دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fiqhi Ahkam Main Niyat Ki Haisiyat | فقہی احکام میں نیت کی حیثیت

mozon par masah aur niyyat say mutalliq bayan

book_icon
فقہی احکام میں نیت کی حیثیت
            

موزوں پرمسح اورنیت:

یہ وضوہی کاحصہ ہے، لہذاوضوکی طرح اس کے صحیح ہونے کے لیے بھی نیت شرط نہیں ہے۔ تبیین الحقائق میں ہے: "( ولا يفتقر إلى ) ( النية في مسح الخف والرأس ) ۔۔۔لأنه طهارة بالماء فلا يفتقر إلى النية كالوضوء؛ ولأنه بعض الوضوء فصار كمسح الرأس والجبيرة " ترجمہ: (موزوں اور سر کے مسح میں نیت کی ضرورت نہیں )کیونکہ یہ پانی سے پاکی حاصل کرنا ہے، تویہ (بھی) وضو کی طرح نیت کا محتاج نہیں، اور اس لیے کہ یہ وضو کا ہی جز ہے تو یہ سر اور پٹی کے مسح کی طرح ہوگیا۔ (تبیین الحقائق،کتاب الطہارۃ،ج01،ص54،کوئٹہ)

نجاست حقیقیہ کاازالہ اورنیت:

کپڑے اور بدن کوپاک رکھناشرعامطلوب ہے اوریہ عبادت ہے،نمازکے لیے شرط بھی ہے لیکن یہ عبادت غیرمقصودہ ہے تواس کے درست ہونے کے لیے نیت شرط نہیں ہے کہ شرائط کاوجودمطلوب ہوتاہے وہ کسی بھی طرح پایاجائے ،ہاں اس پرثواب کے لیے نیت شرط ہے ۔ الغرۃ المنیفۃ میں ہے : " لا نسلم أن كل عبادة تحتاج إلى النية فإن تطهير الثوب مأمور به وعبادة بقوله تعالى: ( وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ ) ۔۔۔۔ وغير ذلك ومع هذا لا يشترط لهذه الأشياء النية، علی ان العبادة على نوعين: مقصودة لذاتها كالصلاة وهي لا تصح إلا بالنية، وغير مقصودة لذاتها بل هي وسيلة لغيرها كالوضوء وغيره من الشرائط فإنه لا يراعى وجودها قصداً فيتحقق بدون النية "ترجمہ:ہم تسلیم نہیں کرتے کہ ہر عبادت محتاج نیت ہے کیونکہ کپڑے پاک کرنا‘ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ( وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ ) کی وجہ سے مامور بہ اور عبادت ہےاور اس کے علاوہ بھی کئی احکام ہیں ، اس کے باوجود ان اشیاء کے لیے نیت شرط نہیں ہے ۔ مزیدیہ کہ عبادت کی دوقسمیں ہیں : (1)جو مقصود بالذات ہو جیسے نماز ،یہ نیت کے بغیر درست نہیں ہوتی (2)جو مقصود بالذات نہ ہو بلکہ وہ غیر کے لیے وسیلہ ہو جیسے وضو اور دیگر شرائط نماز۔ان کے قصداً پائے جانے کی رعایت نہیں کی جاتی ،اس لیے یہ نیت کے بغیر بھی پائی جاتی ہیں ۔ (الغرۃ المنیفۃ،کتاب الطہارۃ،ص20،بیروت)

تیمم اورنیت:

تیمم کے صحیح ہونے کے لیے نیت کاہوناشرط ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ تیمم کامطلب ہی قصدوارادہ کرناہے۔ قرآن پاک میں فرمایا:" فتیممواصعیداطیبا "پس تم پاک مٹی کاارادہ کرو۔ تویہ آیت مبارکہ اس بات پردلالت کرتی ہے کہ تیمم میں ارادہ کرناضروری ہے۔ درمختارمیں تیمم کے متعلق فرمایا:" وشرطه ستة: النية۔۔۔الخ "ترجمہ :اس کی چھ شرائط ہیں : (1) نیت۔ (الدرالمختارمع ردالمحتار،کتاب الطہارۃ،باب التیمم،ج01،ص437،کوئٹہ) التحقیق الباہرمیں ہے: " لاتکون شرط صحۃ العبادۃ ۔۔۔فی العبادات التی تکون وسائل ماعداالتیمم ."ترجمہ:جو عبادات وسیلہ ہیں ان کے درست ہونے کے لیے نیت شرط نہیں ہے، سوائے تیمم کے۔ (التحقیق الباہر،ج01،ص65،مخطوطہ) بدائع الصنائع میں تیمم میں نیت شرط ہونے کی وجہ بیان کرتے ہوئے فرمایا:" لأن مأخذ الاسم دليل كونها شرطا لما ذكرنا أنه ينبئ عن القصد، والنية هي القصد فلا يتحقق بدونها "اس لیے کہ لفظ تیمم کا ماخذنیت کے شرط ہونے پر دلیل ہے ،اس کی وجہ وہ ہے جو ہم نے ذکر کیا کہ یہ قصد سے خبر دیتا ہے اور نیت قصد ہی ہے لہٰذا تیمم نیت کے بغیر نہیں پایا جائے گا۔ (بدائع الصنائع،کتاب الطہارۃ،فصل فی التیمم،ج01،ص178،کوئٹہ) الاشباہ والنظائرمیں تیمم میں نیت شرط ہونے کی وجہ بیان کرتے ہوئے فرمایا:" وامااشتراطھافی التیمم فلدلالۃ آیتہ علیہ لانہ القصد "ترجمہ:بہر حال تیمم میں نیت کو شرط قرار دینا تووہ اس وجہ سے ہے کہ تیمم کی آیت اس پر دلالت کرتی ہے کیونکہ یہ قصد ہی ہے ۔ (الاشباہ والنظائر،ص25،مطبوعہ کراچی)

تیمم کتنی نیتوں سے درست ہوتاہے۔

تیمم دس نیتوں سے ہوسکتاہے ،اس کے حوالے سے ایک جامع عبارت فتاوی رضویہ سے پیش کی جاتی ہے ۔چنانچہ فتاوی رضویہ میں یوں ہے : " اقول :تیمم، دس(۱۰) نیتوں سے صحیح ہے:(۱) نیت رفع حدثِ اصغر یا (۲)اکبر یا (۳)مطلق حدث(۴) نیتِ وضو یا (۵)غسل یا (۶)مطلق طہارت (۷)نیت استباحت نماز(۸) نیت عبادتِ مقصودہ مشروط بہ طہارت(۹) نیت عبادت دیگر غیر مقصودہ یا غیر مشروطہ یا غیر مقصودہ وغیر مشروطہ (۱۰)نیت اُس تاکیدی مطلوب شرع کی کہ اگر پانی سے طہارت کریں تو بلابدل فوت ہوجائے۔ دسویں صورت پانی ہوتے ہوئے بھی ممکن ہے اور پہلی نو اُسی وقت روا ہیں کہ پانی پر قدرت نہ ہو۔ پہلی آٹھ کی نیت سے ہر نماز بھی بے تکلّف ادا ہوسکتی ہے، اگرچہ کسی اور عبادت کی غرض سے کیا ہو اور نویں سے کوئی نماز ادا نہ ہوگی اور دسویں سے خاص وہی نماز ادا ہوگی جس کی ضرورت سے کیا ہے، نہ دوسری اگرچہ وہ بھی اسی قسم فائت بے بدل بلکہ اسی کی نوع سے ہو مثلاً نمازِ جنازہ قائم ہُوئی وضو کرے تو چاروں تکبیریں ہوچکیں گی، اسے تیمم سے پڑھا اتنے میں اور جنازہ آگیا اگر وضو کرسکتا ہے اس دوسرے کے لیے وضو لازم ہے، اگر وضو کا وقفہ تھا اور نہ کیا ،اب وضو کا وقفہ نہ رہا تو اس کے لیے دوسراتیمم کرے پہلا جاتا رہا۔ ہاں اگر دوسرے جنازے کی نماز ایسی بلافصل برپا ہُوئی کہ بیچ میں وضو نہ کرسکتا تو اُسی پہلے تیمم سے پڑھ سکتا ہے۔۔۔۔۔۔اور یہاں نیت استباحتِ نماز کے یہی معنی ہوں گے کہ وہ مانعیت جو میرے اعضاسے قائم ہے، دُور ہوجائے کہ بے اُس کے اباحت نماز نہیں ہوسکتی ،وہی اس کا طریقہ معینہ ہے۔ رہا کسی اور عبادت کی غرض سے تیمم مشروطہ میں قطعاً یہی قصد قلبی ہوگا کہ اس عبادت کے ادا کرنے کے قابل ہوجاؤں اور نیت اسی قصد دلی کا نام ہے، تو اسے نیت استباحت اور اسے نیت رفع حدث لازم اور غیر میں قصد طہارت خود ظاہر کہ یہ تیمم نہ کیا مگر ادباً کہ عبادت بے طہارت نہ کروں۔" (فتاوی رضویہ،ج03،ص570-571،رضافاونڈیشن،لاہور)

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن