30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اعضا جسم کی ہَیْئَت(یعنی صورت و گولائی)اور سینے کا اُبھار وغیرہ ظاہِر ہو ۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!داڑھی مُنڈانا یا ایک مٹّھی سے گھٹانا دونوں کام حرام ہیں ۔ سیِّدُنا امام مسلِم رَحْمَۃُ اللہِ تعالٰی علیہ نَقْل کرتے ہیں ، اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غُیُوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عبرت نشان ہے : ’’مُونچھیں خوب پَست کرو اور داڑھیوں کومُعافی دو (یعنی بڑھنے دو ) اور مَجوسیوں (یعنی آتَش پرستوں ) جیسی صورت مت بناؤ ۔ ‘‘ ( مُسلِم ص۱۵۴حدیث۲۶۰) اِس فرمانِ والا شان میں مسلمان کی غیرت کو للکار ہے ، کیسی عجیب وغریب بات ہے کہ دعویٰ مَحَبَّتِ مصطَفیٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا کرے اور شکل و صورت دشمنانِ مصطَفٰے جیسی بنائے ۔ ؎
سرکار کا عاشِق بھی کیا داڑھی مُنڈاتا ہے ؟
کیوں عِشق کا چِہرے سے اظہار نہیں ہوتا؟
پردے میں رَہ کر مجھے سننے والی اسلامی بہنو ! تم بھی سنو ! بے پردَگی حرام ہے ، غَیر مردوں کوبَشَہوت دیکھنا حرام ہے اورفِعلِ حرام جہنَّم میں لے جانے والا کام ہے ۔ چچا زاد، تایا زاد، پھوپھی زاد ، خالہ زاد، ماموں زاد، چچی ، تائی ، مُمانی ان سب کا پردہ ہے ، بھابھی اور دیور و جیٹھ کا پردہ ہے ، سالی اور بہنوئی کا پردہ ہے حتّٰی کہ نامحرم پیر اورمُریدنی کابھی پردہ ہے ، مُریدَنی اپنے پِیر صاحِب کا ہاتھ نہیں چوم سکتی ، سر کے بالوں پر مرشِد سے ہاتھ نہیں پِھرواسکتی، لڑکی جب نو برس کی ہو اُس کو پردہ شروع کروائیے اور لڑکا جب بارہ برس کا ہوجائے اُسے عورَتوں سے بچائیے ۔
ناجائز فیشن کرنے والوں کا انجام
سرکارِ مدینہ ، راحَتِ قلب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا : (مِعراج کی رات) میں نے کچھ مَردوں کو دیکھا جن کی کھالیں آگ کی قَینچیوں سے کاٹی جارہی تھی ، میں نے کہا : یہ کون ہیں ؟جبرئیلِ امین (عَلَيْهِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام) نے بتایا : یہ لوگ ناجائز اَشیاء سے زِینت حاصل کرتے تھے ۔ اورمیں نے ایک بدبودار گڑھا دیکھا جس میں شوروغَوغا برپا تھا، میں نے کہا : یہ کون ہیں ؟تو بتایا : یہ وہ عورَتیں ہیں جو ناجائز اَشیاء سے زِینت حاصل کرتی تھیں ۔ (تاریخِ بغداد ج۱ ص۴۱۵) یاد رکھئے !نَیل پالِش کی تہ ناخُنوں پرجَم جاتی ہے لہٰذا ایسی حالت میں وضو کرنے سے نہ وُضو ہوتا ہے نہ ہی نہانے سے غسل اُترتا ہے ، جب وُضو وغسل نہ ہو تو نَماز بھی نہیں ہوتی، اسلامی بہنوں کی خدمت میں میرا مَدَنی مشورہ ہے کہ مَدَنی بُرقع اَوڑھا کریں ، نیز ایسے دستانوں اور جُرابوں کا اِہتِمام فرمائیں جن میں سے ہاتھ پاؤں کی رنگت نہ جَھلکتی ہو ، غیر مَردوں کے آگے اپنی ہتھیلیاں اور پاؤں کے پنجے بھی ہر گز ظاہِر نہ کیا کریں ۔
اگر خدانخواستہ نَماز روزے رَہ گئے ہیں تو اُن کا حِساب لگاکر قضا عُمری فرمالیجئے ، اور تاخیر کی توبہ بھی کرلیجئے ، نَماز کی قضا عُمری کاآسان طریقہ معلوم کرنے کے لیے دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ کتاب، ’’ نماز کے احکام‘‘ ہَدِیَّۃً حاصِل کر لیجئے ۔ اس میں وُضو ، غسل ، نَماز اور قضا عُمری وغیرہ کے وہ اَہَمترین اَحکام بیان کیے گئے ہیں کہ پڑھ کر شاید آپ بول اُٹھیں ، افسوس ! اب تک وُضو و غسل اور نَماز کی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع