل آزارى ہوجائے گى‘‘تو ىہ دل آزارى نہىں ہے ، بلکہ یہ تو تَأَذِّىْ (ىعنى اپنے اوپر اىذا اوڑ ھ لىنا) ہے ، کیونکہ پىالہ میرا ہےاور  مىرے نہ دینے سے  آپ کى دل آزارى ہوتی ہے تو مىں کىا کروں! مىں نے تو دل آزارى نہىں کى ، بلکہ آپ نے اپنے اوپر دل آزاری اوڑھ لی   تو یہ  آپ کاMatter(یعنی معاملہ) ہے۔ اسی طرح کوئی  مىرے گھر آىا  اوردروازہ بجاىاتو  مجھے حق ہے کہ مىں دروازہ نہ کھولوں ، اس میں مىرا کوئى بھى عُذر ہوسکتا ہے ، اب اگر اُس مىں دل آزارى ہوجائے  یادل ٹوٹ جائے تو الگ Matter ہے۔ حدىثِ پاک مىں بھى ىہى ترغىب ہےکہ  اگر دروازہ نہىں کھلاتو تىن بار سلام کرے اگر جواب نہىں ملے تو واپس چلا جائے ، ([4]) کیونکہ صاحبِ خانہ کی کوئى بھى مجبورى ہوسکتى ہے یا وہ  کسی وجہ سے آپ سے ملنا نہیں چاہتا۔ اگر آنے والا ناراض ہوتاہے تو اس مىں دل آزارى نہىں ہے۔ ىہاں تو اىسا ہے کہ کوئى دروازہ بجائے اور نہ کھلے تو کہتے ہىں : ’’ مغرور ہوگىا ہے ، بہت بڑا آدمى بن گىا ہے۔ ‘‘حالانکہ اس طرح بولنے والا گناہ گار ہوگا ، کیونکہ صاحبِ خانہ کو جب پتا چلے گا تو اُس کا دِل دُکھے گا۔ رات دن ہر وقت آپ سے کوئى ملتا رہے ، پھر آپ کى دکان پر گاہکوں کى بھىڑ لگى ہوئى ہے اور وہی آپ سے ملنے آئے تو کیا آپ اُس سے ملو گے؟نہیں ملوگے ، بلکہ اُس کى طرف دىکھو گے بھى نہىں۔ اسی طرح مذہبى آدمى ہو یا چاہے جو بھى ہو ، ہر ایک کى مصروفىات ہوتى ہیں ، رات دن ہر کوئی فارغ نہیں ہوتا۔

شوہر مارتا ہو تو بیوی کیا کرے؟

سُوال :  اگر کسی عورت کو اس کا شوہر مارتا پیٹتا ، گالیاں دیتا اور طرح طرح کی تکلیفیں پہنچاتاہو  تو اُسے آپ کس طرح تسلّی دیں گے؟نیز  ایسی عورت اپنے گھر کو کس طرح بچائے ؟(نگرانِ شوری حاجی ابو حامد محمد عمران عطاری )

جواب : تالى دو ہاتھ سے بجتى ہے ، شوہر  پاگل نہىں ہوتا کہ مارتا پھرے۔ شوہر پہلے گالىاں دىتا ہو گا اور اُلٹ پَلٹ بولتاہوگاجس پر  بیوی کی طرف سے تىز Reply (یعنی جواب) ملتا ہوگا  تو ہوسکتا ہے شوہر کا ہاتھ بھى اُٹھ جاتا ہو ۔ البتہ شوہر کو مارنا نہىں چاہىے ، کیونکہ عورت کو اس طرح مارنے کی اجازت نہیں ہے۔ جو لوگ اپنی بیویوں کو بے تَحاشا جنگلی جانوروں کی طرح مارتے ہیں دراصل وہ خود جنگلى جانور ہوتے ہىں ۔ یاد رہے! اگر عورت ظلم  کرتى ہے اور مرد صبر کرتا ہے تو مردکو  صبرِ اىوب عَلَیْہِ السَّلَام کى طرح ثواب ملے گا۔ جبکہ اگر شوہراس طرح ظلم کرتا ہے اور عورت صبر کرتی ہےتو اُسے بى بى آسىہ رَضِیَ اللّٰہُ  عَنْہَا  کے ثواب کى طرح  ثواب ملے گا۔ ([5]) اب مظلوم کو چاہیے کہ صبر کرے اور ثواب کمائے۔ اگر سامنےسے  ہاتھ اُٹھائے ، پتھر مار ے یالڑائى کرے تو اس مىں عافىت نہىں ہے۔ عافىت صبر مىں ہےکہ  ىہ کب تک مارے گا! آخر کار  ہوسکتا ہے اِسےکبھى نہ کبھى رَحم آجائے۔ ہاں! بیوی  کو اپنی زبان کنٹرول مىں رکھنی ہوگی۔ اگر شوہر کو اس طرح کہا کہ  ’’مىں تجھے کچھ بولتى نہىں ہوں ، صبر کرتى ہوں ، ورنہ اگر اپنے بھائى سے کہوں گی تو وہ  تىرى ٹانگىں توڑ دے گا‘‘تو اِسے صبر نہىں کہا جائے گا ، کیونکہ  صبر مىں خاموش رہنا ہوتا ہے



[1]    فتاویٰ رضویہ ، ۳ / ۲۷۲ ماخوذاً۔

[2]    کفریہ کلمات کے بارے میں سوال جواب ، ص۵۸۱۔

[3]    فتاویٰ رضویہ ، ۲۴ / ۳۴۲ ماخوذاً۔

[4]     بخاری ، کتاب الاستئذان ، باب التسلیم والاستئذان ثلاثاً ، ۴ / ۱۷۰ ، حدیث : ۶۲۴۵۔

[5]     کتاب الکبائر ، الکبیرة السابعة والاربعون ، ص۲۰۶۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن