30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مَضَی الدَّھْرُ وَالْأَیَّامُ وَالذَّنْبُ حَاصِلٌ وَجَاءَ رَسُوْلُ الْمَوْتِ وَالْقَلْبُ غَافِلٌ
نَعِیْمُکَ فِی الدُّنْیَا غُرُوْرٌ وَّحَسْرَۃٌ وَعَیْشُکَ فِی الدُّنْیَا مُحَالٌ وَّبَاطِلٌ
ترجَمۂ اَشعار : {۱} وقت اور دن گزر گئے مگر گناہ باقی ہیں ، موت کا فِرِشتہ آپہنچا اور دل غافِل ہیں {۲}تجھے دنیا میں ملنے والی نعمتیں دھو کا اور تیرے لیے باعثِ حسرت ہیں اور دنیا میں دائمی یعنی ہمیشہ باقی رہنے والی راحتیں پانے کا تصوُّرتیری خام خیالی(یعنی غلط فہمی) ہے ۔ (ایضاً ص۲۲)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! معلوم ہوا کہ موت کے آنے سے پہلے مَلَکُ الْموت عَلَيْهِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام اپنے قاصد بھیجتے ہیں ۔ بیان کردہ تین قاصِدِین کے علاوہ بھی احادیثِ مبارکہ میں مزید قاصد ین کا تذکِرہ ملتا ہے ۔ چُنانچِہ مَرَض ، کانوں اور آنکھوں کا تَغَیُّر (یعنی پہلے نظر اچّھی ہونا پھر کمزور پڑ جانا اور سننے کی طاقت کی دُرُستی کے بعد بہرا پن کی آمد ) بھی موت کے قاصد ہیں ۔ ہم میں سے بَہُت سے لوگ ایسے ہوں گے جن کے پاس مَلکُ الْموت عَلَيْهِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کے قاصِد تشریف لاچکے ہوں گے مگر کیا کہیے اِس غفلت کا! اگر سیاہ بالوں کے بعد سفید بال ہونے لگتے ہیں حالانکہ یہ موت کا قاصد ہے مگر بندہ اپنے دل کو ڈھارس دینے کے لیے کہتا ہے کہ یہ تو نَزلے سے بال سفید ہوگئے ہیں !اِسی طرح بیماری جو کہ موت کانُمایاں قاصِدہے مگر اس میں بھی سراسر غفلت برتی جاتی ہے حالانکہ ’’بیماری‘‘ہی کے سبب روزانہ بے شمار افراد موت کا شکار ہوتے ہیں !مریض کو تو بَہُت زیادہ موت یاد آنی چاہئے کہ کیا معلوم جو بیماری معمولی لگ رہی ہے وُہی مُہْلِک صورت اختیا ر کرکے آن کی آن میں فنا کے گھاٹ اُتار دے پھر اپنے روئیں دھوئیں ، دشمن خوشیاں منائیں اورمرنے والا موت سے غافِل مریض مَنوں مِٹّی تلے اندھیری قبر میں جا پڑے !آہ!اب مرنے والا ہوگا اور اُس کے اچھّے بُرے اعمال ۔
اے آج کے جنابو اور کل کے مرحومو!یاد رکھئے ! جوگناہوں پر اَڑا رہا وہ راستہ بھول گیا، غفلتوں اور بے عملیوں کی تاریکیوں میں بھٹک گیااور خدا و مصطَفٰے عَزَّ وَجَلَّ و صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی ناراضیوں کی صورت میں قبر و آخِرت کے عذابوں میں پھنس کر رہ گیا، اب پچھتانے اور سر پچھاڑنے سے کچھ ہاتھ نہیں آئے گا، اب بھی موقع ہے جلد تر اپنے گناہوں سے سچّی توبہ کرکے نَمازوں ، رَمضانُ المبارَک کے روزوں اور سنّتوں بھری زندگی گزارنے کا عَہد کرلیجئے ۔ سنئے ! سنئے ! سرکارِمدینہ ، راحتِ قلب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عبرت نشان ہے : جو کوئی ایک نَماز بھی قَصدًاترک کر دے گا، اُس کا نام جہنَّم کے اُس دروازے پر لکھ دیا جائے گا جس سے وہ جہنَّم میں داخِل ہوگا ۔ (حِلْیَۃُ الْاولیاء ج۷ ص ۲۹۹ حدیث۱۰۵۹۰)اسی طرح ایک اورحدیثِ پاک میں ارشاد ِ عبرت بنیاد ہے : جو ماہ رَمَضان کا ایک روزہ بھی بِلاعُذْرِشَرْعی ومَرَض قَضا کردیتاہے تو زمانے بھر کے روزے اُسکی قَضا نہیں ہوسکتے اگرچِہ بعد میں رکھ بھی لے ۔ (تِرمِذی ج۲ ص۱۷۵ حدیث۷۲۳)
عورتوں کو تاڑنے والوں ، اَمردوں کے ساتھ بدنِگاہی کرنے والوں ، فلمیں ڈِرامے دیکھنے والوں ، گانے باجے اور غیبتیں سننے والوں کو چاہئے کہ جھٹ توبہ کریں ورنہ یقینا عذاب سہا نہ جائیگا، منقول ہے : جو کوئی اپنی آنکھوں کو نَظَرِحرام سے پُر کرے گا قِیامت کے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع