دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fiqhi Ahkam Main Niyat Ki Haisiyat | فقہی احکام میں نیت کی حیثیت

talaq aur niyyat kay baray mein aham bayan

book_icon
فقہی احکام میں نیت کی حیثیت
            

طلاق اورنیت:

طلاق کے دوقسم کے الفاظ ہیں : (۱)ایک صریح، اور(۲)دوسرے کنایہ ۔

(۱) صریح اورنیت:

صریح ،نیت کے محتاج نہیں ہوتے، بلکہ اگران سے کوئی دوسری نیت کرے بھی توقضاءمعتبرنہیں ہوتی۔

صریح الفاظ میں نیت ضروری نہ ہونے پرفوائدواحکام:

طلاق کے صریح الفاظ میں نیت ضروری نہیں ہے لہذا(الف) غفلت میں طلاق دے، یا(ب)بھول کر، یا(ج)خطاوغلطی سے،یعنی کہناکچھ چاہتاتھازبان پھسل گئی اوربیوی کے متعلق الفاظ طلاق نکل گئے مثلابیوی سے پانی کامطالبہ کرناچاہتاتھا،زبان سے غلطی سے الفاظ طلاق نکل گئے،یا(د)مذاق میں، یا(ہ)نشے میں طلاق دے، بہرصورت طلاق واقع ہوجاتی ہے۔ (و)یہاں تک کہ الفاظ مصحفہ، یعنی جوالفاظِ طلاق بگاڑدئیے گئے ان، سے بھی طلاق واقع ہوجاتی ہے ۔ملتقی الابحرمیں ہے:" صريحه ما استعمل فيه خاصة ولا يحتاج إلى نية وهو أنت طالق ومطلقة وطلقتك "ترجمہ: طلاق کے صریح الفاظ وہ ہیں جو خاص طلاق کے لیے ہی استعمال ہوں اور یہ نیت کے محتاج نہیں ہوتے جیسے تو طلاق والی ہے ،تو طلاق یافتہ ہے اور میں نے تجھے طلاق دی ۔ (ملتقی الابحرمع مجمع الانھر،کتاب الطلاق، باب ایقاع الطلاق،ج02،ص11،کوئٹہ) فتح القدیرمیں ہے:" لو قال: أنت طالق ثم قال: نويت من وثاق لا يصدق في القضاء لأنه خلاف الظاهر "ترجمہ:اگر کہا :تو طلاق والی ہے پھر کہا :میں نے یہ نیت کی تھی کہ تو بندش سے آزاد ہے تو قضاء اس کی تصدیق نہیں کی جائے گی کیونکہ یہ خلاف ظاہر ہے ۔ (فتح القدیر،کتاب الطلاق،ج04،ص61،کوئٹہ) درمختارمیں ہے:"( ويقع طلاق كل زوج بالغ عاقل ) ولو تقديرا بدائع، ليدخل السكران ( ولو عبدا أو مكرها ) ۔۔۔ ( أو هازلا ) لا يقصد حقيقة كلامه ( أو سفيها ) ۔۔۔ ( أو مخطئا ) بأن أراد التكلم بغير الطلاق فجرى على لسانه الطلاق أو تلفظ به غير عالم بمعناه أو غافلا أو ساهيا -۔۔۔ أو بألفاظ مصحفة يقع قضاء فقط، بخلاف الهازل واللاعب فإنه يقع قضاء وديانة لأن الشارع جعل هزله به جدا فتح "ترجمہ:ہر عاقل بالغ شوہر کی طلاق واقع ہوجاتی ہے اگرچہ تقدیرا عاقل ہو ،بدائع (تقدیرا اس لیے کہا)تاکہ نشہ والا اس میں داخل ہوجائے ،اگرچہ غلام ہو یا مکرہ ہو یا مذاق کرنے والا ہو جو اپنے کلام کے حقیقی معنی کا قصد نہیں کرتا ،یا سفیہ ہو یا خطا کرنے والا ہو بایں طور کہ اس نے طلاق کے علاوہ الفاظ کہنے کا ارادہ کیا لیکن اس کی زبان پر طلاق کے الفاظ جاری ہوگئے یا اس نے الفاظ طلاق اس حالت میں کہے کہ اسے ان کا معنی معلوم نہیں تھا یا وہ معنی سے غافل تھا یا بھول چکا تھا یا اس نے الفاظ بگاڑ کر کہے تو فقط قضاء واقع ہوجائے گی برخلاف مذاق اور کھیل کود والے کے کہ ان کی قضاء اور دیانۃ دونوں طرح واقع ہوجائے گی کیونکہ شارع علیہ السلام نے طلاق کے مذاق کو سنجیدگی قرار دیا ہے ۔فتح۔ (الدرالمختارمع ردالمحتار،کتاب الطلاق،ج04،ص427تا436،کوئٹہ) الاختیارلتعلیل المختارمیں ہے:" وكذلك إذا أراد غير الطلاق فسبق لسانه بالطلاق وقع، لأنه عدم القصد وهو غير معتبر فيه. وروى هشام عن محمد عن أبي حنيفة أن من أراد أن يقول لامرأته اسقني الماء فقال أنت طالق، وقع. "ترجمہ : اور اسی طرح جب طلاق کے علاوہ کسی چیز کا ارادہ کیا لیکن سبقت لسانی سے الفاظ طلاق نکل گئے تو طلاق واقع ہوگئی کیونکہ یہ قصد کا نہ ہونا ہے اور طلاق میں قصد معتبر نہیں ہے (یعنی طلاق میں قصد ہونا ضروری نہیں )اورحضرت ہشام نے امام محمد سے‘ انھوں نے امام ابو حنیفہ رحمہم اللہ تعالی سے روایت کیا کہ جس نے اپنی بیوی سے یہ کہنا چاہا:’’ مجھے پانی پلادو‘‘لیکن یہ کہہ دیا:’’ تو طلاق والی ہے‘‘ تو طلاق واقع ہوگئی ۔ (الاختیارلتعلیل المختار،کتاب الطلاق، حکم طلاق المکرہ الخ،ج03،ص156،کراچی)

طلاق اوربیوی کاقصد:

ہاں!یہ یادرہے کہ طلاق واقع ہونے کے لیے الفاظِ طلاق سے عورت کاقصدکرناضروری ہے۔ اگرمسائل طلاق کی تکرارکرتے ہوئے یہ جملہ کہا:"میری بیوی طلاق والی ہے"اس سےاپنی بیوی کوطلاق دینامقصودنہیں تھا، یاکسی اورطرح حکایت کی اوراپنی بیوی مرادنہیں ، تواس سے طلاق نہیں ہوگی ۔ردالمحتارمیں ہے:" لا بد في وقوعه قضاء وديانة من قصد إضافة لفظ الطلاق إليها عالما بمعناه ولم يصرفه إلى ما يحتمله كما أفاده في الفتح، وحققه في النهر، احترازا عما لو كرر مسائل الطلاق بحضرتها، أو كتب ناقلا من كتاب امرأتي طالق مع التلفظ، أو حكى يمين غيره فإنه لا يقع أصلا ما لم يقصد زوجته "ترجمہ:طلاق کے قضاء اور دیانتا(دونوں طرح)واقع ہونے کے لیے لفظ طلاق کا معنی جانتے ہوئے اس لفظ کی بیوی کی طرف اضافت کا قصدکرنا ضروری ہےاوریہ بھی ضروری ہے کہ اس نے اس لفظ سے کوئی اورایسا معنی مراد نہ لیا ہوجس کالفظ احتمال رکھتاہے جیساکہ فتح میں اس کا افادہ فرمایا ،اور نہر میں اس کی تحقیق فرمائی۔اِن صورتوں سے احتراز کرنے کے لیے کہ اگر کسی نے بیوی کی موجودگی میں مسائل طلاق کا تکرار کیا،یا کسی کے خط سے نقل کرتے ہوئے لکھا کہ میری بیوی طلاق والی ہے اور اس کو زبان سے بھی دوہرایا ۔یا کسی دوسرے کی قسم کی حکایت کرتے ہوئے الفاظ کہے تو جب تک یہ اپنی بیوی کا قصد نہ کرے ‘بالکل بھی طلاق واقع نہیں ہوگی۔ (ردالمحتارمع الدرالمختار،کتاب الطلاق،باب صریح الطلاق،ج04،ص448،کوئٹہ)

(۲)کنایہ اورنیت اوردلالت حال:

الفاظِ کنایہ کہ جن میں طلاق کے علاوہ کابھی احتمال ہوتاہے۔ ان میں معنی طلاق کی تعیین کے لیے یا تو نیت کی ضرورت ہوتی ہے، یادلالتِ حال یعنی غصہ، یا مذاکرہ طلاق کی۔ درمختارمیں ہے:" ( كنايته ) عند الفقهاء ( ما لم يوضع له ) أي الطلاق ( واحتمله ) وغيره ( ف ) الكنايات ( لا تطلق بها ) قضاء ( إلا بنية أو دلالة الحال ) وهي حالة مذاكرة الطلاق أو الغضب "ترجمہ: فقہاء کرام کے نزدیک طلاق کےلفظِ کنایہ سے مراد وہ لفظ ہے جو طلاق کے لیے وضع نہ کیاگیاہو اور اس میں طلاق اور اس کے علاوہ دونوں معنی کااحتمال ہو،لہٰذا کنایات سے اسی صورت میں قضاء طلاق ہوگی جب نیت یا دلالت حال یعنی مذاکرہ طلاق یا غضب ہو۔ (الدرالمختارمع ردالمحتار،کتاب الطلاق، باب الکنایات،ج04،ص514تا516،کوئٹہ)

رجعت(طلاق کے بعدرجوع)اورنیت:

رجعت، فعل یعنی جماع یاشہوت کے ساتھ بوسہ لینے وغیرہ سے بھی ہوجاتی ہے، لیکن مکروہ ہے ، اورقول یعنی الفاظ سے بھی ہوجاتی ہے۔ رجعت کے الفاظ بھی دوطرح کے ہیں :(۱)ایک صریح ،(۲)دوسرے کنایہ ۔ (۱)صریح میں نیت کی حاجت نہیں ہوتی۔

صریح میں نیت کی حاجت نہ ہونے کے فوائد:

صریح الفاظ سے رجعت ہونے کے لیے نیت کی حاجت نہیں ہوتی لہذا(الف)مذاق میں،(ب)کھیل کودمیں،(ج)مجبوری میں، اور(ہ)غلطی سے یعنی کہناکچھ چاہتاتھاکہ الفاظِ رجعت زبان سے نکل گئے ،ان تمام صورتوں میں رجعت ہوجاتی ہے ۔ (۲)جبکہ کنایہ میں نیت کی حاجت ہوتی ہے۔فتاوی ہندیہ میں ہے: " وإن راجعها بالفعل مثل أن يطأها أو يقبلها بشهوة أو ينظر إلى فرجها بشهوة فإنه يصير مراجعا عندنا إلا أنه يكره له ذلك ويستحب أن يراجعها بعد ذلك بالإشهاد كذا في الجوهرة النيرة. ( . ألفاظ الرجعة صريح وكناية ) ( فالصريح ) :راجعتك في حال خطابها أو راجعت امرأتي حال غيبتها وحضورها أيضا ومن الصريح ارتجعتك ورجعتك ورددتك وأمسكتك ۔۔۔فهذه يصير مراجعا بها بلا نية. ( والكناية ) : أنت عندي كما كنت وأنت امرأتي فلا يصير مراجعا إلا بالنية كذا في فتح القدير. "ترجمہ:اگر بیوی سے فعل کے ساتھ رجوع کیا مثلا اس سے صحبت کی یا اسے شہوت سے بوسہ دیا یا شہوت سے اس کی شرمگاہ کو دیکھا تو وہ ہمارے نزدیک رجوع کرنے والا ہوگیا مگر یہ کہ اس طرح رجوع کرنا مکروہ ہے ۔اور مستحب یہ ہے کہ وہ اس کے بعد گواہ بناکر (دوبارہ )رجوع کرے ،جوہرہ نیریہ میں اسی طرح ہے ۔رجوع کے کچھ الفاظ صریح ہیں اور کچھ کنایہ ۔صریح الفاظ:(جیسے)بیوی کی موجودگی میں کہا میں نے تجھ سے رجوع کیا یا بیوی کی موجودگی و غیر موجودگی میں کہا :میں نے اپنی بیوی سے رجوع کیا اور صریح الفاظ میں سےبعض یہ ہیں :میں نے تجھے واپس لوٹایا ،میں نے تجھ سے رجوع کیا ، میں نے تجھے لوٹالیا،میں نے تجھے روک لیا ۔پس ان الفاظ کے ذریعے بغیر نیت کے بھی رجوع کرنے والا ہوگا ۔ اور الفاظ کنایہ :جیسے کہا :تو میرے نزدیک ویسی ہی ہے جیسی تھی ،تو میری بیوی ہے ۔ان الفاظ سے نیت کے ساتھ ہی رجوع کرنے والاہوگا،فتح القدیر میں اسی طرح ہے ۔ (فتاوی ہندیہ ،کتاب الطلاق، الباب السادس فی الرجعۃ ۔۔الخ،ج01،ص468،کوئٹہ) درمختارمیں رجعت کے متعلق ہے:" وتصح مع إكراه وهزل ولعب وخطإ "ترجمہ:اکراہ، مذاق،کھیل کود اور خطا کےباوجود رجوع ہوجاتا ہے ۔ اس کے تحت ردالمحتارمیں ہے:" ( قوله: وخطأ ) كأن أراد أن يقول: اسقني الماء فقال راجعت زوجتي "ترجمہ:خطا جیسے یہ کہنا چاہتا تھا :مجھے پانی پلادولیکن یہ کہہ دیا :میں نے اپنی بیوی سے رجوع کیا ۔ (ردالمحتارمع الدرالمختار،کتاب الطلاق،باب الرجعۃ،ج05،ص27،کوئٹہ)

تفویضِ طلاق،خلع،ایلاء،ظہاراورنیت:

ان کے بھی دو قسموں کے الفاظ ہیں؛(الف)صریح ،(ب)کنایہ۔ (الف)جوصریح ہیں ان میں نیت کی حاجت نہیں۔ (ب)اورجوکنایہ ہیں ان میں نیت کی حاجت پڑتی ہے۔الاشباہ والنظائرمیں ہے:" واماتفویض الطلاق والخلع والایلاء و الظھار ، فماکان منہ صریحالایشترط لہ النیۃ وماکان کنایۃ اشترطت لہ "ترجمہ:بہر حال تفویض طلاق (طلاق کااختیارعورت کودینا)،خلع ،ایلا اور ظہارکے وہ الفاظ جو صریح ہیں ان میں نیت شرط نہیں اور جو الفاظ کنایہ ہیں ان میں نیت شرط ہے۔ (الاشباہ والنظائر،ص29،مطبوعہ:کراچی)

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن