30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
غفلہ! آپ ا س کنیز سے کیا فرما رہے ہیں ؟ میں نے جو کچھ کہا تھا عرض کر دیا اور التجاء کی، یاامیرَالمؤمنین ! آپ اپنی جان پر رحم فرمایئے اور اتنی مشقت نہ اٹھایئے۔ تو آپ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجھَہُ الْکَرِیم نے فرمایا، اے ابن غفلہ ! دو عالم کے مالک و مختار، مکی مدنی سرکار، محبوب پرورد گارعَزَّوَجَلَّ و صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَ اٰلہٖ وَ سَلَّم اور آپ کے اہل و عیال نے کبھی تین دن برابر گیہوں کی روٹی شکم سیر ہو کر نہیں کھائی اور نہ ہی کبھی آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَ اٰلہٖ وَ سَلَّم کے لئے آٹا چھان کر پکایا گیا۔ ایک دفعہ مدینۂ منورہ زادھااللہ شرفًاو تعظیماً میں بھوک نے بہت ستایا تو میں مزدوری کے لئے نکلا، دیکھا کہ ایک عورت مٹی کے ڈھیلوں کو جمع کر کے ان کو بھگونا چاہتی تھی میں نے اس سے فی ڈول ایک کھجور اجرت طے کی اور سولہ ڈول ڈال کر اس مٹی کو بھگودیا یہاں تک کہ میرے ہاتھوں میں چھالے پڑ گئے پھر وہ کھجوریں لے کر میں حضور اکرم، نور مُجَسَّم، شاہ بنی آدم، رسولِ مُحتَشَم، شافِعِ اُمَمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَ اٰلہٖ وَ سَلَّم کے حضور حاضر ہوا اور سارا واقعہ بیان کیا تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَ اٰلہٖ وَ سَلَّم نے بھی ان میں سے کچھ کھجوریں تناول فرمائیں ۔ (تذکرۃ الخواص ، الباب الخامس، ص۱۱۲ ، فیضانِ سنّت، ۱/۳۶۹)
اللہ عَزَّوَجَلَّ کی ان پر رحمت ہو اور ان کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔
صَلُّوْ ا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! امیرالمؤمنینحضرت مولائے کائنات، علی المرتضیٰ شیر خدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجھَہُ الْکَرِیم کی سادگی پر ہماری جان قربان ہو۔ اتنی اتنی مشقتیں برداشت کرنے کے باوجود زبان پر کبھی حرف شکایت نہ لاتے ۔ غذا کے ساتھ ساتھ آپ کا لباس بھی انتہائی سادہ ہوا کرتا تھا۔ ایک بار آپ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجھَہُ الْکَرِیم کی خدمت میں عرض کی گئی، آپ اپنی قمیص میں پیوند کیوں لگاتے ہیں ؟ فرمایا: یَخْشَعُ الْقَلْبُ وَ یَقْتَدِی بِہِ الْمُؤْمِنُ یعنی اس سے دل میں خشوع پیدا ہوتا ہے اور اس سے لوگ بندۂ مومن کی اِقتدا کرتے ہیں۔ (حلیۃ الاولیاء، علی بن ابی طالب، ۱/۱۲۴، رقم: ۲۵۴)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! غُربَت اللہ عَزَّوَجَلَّ کی نعمت ، نبیِّ رحمت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَ اٰلہٖ وَ سَلَّمکی چاہت، بَہُت ساری فضیلت اور بے شمار فوائِد کا پیش خیمہ ہے، اِسی وجہ سے اللہ والوں نے غُربت کو پسند فرمایاجیسا کہ
حضرتِ سیِّدُنا اِبراہیم بن بَشَّارعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفّار فرماتے ہیں: میں حضرتِ سیِّدُنا ابراہیم بن اَدْہَمعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم کے ہمراہ سفَر پر تھا اورہم دونوں روزے سے تھے، مگر ہمارے پاس اِفطار کے لئے کچھ نہ تھااور نہ ہی کوئی ایسے ظاہِری اَسباب نظَر آرہے تھے کہ جن سے اِفطاری کا اِنْتِظام کیا جا سکے۔ میری اِس فکْر کو دیکھ کر حضرتِ سیِّدُنا ابراہیم بن اَدْہَم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم نے ارشاد فرمایا: ’’ اے اِبنِ بَشّار (عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّار) ! اللہ عَزَّوَجَلَّنے غریبوں اور مِسکینوں کو دنیا و آخرت میں کس قدَر نعمتوں اور راحتوں سے سرفراز فرمایا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع