30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جب کوئی کپڑے اُتارے تو بِسْمِ اللہکہہ لے (اَلْمُعْجَمُ الْاَ وْسَط، ج۲، ص۵۹، حدیث: ۲۵۰۴) مُفَسّرِشہیرحکیمُ الْاُمَّت حضر ت ِ مفتی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الحَنَّانفرماتے ہیں : جیسے دیوار اور پردے لوگوں کی نگاہ کیلئے آڑ بنتے ہیں ایسے ہی یہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کا ذکر جنّات کی نگاہوں سے آڑ بنے گا کہ جنات اس (یعنی شرمگاہ ) کو دیکھ نہ سکیں گے (مراٰۃ ج۱ ص ۲۶۸ ) ٭ جو شخص کپڑا پہنے اور یہ پڑھے : اَلْحَمْدُلِلّٰہِ الَّذِیْ کَسَانِیْ ھٰذَا وَرَزَقَنِیْہِ مِنْ غَیْرِحَوْلٍ مِّنِّیْ وَلَا قُوَّۃٍ ([1]) تواس کے اگلے پچھلے گناہ مُعاف ہوجائیں گے (شُعَبُ الْاِیمان ج۵ ص۱۸۱ حدیث۶۲۸۵) ٭جو باوُجُودِ قدرت زیب وزینت کالباس پہننا تواضُع (یعنی عاجِزی) کے طور پر چھوڑ دے ، اللہ عَزَّوَجَلَّاس کو کرامت کا حُلّہ پہنائے گا (ابوداوٗد ج۴ص۳۲۶حدیث ۴۷۷۸) ٭خاتَمُ الْمُرْسَلین، رَحمَۃٌ لّلْعٰلمین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَ اٰلہٖ وَ سَلَّمکا مبارَک لباس اکثر سفید کپڑے کا ہوتا (کَشْفُ الاِلْتِباس فِیاسْتِحْبابِ اللِّباس لِلشَّیْخ عبدالْحَقّ الدّھلَوی ص۳۶) ٭لباس حلال کمائی سے ہو اور جو لباس حرام کمائی سے حاصل ہوا ہو، اس میں فرض ونَفل کوئی نَماز قَبول نہیں ہوتی ( اَیضاًص۴۱) ٭مَنْقُول ہے: جس نے بیٹھ کر عمامہ باندھا ، یا کھڑے ہو کرسَراوِیل (یعنی پا جا مہ یا شلوار ) پہنی تواللہ عَزَّوَجَلَّاُسے ایسے مَرَض میں مبتَلا فرمائے گا جس کی دواء نہیں (اَیضاً ص ۳۹) ٭ پہنتے وَقت سیدھی طرف سے شروع کیجئے (کہ سنت ہے) مَثَلاً جب کُرتا پہنیں تو پہلے سیدھی آستین میں سیدھا ہاتھ داخل کیجئے پھر اُلٹا ہاتھ اُلٹی آستین میں (اَیضاً۴۳) ٭اِسی طرح پاجامہ پہننے میں پہلے سیدھے پائنچے میں سیدھا پاؤں داخِل کیجئے اور جب (کُرتا یا پاجامہ) اُتارنے لگیں تو اس کے برعکس (اُلٹ) کیجئے یعنی اُلٹی طرف سے شروع کیجئے ٭دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ 1197 صَفحات پر مشتمل کتاب ، ’’ بہارِ شریعت ‘‘ جلد 3صَفْحَہ409پر ہے: سنت یہ ہے کہ دامن کی لمبائی آدھی پنڈلی تک ہو اور آستین کی لمبائی زیادہ سے زیادہ انگلیوں کے پَورَوں تک اور چوڑائی ایک بالِشت ہو (رَدُّالْمُحتار ج ۹ ص ۵۷۹) ٭ سنت یہ ہے کہ مرد کا تہبند یا پاجامہ ٹخنے سے اُوپر رہے (مراٰۃ ج۶ص۹۴) ٭مرد مردانہ اور عورت زَنانہ ہی لباس پہنے۔چھوٹے بچّوں اور بچیوں میں بھی اِس بات کا لحاظ رکھئے ٭د عوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ 1250 صَفحات پر مشتمل کتاب ، ’’ بہارِ شریعت‘‘ جلد اوّل صَفْحَہ 481پر ہے: مرد کے لیے ناف کے نیچے سے گھٹنوں کے نیچے تک ’’ عورَت‘‘ ہے، یعنی اس کا چھپانا فرض ہے۔ ناف اس میں داخِل نہیں اور گھٹنے داخِل ہیں ۔ (دُرِّمُختار، رَدُّالْمُحتار ج۲ص۹۳) اس زمانے میں بَہُتَیرے ایسے ہیں کہ تہبند یا پاجامہ اِس طرح پہنتے ہیں کہ پَیڑُو (یعنی ناف کے نیچے) کا کچھ حصہ کھلا رہتا ہے، اگر کُرتے وغیرہ سے اِس طرح چھپا ہو کہ جِلد (یعنی کھال) کی رنگت نہ چمکے تو خیر، ورنہ حرام ہے اورنَمازمیں چوتھائی کی مِقدارکھلا رہا تونَماز نہ ہوگی (بہار شریعت) خصوصاً حج و عمرے کے اِحرام والے کو اِس میں سخت احتیاط کی ضرورت ہے ٭آج کل بعض لوگ سرِ عام لوگوں کے سامنے نیکر ( ہاف پینٹ) پہنے پھرتے ہیں جس سے ان کے گھٹنے اور رانیں نظر آتی ہیں یہ حرام ہے، ایسوں کے کھلے گھٹنوں اور رانوں کی طرف نظر کرنا بھی حرام ہے ۔ بالخصوص کھیل کود کے میدان ، ورزِش کرنے کے مقامات اور ساحلِ سمندر پر اِس طرح کے مناظر زیادہ ہوتے ہیں ۔ لہٰذا ایسے مقامات پر جانے میں سخت احتیاط ضروری ہی٭ تکبُّر کے طور پر جو لباس ہو وہ ممنوع ہے۔ تکبُّر ہے یا نہیں اِس کی شَناخت یوں کرے کہ ان کپڑوں کے پہننے سے پہلے اپنی جو حالت پاتا تھا اگر پہننے کے بعد بھی وُہی حالت ہے تو معلوم ہوا کہ ان کپڑوں سے تکبُّر پیدا نہیں ہوا۔ اگر وہ حالت اب باقی نہیں رہی تو تکبُّر آگیا۔ لہٰذا ایسے کپڑے سے بچے کہ تکبُّر بَہُت بُری صِفَت ہے۔ (بہارِ شریعت ج۳ص۴۰۹ ، رَدُّالْمُحتارج ۹
[1] ترجمہ: تمام تعریفیں اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کے لیے جس نے مجھے یہ کپڑاپہنایا اور میری طاقت وقوت کے بغیر مجھے عطا کیا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع