30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں : خیال رہے کہ یہ دیر حساب کی وجہ سے نہ ہوگی رب تعالیٰ سارے عالم کا حساب بہت جلد لے گا یہ ان فقراء کی شان دکھانے کے لیے ہوگی کہ امیروں کو حساب کے نام پر روک لیا گیا اور فقیروں کو جنت کی طرف چلتا کردیا گیا۔مفتی صاحب رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہپانچ سو سال کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں : یعنی قیامت کا دن ایک ہزار برس کا ہے، رب تعالیٰ فرماتاہے: اِنَّ یَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ كَاَلْفِ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ (۴۷) (ترجمۂ کنزالایمان: بے شک تمہارے رب کے یہاں ایک دن ایسا ہے جیسے تم لوگوں کی گنتی میں ہزار برس (پ۱۷، الحج: ۴۷) ) ہاں بعض کو پچاس ہزار سال کا محسوس ہوگا، ان کے متعلق رب فرماتا ہے: فِیْ یَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهٗ خَمْسِیْنَ اَلْفَ سَنَةٍۚ (۴) (ترجمۂ کنزالایمان: وہ عذاب اس دن ہوگا جس کی مقدار پچاس ہزار برس ہے۔ (پ۲۹، المعارج: ۴) ) اور بعض مؤمنین کو گھڑی بھر کا محسوس ہوگا، رب تعالیٰ فرماتا ہے: فَذٰلِكَ یَوْمَىٕذٍ یَّوْمٌ عَسِیْرٌۙ (۹) عَلَى الْكٰفِرِیْنَ غَیْرُ یَسِیْرٍ (۱۰) (ترجمۂ کنزالایمان: تو وہ دن کرّا (سخت) دن ہے۔کافروں پر آسان نہیں (پ۲۹، المدثر: ۹، ۱۰) ) ۔ لہٰذا آیات میں تعارض نہیں اور ہوسکتا ہے کہ قیامت کا دن پچاس ہزار سال کا ہو مگر بعض کو ایک ہزار سال کا محسوس ہو، بعض کو اس سے بھی کم حتی کہ ابرار کو ایک ساعت کا محسوس ہوگا جیسے ایک ہی رات آرام والے کو چھوٹی محسوس ہوتی ہے تکلیف والے کو بڑی۔ (مراٰۃ المناجیح ، ۷/۶۷ بتصرف)
عذابِ قبر و محشرسے بچا لو نارِ دوزخ سے
خدارا ساتھ لے کے جاؤ جنّت یارسول اللہ!
(وسائل بخشش)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! یہ سب فضائل اُس غریب مسلمان کے لئے ہیں جو اپنی غُربت پرصبْر کرے۔ہر وقْت جمعِ مال کے چکر میں پڑا رہنے والا، امیروں اور اُن کی نعمتوں کو دیکھ دیکھ کر دل جَلانے یا حسَد کی آفت میں مُبتَلا ہونے والا مُفْلِس ونادار جو اپنی غُربت پر صابِر نہیں وہ بیان کردہ اِنعام کا مستحق نہیں اور اگر بدقسمتی سے بے صبْری میں مزید آگے بڑھ گیا تو پھر ذِلَّت ورُسوائی مُقدَّر بن سکتی ہے۔ پس! ناداروں اور مُصیبت کے ماروں کو بھی اللہ عَزَّوَجَلَّ کی خُفیہ تدبیرسے ڈرتے رہنا ضروری ہے کیوں کہ ہو سکتا ہے اِن آفَتوں کے ذَرِیْعے آزمائش میں ڈالا گیا ہو اور گِلہ شِکوَہ، بے صبْری اورغربَت ومصیبت کو حرام ذَرائع سےخَتْم کرنے کی کوشِشیں آخِرت میں تباہی وبربادی کا سبب بن جائیں ۔
حضرتِ سیِّدُنا امام محدث ا بن جَوزِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’ محتاجی ایک مرْض کی مانندہے جو اِس میں مُبتَلا ہوا اور صبْر کیا وہ اِس کا اَجْر و ثواب پائے گا، اِسی لئے محتاج وغریب لوگ جنہوں نے اپنیفَقْر وغُربت پر صبْر کیا ہو گا، امیروں سے 500 سال پہلے جنّت میں داخِل ہو جائیں گے۔ ‘‘ (تلبیس ابلیس، ص۲۲۵)
رہیں سب شاد گھر والے شہا تھوڑی سی روزی پر
عطا ہو دولتِ صبْر و قَناعت یارسول اللہ!
(وسائل بخشش)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
کیا مالدار غریبوں سے عمَل میں سبقت رکھتے ہیں ؟
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع