30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
میٹھے میٹھے اسلامی بھا ئیو! اِس حِکایت میں کس قَدَر عبر ت ہے ۔ ذرا ان اللہ والوں کو دیکھئے جن کا ہر لمحہ یادِ الٰہی عَزَّوَجَل میں بسر ہوتا ہے مگر پھر بھی انکِساری کاعالَم یہ ہے کہ اپنی عبادات و رِیاضات کو کسی خاطِر میں نہیں لاتے اور اللہ عَزَّوَجَل کی بے نیازی اور اُس کی خفیہ تدبیر سے ڈرتے ہوئے گِریہ وزاری کرتے ہیں ۔ اُن غفلت کے ماروں پر صَدکروڑ افسوس کہ نیکی کے نُون کا نُکتہ تک جن کے پلّے نہیں ، اِخلاص کا دُور دُور تک نام و نشان نہیں مگر حال یہ ہے کہ اپنی عبادَتوں کے بُلند بانگ دعو ے کرتے نہیں تھکتے ! اللہ عَزَّوَجَل کے نیک بندے گنا ہو ں سے محفوظ ہونے کے باوُجُود خوفِ الٰہی عَزَّوَجَل سے تھر تھراتے کپکپاتے اور ٹَپ ٹَپ آنسو گراتے ہیں ، مگر غفلت شِعار بندوں کا حال یہ ہے کہ بے دھڑک معصیَت کا سلسلہ چلاتے ، اپنے گناہوں کا عام اعلان سُناتے اور پھر اس پر زور زور سے قَہقَہے لگاتے ذرا نہیں لجاتے ، کان کھول کر سنئے ! حضرتِ سیِّدُنا ابن عبّاس رضی اللہ تعالٰی عنہما فرماتے ہیں : ’’جو ہنس ہنس کر گناہ کرے گا وہ روتا ہوا جہنّم میں داخِل ہوگا ۔ ‘‘ (مُکاشَفۃُ الْقُلوب ص۲۷۵)
اگر ایمان برباد ہو گیا تو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
ہنس ہنس کرجھوٹ بولنے والوں ، ہنس ہنس کر وعدہ خِلافی کرنے والو ں ، ہنس ہنس کر ملاوٹ والا مال بیچنے والوں ، ہنس ہنس کر فلمیں ڈِرامے دیکھنے والوں اور گانے باجے سننے والوں ، ہنس ہنس کر مسلمانوں کو ستانے اور بِلااِجازتِ شَرعی اُن کی دل آزاریاں کرنے والوں کیلئے لمحۂ فکریہ ہے ، اگر اللہ عَزَّ وَجَلَّ ناراض ہوگیا اور اُس کے پیارے مَحبوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم روٹھ گئے اور غفلت کے سبب دِیدہ دلِیری کے ساتھ ہنس ہنس کرگناہوں کا اِرتِکاب کرنے کے باعث ایمان برباد ہوگیا اور جہنَّم مقدَّر بن گیا تو کیا بنے گا! ذرا دل کے کانوں سے خُدا ئے رَحمٰن عَزَّ وَجَلَّ کا فرمانِ عبر ت نشان سنئے !چُنانچِہ پارہ 10 سُوْرَۃُ التَّوْبَہ کی آیت82 میں ارشاد ہو تا ہے :
فَلْیَضْحَكُوْا قَلِیْلًا وَّ لْیَبْكُوْا كَثِیْرًاۚ-ترجمۂ کنز الایمان : تو انہیں چاہیے کہ تھوڑا ہنسیں اور بَہُت روئیں ۔
مَنقول ہے : حضرتِ سیِّدُنا یعقوب عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام اور حضرتِ سیِّدُنا عزرائیل مَلَکُ الْموت عَلَيْهِالصَّلٰوۃُ وَالسَّلام میں دوستی تھی ۔ ا یک بارجب حضرتِ سیِّدُنا مَلَکُ الْموت عَلَيْهِالصَّلٰوۃُ وَالسَّلام آئے تو حضرت سیِّدُنا یعقوب عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے اِسْتِفسار فرمایا کہ آپ ملاقات کے لیے تشریف لائے ہیں یا میری رُوح قبض کرنے کے لیے ؟ کہا : ملاقات کے لیے ۔ فرمایا : مجھے وفات دینے سے قبل میرے پاس اپنے قاصد بھیج دینا ۔ مَلَکُ الْموت عَلَيْهِالصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے کہا : میں آپ کی طرف دو یا تین قاصد بھیج دوں گا ۔ چُنانچِہ جب رُوح قَبض کرنے کے لیے مَلَکُ الْموت عَلَيْهِالصَّلٰوۃُ وَالسَّلام آئے تو آپ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے ارشاد فرمایا : آپ نے میری وفات سے قبل قا صِد بھیجنے تھے وہ کیا ہوئے ؟ حضرتِ سیِّدُ نا مَلَکُ الْموت عَلَيْهِالصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے کہا : سیاہ یعنی کالے بالوں کے بعد سفید بال ، جِسمانی طاقت کے بعد کمزوری اور سیدھی کمر کے بعدکمرکا جُھکاؤ ، اے یعقوب (عَلَیْہِ السَّلام) !موت سے پہلے انسان کی طرف میرے قاصد ہی تو ہیں ۔ (مُکاشَفۃُ الْقُلوب ص۲۱)
ایک عَرَبی شاعر کے ان دو اشعار میں کس قَدَر عبرت ہے : ؎
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع