30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(2) امیر المؤمنین حضرت سَیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ ، ’’حَاسِبُوْا قَبْلَ اَنْ تُحَاسَبُوْا وَزِنُوْا اَنْفُسَکُمْ قَبْلَ اَنْ تُوْزَنُوْا ، فَاِنَّہُ اَھْوَنُ عَلَیْکُمْ فِی الْحِسَابِ غَدًا اَنْ تُحَاسِبُوْا اَنْفُسَکُمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَتَزَیَّنُوْا لِلْعَرْضِ الْاَکْبَرِ یَوْمَئِذٍ تُعْرَضُوْنَ لَاتَخْفٰی مِنْکُمْ خَافِیَۃ۔ترجمہ : اے لوگو! اپنے اعمال کا حساب کر لو ، اس سے پہلے کہ قیامت آجائے اور تم سے ان کا حساب لیا جائے ، کیونکہ آج کے دن اپنا محاسبہ کر لینا قیامت کے دن حساب دینے سے آسان ہے اور اپنے آپ کوقیامت کے اس دن کے لئے تیارکرو جس دن تمہاری کوئی خطاء تم سے پوشیدہ نہ رہے گی ۔ ‘‘( ذم الھویٰ ، ص ۳۹)
(3) حضرت سیدنا عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے حضرت سیدنا ابوموسیٰ اشعری کو لکھا کہ ، ’’حَاسِبْ نَفْسَکَ فِی الرُّخَائِ قَبْلَ حِسَابِ الشِّدَّۃِ یعنی شدت کے وقت میں حساب سے پہلے ، راحت کے وقت اپنے نفس کا محاسبہ کرو ۔ ‘‘( احیاء العلوم، کتاب المراقبۃ والمحاسبۃ، ج۵ ، ص ۱۲۸)
(4) حضرت سیدنا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرمایا کرتے تھے کہ ، ’’ اے لوگو!بے شک تم شب وروز کی گردش میں ہو ، تمہارے ایام زندگی کم ہوتے چلے جارہے ہیں ، تمہارے اعمال کو جمع کیا جارہا ہے اور موت اچانک آجائے گی ، تو جو تم میں سے نیکیوں کی فصل اگائے گا وہ خوشی خوشی اسے کاٹے گا ، اور جو بدی کا بیج بوئے گا وہ اسے ندامت سے کاٹے گا اور ہر کاشت کار کو وہی ملتا ہے جو وہ بوتا ہے ۔‘‘(ذم الھوٰی، الباب الخمسون ، ص ۴۹۸)
(5) حضرت سیدنا قتادہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ وَ اِذَا الصُّحُفُ نُشِرَتْﭪ(۱۰)
(ترجمۂ کنزالایمان : اور جب نامۂ اعمال کھولے جائیں (گے )۔(پ۳۰، التکویر : ۱۰)‘‘کی تفسیر میں فرماتے ہیں ، ’’ اے ابن ِآدم! تُو اپنے نامۂ اعمال کو بھر رہا ہے پھر اسے لپیٹ دیا جائے گا اور قیامت کے دن تیرے سامنے کھول دیا جائے گا ، لہذا غور کر کہ تو اپنے اعمال نامے میں کیا درج کروا رہا ہے ۔ ‘‘ (التفسیرالکبیر، الجزء الرابع، ص۶۱۴)
(6) حضرت سیدنا مکحول شامی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ ، ’’انسان جب بستر پر آرام کرنے لگے تو اپنا محاسبہ کرے کہ آج اس نے کیااعمال کئے ؟ پھر اگر اس نے اچھے اعمال کئے ہوں تواللہ عَزَّ وَجَلَّ کا شکر کرے اور اگر اس سے گناہ سرزد ہوئے ہوں تو توبہ واستغفار کرے ۔ کیونکہ اگر یہ ایسا نہ کرے گا تو اس تاجر کی طرح ہوگا جو خرچ کرتا جائے لیکن حساب کتاب نہ رکھے توایک وقت ایسا آئے گا کہ وہ کنگال ہوجائے گا ۔‘‘ (تنبیہ الغافلین۔باب التفکر ، ص ۳۰۹ )
(7) ایک بزرگ کا قول ہے ، ’’دانائی میں اضافہ چار اشیاء کے سبب ہوتا ہے ، (۱)دنیا کی مصروفیات سے بدن کا فارغ ہونا ، (۲)دنیا کے کھانوں سے پیٹ کا خالی ہونا ، (۳)دنیاوی سامان سے ہاتھ کا خالی ہونا ، (۴)اپنی عاقبت کے بارے میں سوچنا کہ نہ جانے کیسی ہوگی ؟ کیا خبر اس کے اعمال قبول کئے گئے یا نہیں ؟ کیونکہ اللہ تَعَالٰی تو پاکیزہ اور ستھرے اعمال ہی قبول فرماتا ہے ۔‘‘
(تنبیہ الغافلین۔باب التفکر ، ص ۳۰۹ )
(8) حضرت سیدنا حسنرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ ، ’’بے شک مؤمن دنیا میں قیدی کی طرح ہے جو اپنی گردن (دوزخ سے ) آزاد کروانے کی کوشش میں ہے ، وہ اس وقت تک بے خطر نہیں ہوسکتا جب تک بارگاہ ِ الٰہی عَزَّ وَجَلَّ میں حاضر نہ ہوجائے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اس سے اس کی سماعت ، بصارت ، زبان اور اعضائے جسمانی کے بارے میں سوال ہوگا۔‘‘(ذم الھوٰی، الباب الثالث ، ص۴۱)
(9) حضرت سیدنا حاتم اصم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے علماء کے گروہ کو نصیحت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ، ’’ اگر گزرے ہوئے دن پر اظہارِافسوس اور آج کے دن کو غنیمت جانتے ہوئے آنے والے کل سے خوف زدہ ہوتو بہتر ہے ورنہ یادرکھو کہ جہنم تمہارے لئے تیار ہے ۔‘‘ (تذکرۃ الاولیاء، ج۱، ص ۲۲۵ )
(10) حضرت سَیِّدُنا حسن بصری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ایک جوان کے پاس سے گزرے جو لوگوں کے درمیان بیٹھا ہنسنے میں مشغول تھا ۔ آپ نے اسے دعوت ِ محاسبہ دیتے ہوئے پوچھا ، ’’اے نوجوان! کیا تو پلِ صراط پار کر چکا ہے ؟‘‘ اس نے عرض کی ، ’’نہیں ۔‘‘فرمایا ، ’’کیا تمہیں معلوم ہے کہ تم جنت میں جاؤ گے یا جہنم میں ؟‘‘ اس نے کہا ، ’’جی نہیں ۔‘‘تو آپ نے پوچھا، ’’پھر یہ ہنسی کیسی ہے ؟‘‘اس کے بعد اس نوجوان کو ہنستے ہوئے نہیں دیکھا گیا ۔ (احیاء العلوم ، کتاب الخوف والرجاء ج ۴ ، ص ۲۲۷)
(11) حضرت سَیِّدُنا یزید رقاشی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ایک مرتبہ حضرت سَیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے پاس تشریف لے گئے تو انہوں نے عرض کی کہ مجھے کچھ نصیحت فرمائیں ۔ آپ نے فرمایا، ’’یا امیر المؤمنین !یاد رکھئے کہ آپ پہلے خلیفہ نہیں ہیں جو مر جائیں گے ۔(یعنی آپ سے پہلے گزرنے والے خلفاء کو موت نے آلیا ۔) ‘‘یہ سن کر حضرت عمر بن عبدالعزیز رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ رونے لگے اور عرض کرنے لگے ، ’’کچھ اور بھی فرمائیے۔‘‘ تو آپ نے کہا، ’’ اے امیر المؤمنین ! حضرت آدم ں سے لے کر آپ تک آپ کے سارے آباؤ اجداد فوت ہوچکے ہیں ۔‘‘ یہ سن کر آپ مزید رونے لگے اور عرض کی ، ’’مزید کچھ بتائیے۔‘‘ آپ نے فرمایا ، ’’آپ کے اور جنت ودوزخ کے درمیان کوئی منزل نہیں ہے ۔(یعنی دوزخ میں ڈالا جائے گا یا جنت میں داخل کیا جائے گا۔) یہ سن کر حضرت عمر بن عبدالعزیز رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ بے ہوش ہو کر گر پڑے ۔ (احیاء العلوم ، کتاب الخوف والرجاء ج ۴، ص ۲۲۹)
(12) حضرت سیدنا ابن سماک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ایک مرتبہ خلیفہ ہارون رشید کے دربار میں تشریف لے گئے ۔ ایک دم ہارون رشید کو پیاس لگی اور اس نے پانی طلب کیا ۔ جب خادم نے پانی کا گلاس ہارون رشید کے ہاتھ میں دیا تو آپ نے فرمایا، ’’یاامیر المؤمنین ! ذراٹھہر جائیے اور مجھے سوچ کر بتائیے کہ اگر شدت ک
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع