30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
رب! تُونے مجھے تھوڑی مدّت تک کیوں مُہْلَت نہ دی کہ میں صَدَقہ دیتا اور نیکوں میں ہوتا، اور ہرگزاللہ (عَزَّ وَجَلَّ)کسی جان کو مُہْلَت نہ دے گا جب اُسکا وعدہ آجائے اور اللہ (عَزَّ وَجَلَّ) کو تمہارے کاموں کی خبر ہے ۔
دِلا غافِل نہ ہو یک دَم یہ دنیا چھو ڑ جانا ہے بغیچے چھوڑ کر خالی زمیں اندر سمانا ہے
تِرا نازُ ک بدن بھائی جو لیٹے سَیج پھولوں پر یہ ہوگا ایک دن بے جاں اِسے کِرموں([1])؎ نے کھانا ہے
تُو اپنی موت کو مت بھول کر سامان چلنے کا زمیں کی خاک پر سونا ہے اِینٹوں کا سِرہانا([2])؎ ہے
نہ بَیلی([3])؎ ہو سکے بھائی نہ بیٹا باپ تے مائی([4])؎ تُوکیوں پھرتا ہے سَودائی([5])؎ عمل نے کام آناہے
کہاں ہے زَورِ نَمرودی ! کہاں ہے تختِ فِرعونی ! گئے سب چھوڑ یہ فانی اگر نادان دانا ہے
عزیزا! یاد کر جس دن کہ عِزرائیل آویں گے نہ جاوے کوئی تیرے سَنگ اکیلا تُونے جانا ہے
جہاں کے شَغل ([6])؎میں شاغِل ([7])؎ خداکے ذِکْر سے غافِل کرے دعوٰی کہ یہ دنیا مِرا دائم([8])؎ ٹِھکانہ
غُلامؔ اِک دَم نہ کر غفلت حیاتی([9])؎ پر نہ ہو غَرَّہ([10])؎ خدا کی یاد کر ہر دم کہ جس نے کام آنا ہے
’’ مُکاشَفۃُ الْقُلُوب‘‘ میں ہے : حضرتِ سیِّدُنا شیخ ابوعلی دَقّاق عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الرَّزَّاق فرماتے ہیں : ایک بَہُت بڑے ولیُّ اللہ رَحْمَۃُ اللہِ تعالٰی علیہ سخت بیمار تھے ، میں عِیادت کے لیے حاضِر ہوا، اِردگرد مُعتَقِدین کا ہُجُوم تھا، وہ بُزُرگ رَحْمَۃُ اللہِ تعالٰی علیہ رو رہے تھے ۔ میں نے عرض کی : اے شیخ! کیا دنیا چُھوٹنے پر رو رہے ہیں ؟ فرمایا : نہیں ، بلکہ نَمازیں قضا ہونے پر رَو رہا ہوں ۔ میں نے عرض کی : حُضُور! آپ کی نمازیں کیونکر قضا ہوگئیں ؟ فرمایا : میں نے جب بھی سَجدہ کیا تو غفلت کے ساتھ اور جب سَجدہ سے سر اٹھایا تو غفلت کے ساتھ اور اب غفلت ہی میں موت سے ہم آغوش ہورہا ہوں، پھر ایک آہِ سَرد دلِ پُردرد سے کھینچ کر چارعَرَبی اَشعار پڑھے جن کا ترجَمہ یہ ہے : {1} میں نے اپنے حَشر ، قِیامت کے دن اورقبر میں اپنے رُخسار کے پڑا ہونے کے بارے میں غور کیا {2} اِتنی عزّت و رِفعت کے بعد میں اکیلا پڑا ہوں گا اور اپنے جُرم کی بِناء پر رَہن (یعنی گِروی)ہوں گا اورخا ک ہی میرا تکیہ ہوگی{3} میں نے اپنے حساب کی طَوالت اور نامۂ اعمال دیئے جانے کے وَقْت کی رُسوائی کے بارے میں بھی سوچا {4} مگر اے مجھے پیدا کرنے والے اور مجھے پالنے والے ! مجھے تجھ سے رَحمت کی اُمّید ہے ، تُو ہی میری خطاؤں کو بخشنے والا ہے ۔ (مُکاشَفۃُ الْقُلوب ص۲۲)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع