30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جواب:فقہِ حنفی کے مطابق سیپ (oyster) کھانا اور اس کا سُوپ پینا حرام ہے، کیونکہ یہ آبی حیوانات میں سےہے اور فقہائے احناف کے نزدیک مچھلی کے علاوہ پانی کا کوئی بھی حیوان حلال نہیں ہے۔امام کاسانی حنفی رحمۃُ اللہ علیہ (متوفی 587ھ) بدائع الصنائع میں فرماتے ہیں: ”مچھلی کے سوا تمام سمندری حیوانات کا کھانا حرام ہے اورہمارے اصحاب کایہی قول ہے۔(1)
اعلیٰ حضرت رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں :’’سیپ کا کھانا حرام ہے“(2)۔(3)
سوال: کیاگھونگا (Snail)کھانا حلال ہے؟ کچھ مسلمان اس کا سوپ بناتے ہیں۔
جواب:گھونگے (Snail) بلوں اور صحراؤں سے لے کر سمندر کی عمیق گہرائیوں تک مختلف جگہوں پر پائے جاتے ہیں ۔ ان کی اکثریت آبی ہوتی ہے جو میٹھے اور کھارے پانی میں پائی جاتی ہے۔ فقہ حنفی کے مطابق سمندری جانوروں میں مچھلی کے علاوہ کوئی بھی جانور حلال نہیں ہے، اور گھونگا (Snail)مچھلی نہیں ہے۔لہٰذا گھونگا کھانا یا اس کا سوپ پینا جائز نہیں ہے۔ نیز اگر خشکی کا گھونگا ہو تب بھی اس کاکھانا جائز نہیں ،کیونکہ یہ حشرات الارض میں سے ہے، جس کاکھانا حرام ہے خواہ وہ حشرات تری کے ہوں یاخشکی کے۔جیسے مینڈک ، کچھوا ، کیکڑا اور چوہا وغیرہ۔ علّامہ بدر الدین عینی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں :” ہمارے نزدیک سمندری جانوروں میں سے مچھلی کے علاوہ کسی جانور مثلاًکیکڑے کا کھانا مکروہ (تحریمی)ہے۔(4)
اعلیٰ حضرت رحمۃُ اللہ علیہ فتاویٰ رضویہ میں ارشادفرماتے ہیں : تحقیقِ مقام یہ ہے کہ
[1] ...بدائع الصنائع،کتاب الذبائح والصیود،6/183
[2] ...فتاوی رضویہ، 21/664
[3] ...فتویٰ دار الافتا اہلسنت ، ریفرینس نمبر:WAT-2293 (غیر مطبوعہ )
[4] ...بنایہ شرح ہدایہ، کتاب الذبائح ،فصل فیما یحل اکلہ... الخ ،10/722، دار الفكر
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع