30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! غُربت ومسکینی اپنے جِلَو (یعنی مَعیِّت) میں کتنی برکتیں لئے ہوئے ہے کہ شَہَنْشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال، رسولِ بے مثالصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَ اٰلہٖ وَ سَلَّمبھی گروہِ مَساکین میں شامِل ہونے اور اِسی گروہ کو اپنی رَفاقت کی برکتوں سے نَوازنے کی خواہش اور اِن سے مَحَبَّت کی تلقین فرما رہے ہیں ۔
سلام اُس پر کہ جس کے گھر میں چاندی تھی نہ سونا تھا
سلام اُس پر کہ ٹوٹا بوریا جس کا بِچھونا تھا
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
فُقَرا سے محبّت قُربَتِ الٰہی کا سبب
حضرتِ سیِّدُنا اَنَس بن مالِکرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ رِوایت کرتے ہیں کہ محبوبِرَبُّ الْعِزَّتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَ اٰلہٖ وَ سَلَّمنے حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صِدِّیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہاکو مُخاطَب کرکے اِرشاد فرمایا: ’’ یَا عَائِشَۃُ اَحِبِّی الْمَسَاکِیْنَ وَقَرِّبِیْہِمْ فَاِنَّ اللہَ یُقَرِّبُکِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ یعنی اے عائِشہ (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا) ! مسکینوں سے مَحَبَّتکرو، اُنہیں اپنے قریب رکھو تاکہ بروزِ قِیامت اللہ تعالٰی تمہیں اپنے قُرْب سے نَوازے۔ ‘‘ (مِشکاۃ المصابیح، کتاب الرقاق، باب فضل الفقراء الخ، الفصل الثانی، ۱/۲۵۵، حدیث: ۵۲۴۴مختصراً)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دُنیوی مال وزَر کی محتاجی اُخرَوی نعمتیں پانے کا سبب ہے بشرطیکہ صبْر کا دامن ہاتھ سے نہ چُھوٹے۔ لہٰذا اِس حالت سے پریشان ہوں نہ تشویش میں مُبتَلا ہوں ۔تشویش ناک غُربَت تو آخِرت کی غُربت ہے اور یہی غُربَت در حقیقت مصیبت ہے جیسا کہ حضرتِ سیِّدُنا ابوہُرَیرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مَروی ہے کہ پیکرِ اَنوار، تمام نبیوں کے سردار، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَ اٰلہٖ وَ سَلَّم نے صَحابۂ کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان سے اِستِفسار فرمایا: کیا تم جانتے ہو مُفْلِس کون ہے؟ صَحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے عرْض کی: ہم میں مُفْلِس (یعنی غریب، مسکین) وہ ہے جس کے پاس نہ دِرہم ہوں اور نہ ہی کوئی مال۔ تو اِرشاد فرمایا: ’’ میری اُمّت میں مُفلِس وہ ہے جو قِیامت کے دن نَماز، روزہ اور زکوٰۃ لے کر آئے گا لیکن اُس نے فُلاں کوگالی دی ہو گی، فُلاں پر تہمت لگائی ہو گی، فُلاں کا مال کھایا ہو گا، فُلاں کا خون بہایا ہو گا اور فُلاں کو مارا ہو گا۔ پس اُس کی نیکیوں میں سے اُن سب کو اُن کا حصّہ دے دیا جائے گا۔ اگر اُس کے ذمّے آنے والے حُقُوق کے پورا ہونے سے پہلے اُس کی نیکیاں ختم ہو گئیں تو لوگوں کے گناہ اُس پر ڈال دیئے جائیں گے، پھر اُسے جہنَّم میں پھینک دیا جائے گا۔ ‘‘
(مسلِم، کتاب البر و الصلۃالخ، باب تحریم الظلم، ص۱۳۹۴، حدیث: ۲۵۸۱)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ڈر جاؤ! لرزاُٹھو! حقیقت میں مُفْلِس وہ ہے جو نَماز، روزہ، حج، زکوٰۃ وصَدَقات، سخاوتوں ، فلاحی کاموں اور بڑی بڑی نیکیوں کے باوُجُود بروزِقیامت خالی کا خالی رہ جائے! کبھی گالی دے کر، کبھی تہمت لگا کر، بِلااجازتِ شَرعی ڈانٹ ڈپٹ کر، بے عزّتی کرکے، ذلیل کرکے، مار پیٹ کر، عارِیَتًا (یعنی عارِضی طور پر) لی ہوئی چیزیں قصداً نہ لوٹا کر، قرض دَبا کراور دل دُکھا کر جن کو دُنیا میں ناراض کردیا ہو گاوہ اُس کی ساری نیکیاں لے جائیں گے اور نیکیاں خَتْم ہو جانے کی صورت میں اُن کے گناہوں کا بوجھ اُس پر ڈال کر واصِلِ جہنَّم کر دیا جائے گا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع