30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اس کے بعد ہمیں اِن اعمال کا پورا پورا بدلہ جزاء یا سزا کی صورت میں دیا جائے گا ، جیسا کہ قرآن پاک میں ارشاد ہوتا ہے ، …
یَوْمَىٕذٍ یَّصْدُرُ النَّاسُ اَشْتَاتًا ﳔ لِّیُرَوْا اَعْمَالَهُمْؕ(۶) فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَیْرًا یَّرَهٗؕ(۷) وَ مَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا یَّرَهٗ۠(۸)
ترجمہ کنزالایمان : اس دن لوگ اپنے رب کی طرف پھریں گے کئی راہ ہوکر تاکہ اپنا کیا دکھائے جائیں تو جو ایک ذرہ بھر بھلائی کرے اسے دیکھے گا اور جو ایک ذرہ بھر برائی کرے اسے دیکھے گا ۔(پ۳۰، الزلزال ۶، ۷، ۸)
اورسرورِ کونین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ، ’’ اَلْبِرُّ لَایُبْلٰی وَالْاِثْمُ لَایُنْسٰی وَالدَیَّانُ لَایَنَامُ فَکُنْ کَمَاشِئْتَ کَمَا تُدِیْنُ تُدَانُ۔ نیکی کبھی پرانی نہیں ہوتی ، گناہ کبھی نہیں مٹایا جاتا ، جزاء دینے والا (اللہ عَزَّ وَجَلَّ )کبھی نہیں سوتا ، تم جو چاہے بن جاؤ ، تم جیسا کروگے ویسا بھروگے ۔‘‘(فتح الباری ، کتاب التوحید، جلد۱۴، ص۳۸۹)
پھر جس کسی کو بخشش ونجات کا پروانہ ملے گا وہ خوشی سے پھولے نہ سمائے گا ، جیسا کہ سورۂ عبس میں ارشاد ہوتا ہے ، …
وُجُوْهٌ یَّوْمَىٕذٍ مُّسْفِرَةٌۙ(۳۸) ضَاحِكَةٌ مُّسْتَبْشِرَةٌۚ(۳۹)
ترجمۂ کنزالایمان : کتنے منہ اس دن روشن ہوں گے ، ہنستے خوشیاں مناتے ۔‘‘ (پ۳۰، عبس ۳۸، ۳۹)
اس آیت کے تحت تفسیر ابن کثیر میں ہے ، ’’ یعنی ان کے دل میں پائی جانی والی خوشی ان کے چہروں سے پھوٹ رہی ہوگی اوریہی لوگ جنتی ہوں گے ۔‘‘ (ج۸ ، ص۳۲۷)
جبکہ سورۃالانشقاق میں ارشاد ہوتا ہے ، …
فَاَمَّا مَنْ اُوْتِیَ كِتٰبَهٗ بِیَمِیْنِهٖۙ(۷) فَسَوْفَ یُحَاسَبُ حِسَابًا یَّسِیْرًاۙ(۸) وَّ یَنْقَلِبُ اِلٰۤى اَهْلِهٖ مَسْرُوْرًاؕ(۹)
ترجمہ کنزالایمان : تو وہ جو اپنا نامۂ اعمال داہنے ہاتھ میں دیا جائے (گا) ، اس سے عنقریب سہل حساب لیا جائے گا ، اور اپنے گھر والوں کی طرف شاد شاد (خوشی خوشی ) پلٹے گا ۔
(پ۳۰، الانشقاق : ۷، ۸، ۹)
اس آیت کی تفسیر میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ وہ شخص اپنے گناہوں کو پہچانے گا پھر اس کے گناہوں کو معاف کردیا جائے گا ۔(التفسیر الدرالمنثور ، ج۸، ص۴۱۹)
اور سورۃ الحآقہ میں ارشاد ہوا ، …
یَوْمَىٕذٍ تُعْرَضُوْنَ لَا تَخْفٰى مِنْكُمْ خَافِیَةٌ(۱۸) فَاَمَّا مَنْ اُوْتِیَ كِتٰبَهٗ بِیَمِیْنِهٖۙ-فَیَقُوْلُ هَآؤُمُ اقْرَءُوْا كِتٰبِیَهْۚ(۱۹)
ترجمۂ کنزالایمان : اس دن تم سب پیش ہوگے کہ تم میں کوئی چھپنے والی جان چھپ نہ سکے گی ، تو وہ جسے اپنا نامۂ اعمال داہنے ہاتھ میں دیا جائے گا کہے گا لو میرے نامۂ اعمال پڑھو ۔
(پ۲۹۔الحآقہ : ۱۸، ۱۹)
نیز سورۃ القارعۃ میں فرمایا، …
فَاَمَّا مَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُهٗۙ(۶) فَهُوَ فِیْ عِیْشَةٍ رَّاضِیَةٍؕ(۷)
ترجمۂ کنزالایمان : تو جس کی تولیں بھاری ہوئیں ، وہ تو من مانتے عیش(یعنی جنت) میں ہیں ۔(پ۳۰، القارعۃ : ۶، ۷)
اورجسے اس کی شامت ِ اعمال کے باعث دوزخ میں جانے کا حکم سنایا جائے گا، وہ انتہائی مغموم ہوگا جیسا کہ سورۃ الحآقہ میں ارشاد ہوتا ہے ، …
وَ اَمَّا مَنْ اُوْتِیَ كِتٰبَهٗ بِشِمَالِهٖ ﳔ فَیَقُوْلُ یٰلَیْتَنِیْ لَمْ اُوْتَ كِتٰبِیَهْۚ(۲۵) وَ لَمْ اَدْرِ مَا حِسَابِیَهْۚ(۲۶)
ترجمۂ کنزالایمان : اور وہ جسے اپنانامۂ اعمال بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا کہے گا ہائے کسی طرح مجھے اپنا نوشتہ (یعنی نامۂ اعمال)نہ دیا جاتا ، اور میں نہ جانتا کہ میرا حساب کیا ہے۔ ‘‘(پ۲۹۔الحآقہ : ۲۵، ۲۶)
جبکہ سورۃ الکھف میں فرمایا ، …
وَ وُضِعَ الْكِتٰبُ فَتَرَى الْمُجْرِمِیْنَ مُشْفِقِیْنَ مِمَّا فِیْهِ وَ یَقُوْلُوْنَ یٰوَیْلَتَنَا مَالِ هٰذَا الْكِتٰبِ لَا یُغَادِرُ صَغِیْرَةً وَّ لَا كَبِیْرَةً اِلَّاۤ اَحْصٰىهَاۚ-وَ وَجَدُوْا مَا عَمِلُوْا حَاضِرًاؕ-وَ لَا یَظْلِمُ رَبُّكَ اَحَدًا۠(۴۹)
ترجمۂ کنزالایمان : اور نامۂ اعمال رکھا جائے گا تو تم مجرموں کو دیکھو گے کہ اس کے لکھے سے ڈرتے ہونگے اور کہیں گے ہائے خرابی ہماری اس نوشتہ کو کیا ہوا نہ اس نے کوئی چھوٹا گناہ چھوڑا نہ بڑا جسے گھیر نہ لیا ہو اور اپنا سب کیا انہوں نے سامنے پایا اور تمہارا رب کسی پر ظلم نہیں کرتا ۔(پ۱۵۔الکھف : ۴۹)
اور سورۃ الانشقاق میں ہے ، …
وَ اَمَّا مَنْ اُوْتِیَ كِتٰبَهٗ وَرَآءَ ظَهْرِهٖۙ(۱۰) فَسَوْفَ یَدْعُوْا ثُبُوْرًاۙ(۱۱) وَّ یَصْلٰى سَعِیْرًاؕ(۱۲)
ترجمۂ کنزالایمان : اور وہ جس کا نامۂ اعمال اس کی پیٹھ کے پیچھے دیا جائے ، وہ عنقریب موت مانگے گااور بھڑکتی آگ میں جائے گا ۔(پ۳۰، الانشقاق : ۱۰، ۱۱، ۱۲)
نیز سورۃ القارعۃ میں ارشاد ہوتاہے ، …
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع