30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ہمیں بھی اپنے اَسلافِ کِرام رَحِمَھُمُ اللہُ السَّلامکےنقْشِ قدَم پر چلتے ہوئے تنگدستیوں ، محتاجیوں اور گھریلو پریشانیوں سے گھبرا کر گِلہ شِکوَہ کرنے کے بجائے ہمیشہاللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں رُجوع کرنا چاہئے اور اُس کی رِضا پر راضی رہنا چاہئے اور دُعا کی کثرت کرنی چاہئے جیسا کہ
ایک بُزُرگ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی خدمت میں ایک شخص نے عرض کی، حُضُور! اَہل و عِیال کی فکر نے مجھے پریشان کر رکھا ہے۔ میرے حق میں دعا فرمایئے۔ جواب دیا: ’’ تیرے اَہل و عِیال جب تجھ سے آٹا اور روٹی نہ ہونے کی شِکایت کریں تو اُس وَقت اللہ تَبَارَکَ وَتَعَالٰیسے دُعا کیا کر کہ تیری اُس وَقت کی دُعاقَبولیّت کے زیادہ قریب ہے۔ ‘‘ ( روضُ الرِیاحین، ص۲۵)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! جس کی تنگدستی عُرُوج پر ہو گی یقینا وہ بے حد دُکھی اور غمگین ہو گا اور دُکھیاروں کی دُعا قبول ہوتی ہے جیسا کہ دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ کتابِ مُستَطَاب ’’ فضائِلِ دُعا ‘‘ میں اعلیٰ حضرت کے والدِ مہربان رئِیسُ الْمُتَکَلِّمِینحضرتِ علّامہ مولانا نقِی علی خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّاننے مستجابُ الدَّعوات شخصیَّات (یعنی جن لوگوں کی دُعائیں قبول ہوتی ہیں اُن) میں سب سے پہلے نمبر پر لکھا ہے، ’’ اوّل: مُضطَر (یعنی بے چین و پریشان حال) ۔ ‘‘
اِس کی شرح میں سرکارِ اعلیٰحضرت، اِمامِ اَہلسنّت مولانا شاہ امام اَحمد رَضا خان عَلَیْہِرَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں : اِس (یعنی دُکھیارے اور لاچار کی دُعا کی قبولِیّت) کی طرف توخود قراٰنِ عظیم میں اِشارہ موجود : اَمَّنْ یُّجِیْبُ الْمُضْطَرَّ اِذَا دَعَاهُ وَ یَكْشِفُ السُّوْٓءَ (پ۲۰، النمل: ۶۲)
ترجمۂ کنزالایمان: یا وہ جو لاچار کی سنتا ہے، جب اُسے پکارے اور دُور کر دیتا ہے برائی۔ (فضائل دعا، ص۲۱۸)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! خدا عَزَّوَجَلَّ کی قسم! دُنیا کی رنگینیوں میں گُم مالدار و صاحبِ اِقتِدار کے مُقابَلے میں سنّتوں کا پابند غریب و نادار خوش نصیب وبخت بیدار ہے اور وہ آخِرت میں کامیاب ہے جو غُربت، اَمراض و آفات میں مُبتَلا ہونے کے باوُجود اللہ غَفَّار عَزَّوَجَلَّاور اُس کے رسولِ ذی وَقارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَ اٰلہٖ وَ سَلَّم کا اِطاعت گُزار ہے۔
زباں پر شِکوۂ رنج و اَلَم لایا نہیں کرتے
نبی کے نام لیوا غم سے گھبرایا نہیں کرتے
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! وہ مسلمان جو آج اہلِ دُنیا کی نظر میں حقیر تصوُّر کئے جاتے ہیں ، غریب سمجھ کر حلقۂ اَحباب سے دُور کر دیئے جاتے ہیں ، قلّتِ مال کے سبب منہ نہیں لگائے جاتے، لیکن قربان جائیے اللہُ رَبُّ الْعِزَّت عَزَّوَجَلَّکی رحمت پر کہ یہی لوگجنّت کے لئے باعثِ عزَّت وعظَمت ہیں جیسا کہ حضرتِ سیِّدُنا ابو ہُریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ رِوایت کرتے ہیں کہ غریبوں کے مَلْجَا ومَاوٰی، احمدِ مجتبیٰ، محمد ِ مُصطفیٰصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَ اٰلہٖ وَ سَلَّم کا فرمانِ والاشان ہے: ’’ جہنّم اور جنّت میں مُباحَثہ ہوا تو جہنّم نے کہا: ’’ مجھے ظالِم
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع