دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fikr e Madina Ma 41 Hikayaat e Attaria | فکر مدینہ

book_icon
فکر مدینہ

(14)  حضرت سیدنا ابراہیم بن بشار رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ   فرماتے ہیں کہ میں سیدنا ابویوسف فسولی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے ہمراہ شام جارہا تھا کہ راستے میں ایک شخص اچھل کر ان کے سامنے آیا اور سلام کرنے کے بعد عرض کرنے لگا ، ’’ اے ابویوسف ! مجھے کچھ نصیحت فرمائیے جسے میں یاد رکھ سکوں ۔‘‘ یہ سن کر آپ رو پڑے اور فرمایا، ’’ اے بھائی ! بے شک شب وروز کا آنا جانا تیرے بدن کے گُھلنے ، تیری عمر کے ختم ہونے اور تیری موت کے آنے میں تیزی پیدا کرتا ہے ۔اس لئے میرے بھائی تمہیں چاہئیے کہ تم ہرگز مطمئن نہ ہو یہاں تک کہ تمہیں معلوم ہوجائے کہ تمہارا ٹھکانہ کہا ں ہے ؟(جنت میں یا جہنم میں ؟ )تمہارا انجام کیا ہوگا ؟ (کامیابی یا ناکامی ؟) تمہارا رب  عَزَّ  وَجَلَّ   تم سے تمہاری معصیت وغفلت کی وجہ سے ناراض ہے یا اپنے فضل ورحمت کے سبب تم سے راضی ہے ؟ اے ضعیف انسان!(یاد رکھ) تُو گزرے ہوئے ایام میں ایک ناپاک قطرہ تھا اور آنے والے وقت میں سڑے ہوئے مردار کی طرح ہوگا ۔ اگر تجھے یہ نصیحت کافی نہیں تو عنقریب وہ وقت آئے گا جب تُو قبر میں جائے گا ، پھر تجھے یہ سب باتیں معلوم ہوجائیں گی ، اس وقت تُو اپنے کئے پرشرمندہ ہوگالیکن ندامت کام نہ آئے گی ۔‘‘

        یہ کہہ کر آپ رونے لگے اوروہ شخص آپ کو روتا دیکھ کر رونے لگا ۔ ان دونوں کو روتا دیکھ کر میں بھی رونے لگا یہاں تک کہ وہ دونوں بے ہوش ہو کر گر گئے ۔

(ذم الھوٰی، الباب الخمسون، ص۵۰۰)

 (15)   علامہ عثمان بن حسن علیہ الرحمۃ درۃ الناصحین میں نقل کرتے ہیں کہ، ’’دن اور رات میں چوبیس گھنٹے ہیں ۔ ہر انسان ایک گھنٹے میں ایک سواسّی مرتبہ سانس لیتا ہے ۔ اس طرح وہ چوبیس گھنٹوں میں چار ہزار تین سوبیس مرتبہ سانس لیتا ہے ۔ ہر انسان سے سانس اندر کھینچتے ہوئے اور باہر نکالنے کے دوران دو سوال ہوتے ہیں کہ تم نے سانس خارج کرتے وقت کون سا عمل کیا اور سانس لیتے وقت کون سا عمل کیا؟ ( المجلس السبعون، ص ۳۱۸)   

 (16)   حضرت سیدنا محمد بن حاتم ترمذی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  فرماتے ہیں کہ، ’’تیرا اصل سرمایہ تیرا دل اور وقت ہے ، لیکن تیرے دل کو گندے خیالات نے پھانس لیا اور اپنے وقت کو تم خود بے کار کاموں میں مصروف ہو کر ضائع کر رہے ہو ، وہ شخص نفع کس طرح کما سکتا ہے جس کا اصل سرمایہ ہی خسارے میں ہو ؟‘‘ (ذم الھوٰی، الباب الخمسون، ص۵۰۰)

 (17)  حضرت سیدنا امام اوزاعی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  نے اپنے بھائی کو خط میں لکھا کہ ، ’’یاد رکھو! تمہیں ہر طرف سے گھیر لیا گیا ہے (یعنی تم احکامِ شرعی کے پابند ہو )، اور تمہیں دن رات (موت کی منزل کی طرف ) ہانکا جارہا ہے ۔ پس تم اللہ  تَعَالٰی اور اس کی بارگاہ میں حاضری سے ڈرتے رہو اور دمِ واپسی تک اس پر قائم رہو ۔ والسلام ‘‘ (ذم الھوٰی، الباب الخمسون، ص۴۹۹)

پیارے اسلامی بھائیو!

                دنیا میں ہی اپنے اعمال کا محاسبہ کرنے کی ترغیب پر مشتمل ان روایات کا مطالعہ کرنے کے بعد ہمیں چاہئے کہ سمجھ داری کا ثبوت دیتے ہوئے اپنا محاسبہ (یعنی فکر مدینہ)کرنے کی عادت اپنانے کی کوشش میں لگ جائیں ۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہمیں یونہی غفلت کی حالت میں موت آجائے اور ہمارے دامن میں پچھتاوے کے احساس کے سواء کچھ بھی نہ باقی رہے ۔

مدینہ : محاسبہ کو’’ دعوتِ اسلامی‘‘ کی مدنی اصطلاح میں ’’ فکرِ مدینہ ‘‘کہا جاتا ہے ، لہذا!آئندہ صفحات میں بھی فکر مدینہ سے مراد محاسبہ ہی لیا جائے ۔

فکر ِمدینہ (محاسبہ)کسے کہتے ہیں ؟

                فکر ِمدینہ سے مراد یہ ہے کہ، ’’ انسان اُخروی اعتبار سے اپنے معمولات ِ زندگی پرغور وفکر کرے ، پھر جو کام اس کی آخرت کے لئے نقصان دہ ثابت ہوسکتے ہوں ، انہیں درست کرنے کی کوشش میں لگ جائے اور جو امور اُخروی اعتبار سے نفع بخش نظر آئیں ، ان میں بہتری کے لئے اقدامات کرے ۔‘‘

  فکر ِ مدینہ (محاسبہ)کے فوائد :

        فکر ِ مدینہ کے فوائد کو دوطرح سے سمجھا جاسکتا ہے ،

(1)عقلی اعتبار سے …           (2)نقلی (یعنی منقولی) اعتبار سے …

 (1) عقلی اعتبار سے :

        جس طرح دنیاوی کاروبار سے تعلق رکھنے والا کوئی بھی شخص اسی وقت کامیاب کاروباری بن سکتا ہے جب وہ اپنی لاگت سے کئی گنا زیادہ نفع کمانے میں کامیاب ہوجائے اور اس کا اصل سرمایہ بھی محفوظ رہے ۔ اس مقصد کے حصول کے لئے وہ اپنی کارکردگی کو روزانہ ، ہفتہ وار ، ماہانہ یا سالانہ کی بنیاد پر تقسیم کرتا ہے ۔پھر اس پرمختلف پہلوؤں سے نہ صرف زبانی غور وتفکر کرتا ہے بلکہ اس کو ضبط ِتحریر میں بھی لاتا ہے۔ جہاں کسی قسم کی خامی نظر آئے اسے درست کرتا ہے اور جوشے نفع کے حصول میں رکاوٹ بنتی نظر آئے اس کو دور کرتا ہے ۔

         اگر وہ اپنے کاروباری معاملات کا محاسبہ نہ کرے تواکثر اوقات اسے نفع حاصل ہونا تو درکنار ، الٹا نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ پھر بھی اگر وہ ’’خواب ِ خرگوش‘‘ سے بیدار نہ ہوتو ایک دن ایسا بھی آتا ہے کہ اس کا اصل سرمایہ بھی باقی نہیں رہتا اور وہ کوڑی کوڑی کا محتاج ہوجاتا ہے ۔

        با لکل اسی طرح جو شخص ’’کاروبارِ آخر ت‘‘ میں نفع کمانے کا آروزمند ہو اسے  بھی چاہئیے کہ اپنے کئے گئے اعمال پر غور کرے ، جو اعمال اس کو نفع دلوانے میں معاون ثابت ہوں ، ان کو مزید بہتر کرے اور جو کام اِس نفع کے حصول میں رکاوٹ بن رہے ہوں ، انہیں چھوڑ دے تو وہ بتوفیق ِ خداوندی کامیابی سے ہمکنار ہو گا اور بطورِ نفع اسے داخلِ جنت ہونا نصیب ہوگا ۔ اور اگر ایسا کرنے کی بجائے وہ، ’’خواب ِ غفلت ‘‘ کا شکار رہا تو وہ خسارے میں رہے گا جس کا نتیجہ دخولِ جہنم کی صورت میں سامنے آسکتا ہے۔(والعیاذ باللہ  )

 (2)  نقلی(منقولی) اعتبار سے :

         فکر ِمدینہ(محاسبہ) کے بارے میں ہمارے پیارے آقاتاجدارِ مدینہ، سلطان ِمکہ مکرمہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اور اسلاف ِکرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے کثیر فضائل بیان فرمائے ہیں ، چنانچہ…

ساٹھ سال کی عبادت سے بہتر۔۔۔۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن