دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fikr e Madina Ma 41 Hikayaat e Attaria | فکر مدینہ

book_icon
فکر مدینہ

       لیکن اُس وقت ایسے لوگوں کو سوائے پچھتاوے کے کچھ ہاتھ نہ آئے گا ، کیونکہ یہ تو وہ وقت ہوگا کہ نیک لوگ بھی اپنی نیکیوں میں کمی کی بنا پر حسرت میں مبتلاء ہوں گے ، جیسا کہ سورۃ الفجر میں ارشاد ہوتا ہے ، …

یَوْمَىٕذٍ یَّتَذَكَّرُ الْاِنْسَانُ وَ اَنّٰى لَهُ الذِّكْرٰىؕ(۲۳) یَقُوْلُ یٰلَیْتَنِیْ قَدَّمْتُ لِحَیَاتِیْۚ(۲۴)

ترجمۂ کنزالایمان :  اس دن آدمی سوچے گا اور اب اسے سوچنے کا وقت کہاں ، کہے گا ہائے میں نے جیتے جی نیکی آگے بھیجی ہوتی ۔ ‘‘۳۰۔الفجر۲۳، ۲۴)

         تفسیر ابن کثیر میں اس آیت کے تحت ہے ، ’’ یعنی وہ بندہ اگر گناہ گار ہوگا تو اپنے گناہوں کے ارتکاب پر افسوس کرے گا اور اگر نیک ہوگا تو مزید نیکیاں کرنے سے محرومی پر افسوس کرے گا ۔(ج۸، ص۳۸۹)

        جبکہ امام جلال الدین سیوطی علیہ الرحمۃ  تفسیر درِ منثور میں حضرت سیدنا ضحاک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے نقل کرتے ہیں کہ ’’وہ شخص یوں کہے گا : (کاش)میں نے دنیا میں اپنی اُخروی زندگی کے لئے اعمال کئے ہوتے ۔

        اورسرور ِ کونین (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) نے ارشاد فرمایا ، ’’لَوْ اَنَّ عَبْدًا جَرَّ عَلَی وَجْھِہِ مِنْ یَوْمٍ وُلِدَ اَنْ یَّمُوْتَ ھَرَمًا فِیْ طَاعَۃِ اللّٰہِ اِلَی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ لَوَدَّ اَنَّہُ رُدَّ اِلَی الدُّنْیَا کَیْمَا یَزْدَادُ مِنَ الْاَجْرِ وَالثَّوَابِ ۔اگر کو ئی شخص اپنی پیدائش کے دن سے لے کر قیامت تک منہ کے بل رینگتا رہے حتی کہ وہ اللہ  تَعَالٰی کی عبادت میں ہی بوڑھا ہوکرمر جائے توبھی وہ قیامت کے دن خواہش کرے گا کہ اسے دنیا میں لوٹا دیا جائے تاکہ وہ مزید نیکیاں کما سکے۔(الدرالمنثور، ج۸، ص۴۶۹)

   اور سورۂ اٰل عمران میں ارشاد ہوتا ہے ، …

یَوْمَ تَجِدُ كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ مِنْ خَیْرٍ مُّحْضَرًا ﳝ- وَّ مَا عَمِلَتْ مِنْ سُوْٓءٍۚۛ-تَوَدُّ لَوْ اَنَّ بَیْنَهَا وَ بَیْنَهٗۤ اَمَدًۢا بَعِیْدًاؕ

ترجمۂ کنزالایمان : جس دن ہرجان نے جو بھلا کام کیا حاضرپائے گی اور جو برا کام کیا امید کرے گی کاش مجھ میں اور اس میں دور کا فاصلہ ہوتا ۔ ‘‘۳، ال عمران ۳۰)

پیارے اسلامی بھائیو!

                 یہ فطری بات ہے کہ کسی مقام پر جب انسان کو یہ محسوس ہو کہ اسے کوئی دوسرادیکھ رہا ہے ۔۔یا۔۔کسی آلے کے ذریعے اس کی حرکات کو نوٹ کیاجارہا ہے ۔۔یا ۔۔اس کی آوازریکارڈ کی جارہی ہے تو وہ بے حد محتاط ہوجاتا ہے ، چاہے حقیقتاً ایسا نہ ہو، … مگریہ بات توسابقہ دلائل کی روشنی میں پایہ ثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ ہماری ہر حرکت کو اللہ  تَعَالٰی دیکھ رہا ہے ، فرشتے اس کو ریکارڈ بھی کر رہے ہیں ، ہمارے اعضاء ، دن اوررات اوریہ زمین بھی اس کو نوٹ کررہی ہے ، … تو معمولی سی عقل رکھنے والا انسان بھی بخوبی سمجھ سکتا ہے کہ میدان محشر میں شرمندگی اور جہنم کے دل دہلا دینے والے عذابات سے بچنے کے لئے ہمیں کس قدر احتیاط کی ضرورت ہے ؟… لہذا! ہمیں چاہئیے کہ آج ہی اپنا محاسبہ کریں کہ ہم کس قسم کے اعمال درج کروا رہے ہیں ؟… اس امرکی ترغیب قرآن پاک میں بھی دی گئی ، چنانچہ سورۃ الحشرمیں ارشاد فرمایا ، …   

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ لْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍۚ

ترجمۂ کنزالایمان : اے ایمان والو! اللہ  سے ڈرو اور ہر جان دیکھے کہ کل کے لئے کیا آگے بھیجا ۔‘‘۲۸، الحشر : ۱۸)

        اس آیت کے تحت تفسیر ابن کثیر میں ہے ، ’’یعنی اپنا محاسبہ کرلواس سے پہلے کہ تمہارا محاسبہ کیا جائے اور غور کرو کہ تم رب  تَعَالٰی کی بارگاہ میں لے جانے کے لئے کیا جمع کروارہے ہو ، یاد رکھو! اللہ  تَعَالٰی تمہارے تمام اعمال واحوال کو جانتا ہے ، تمہارا چھوٹے سے چھوٹا اور بڑے سے بڑا عمل اس سے پوشیدہ نہیں ہے ۔(ج۸ ، ص ۱۰۶ )

         اس آیت کے تحت تفسیر درِ منثور میں ہے کہ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  نے خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا ، ’’اے لوگو! یادرکھو کہ تم صبح وشام اس موت کی طرف بڑھ رہے ہو جو تمہاری آنکھوں سے اوجھل ہے ، …اگر تم سے ہو سکے تو جب موت آئے تو تم اس کے لئے تیار بیٹھے ہو لیکن یہ تم سے توفیق ِ خداوندی کے بغیر نہ ہوسکے گا، …ایک قوم نے دوسروں کی موت کو یاد رکھا لیکن اپنی موت کو بھول گئے ، چنانچہاللہ  عَزَّ  وَجَلَّ  نے تمہیں ان جیسا بننے سے منع فرمایا ہے ، اللہ  تَعَالٰی نے ارشاد فرمایا ،

وَ لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ نَسُوا اللّٰهَ فَاَنْسٰىهُمْ اَنْفُسَهُمْؕ-اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ(۱۹)

ترجمہـ کنزالایمان :  اور ان جیسے نہ ہو جو اللہ  کو بھول بیٹھے تو اللہ  نے انہیں بلا میں ڈالا کہ اپنی جانیں یاد نہ رہیں وہی فاسق ہیں ۔ (الحشر : ۱۹)

 وہ لوگ آج کہاں ہیں جنہیں تم اپنا بھائی کہتے تھے ؟… وہ اس تک پہنچ گئے جو انہوں نے آگے بھیجا تھا ، … کہاں ہیں وہ جابر حکمران جنہوں نے قلعے اور اس کے ارد گرد مضبوط فصیلیں تعمیر کروائیں ؟… آج وہ پتھریلی زمین اور ٹیلوں میں دفن ہوچکے ہیں … یہ اللہ  کی کتاب ہے جس کے عجائب فناء نہیں ہوتے اور اس کا نور ماند نہیں پڑتا ، … تم اس کے نور سے اپنا آج آنے والے تاریک کل کے لئے روشن کرو ، …اللہ   عَزَّ  وَجَلَّ  کی کتاب اور اس کے احکامات سے نصیحت حاصل کرو کہاللہ  عَزَّ  وَجَلَّ  نے ایسی قوم کی تعریف فرمائی ہے ،

اِنَّهُمْ كَانُوْا یُسٰرِعُوْنَ فِی الْخَیْرٰتِ وَ یَدْعُوْنَنَا رَغَبًا وَّ رَهَبًاؕ-وَ كَانُوْا لَنَا خٰشِعِیْنَ(۹۰)

ترجمۂ کنزالایمان : بے شک وہ بھلے کاموں میں جلدی کرتے تھے اور ہمیں پکارتے تھے امید اور خوف سے اور ہمارے حضور گڑگڑاتے ہیں ۔ (الانبیاء : ۹۰)(ج۔ ۸، ص۱۱۴)

       اسی بات کی ترغیب ہمارے مکّی مدنی آقاصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَاور اکابرین ِ امت نے بھی دلائی ، چنانچہ…

 (1)  رحمت ِ عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ، ’’اِذَاہَمَّمْتَ اَمْرًا فَتَدَبَّرْ عَاقِبَتَہُ  فَاِنْ کَانَ رُشْدًا فَاَمْضِہِ وَاِنْ کَانَ غَیًّا فَانْتَہِ عَنْہُ ۔ جب تم کسی کام کو کرنا چاہو تو اس کے انجام کے بارے میں غور کرو ، اگر وہ اچھاہے تو اسے کر لو اور اگر اس کا غلط نتیجہ دکھائی دے تو اس سے بچو ۔(کنزالعمال ، ج۳، ص۱۰۱، رقم الحدیث ۵۶۷۶)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن