30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بچا سکا ، …
آہ صد آہ ! یہ دونوں حکم توڑنے کے بعدمیں کس منہ سے اس قہّار وجبّار عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں حاضر ہو کرزندگی بھر کے اعمال کا حساب دوں گا؟…اورپھرایسے حالات میں کہ خود میرے اپنے اعضاء مثلاً ہاتھ ، پاؤں ، آنکھ ، کان ، زبان وغیرہ میرے خلاف گواہی دینے کے لئے بالکل تیار ہیں ، …یہ زمین بھی میرے اعمال کی گواہی دینے کے لئے بے قرار ہے ، …دوسری طرف اپنی مختصر سی زندگی میں نیک اعمال اختیار کرنے والوں کو ملنے والے انعامات دیکھ کر اپنے کرتوتوں پرشدید افسوس ہو رہا ہے کہ وہ خوش نصیب تو سیدھے ہاتھ میں نامۂ اعمال لے کر شاداں وفرحاں جنت کی طرف بڑھے چلے جارہے ہیں ، لیکن نہ جانے میرا کیا بنے گا؟… کہیں ایسا نہ ہو کہ مجھے جہنم میں جانے کا حکم سناکر الٹے ہاتھ میں اعمال نامہ تھما دیا جائے اور سارے عزیز واقارب کی نظروں کے سامنے مجھے منہ کے بل گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دیا جائے، ہائے میری ہلاکت!آہ میری رسوائی… (والعیاذ باللہ )
یہاں پہنچ کراپنی آنکھیں کھول دیجئے اور اپنے آپ سے مخاطب ہوکر یوں کہئے کہ ’’گھبراؤ نہیں !ابھی مجھ پریہ وقت نہیں آیا ، ابھی میں زندہ ہوں ، یہ زندگی میرے لئے غنیمت ہے ، مجھے اپنی آخر ت سنوارنے کی کوشش میں لگ جانا چاہئے، میں اپنے رب تَعَالٰی کا اطاعت گزار بندہ بننے کے لئے اس کے احکامات پر ابھی اور اسی وقت عمل شروع کر دوں گا تاکہ کل میدانِ محشر میں مجھے پچھتانا نہ پڑے ۔اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ‘‘
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! فکر ِمدینہ کی برکات سے کامل طور پر فیض یاب ہونے کے لئے ضروری ہے کہ ہم کچھ دیر کے لئے فکرمدینہ میں مشغول ہوجانے کو ہی اپنی منزل تصور نہ کریں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ اپنی اصلاح کی بھی کوشش کریں ۔ اس مقصد کے حصول کے لئے ہمیں بری صحبت سے جان چھڑا کر اچھی صحبت اپنانا ہوگی جس کی برکتوں کی طرف اشارہ فرماتے ہوئے پیارے آقا ، مکی مدنی سلطان ، رحمت عالمیان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا، ’’اچھے اور برے مصاحب کی مثال ، مشک اٹھانے والے اور بھٹی جھونکنے والے کی طرح ہے ، کستوری اٹھانے والا تمہیں تحفہ دے گا یا تم اس سے خریدو گے یا تمہیں اس سے عمدہ خوشبو آئے گی ، جبکہ بھٹی جھونکنے والا یا تمہارے کپڑے جلائے گا یا تمہیں اس سے ناگوار بو آئے گی ۔‘‘ (صحیح المسلم، ، ص۱۱۱۶، رقم الحدیث ۲۶۲۸)
واقعی! ہر صحبت اپنا اثر رکھتی ہے ، مثلاً اگر آپ کی ملاقات کسی ایسے اسلامی بھائی سے ہو جس کی آنکھوں میں اپنے کسی عزیز کی موت کی وجہ سے نمی تیر رہی ہو ، اس کے چہرے پر غم کے بادل چھائے ہوئے ہوں اور اس کے لہجے سے اداسی جھلک رہی ہو تو اس کی یہ حالت دیکھ کر کچھ دیر کے لئے آپ بھی غمگین ہوجائیں گے اور اگر آپ کو کسی ایسے اسلامی بھائی کے پاس بیٹھنے کا اتفاق ہو ، جس کا چہرہ کسی کامیابی کے وجہ سے خوشی سے دمک رہا ہو، اس کے لبوں پر مسکراہٹ کھیل رہی ہو اور اس کی باتوں سے مسرت کا اظہار ہورہا ہو تو خواہی نخواہی آپ بھی کچھ دیر کے لئے اس کی خوشی میں شریک ہوجائیں گے ۔
بالکل اسی طرح اگر کوئی شخص ایسے لوگوں کی صحبت اختیار کرے گا جو فکر ِ آخرت سے یکسر غافل ہوں اور گناہوں کے ارتکاب میں کسی قسم کی جھجھک محسوس نہ کرتے ہوں تو غالب گمان ہے کہ وہ بھی بہت جلد انہی کی مانندہوجائے گا اور اگر کوئی ایسے لوگوں کی صحبت اختیار کرے گا جن کے دل فکر ِ مدینہ سے معمور ہوں ، وہ دن رات اخروی کامیابی کے لئے اپنی اصلاح کی کوشش میں مصروف رہیں ، ان کی آنکھیں اللہ تَعَالٰی کے ڈر سے روئیں تو یقینی طور پر یہی کیفیات اس شخص کے دل میں بھی سرایت کر جائیں گی ۔ اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ
رہا یہ سوال کہ فی زمانہ ایسی صحبتیں کہاں مل سکتی ہے تو آپ سے گزارش ہے کہ اس سوا ل کا جواب حاصل کرنے کے لئے آپ ان گزارشات پر عمل فرمائیے، اپنے شہر میں جمعرات کے دن ہونے والے دعوت ِ اسلامی کے ہفتہ وار سنتوں بھرے اجتماع میں شرکت کی سعادت حاصل کریں ۔(اسلامی بہنیں اپنے اپنے شہر میں ہونے والے اسلامی بہنوں کے ہفتہ وار اجتماع میں شرکت فرمائیں ۔) جہاں پر ہونے والی تلاوتِ قرآن، اصلاحی بیان، اجتماعی طور پر کی جانے والی فکر ِ مدینہ اور ذکرُاللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اشک بار آنکھوں کے ساتھ کی جانے والی دعائیں ، سرور ِ عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی خدمت میں پیش کیا جانے والے درود وسلام، پھرسنتیں سیکھنے اور دعائیں یاد کروانے کے حلقے وغیرہ، یہ سب کچھ آپ کے دل ودماغ میں انقلاب برپا کر دے گا ۔ اس کے علاوہ وہاں پر آپ کو اس گئے گزرے دور میں بھی ہزاروں ایسے اسلامی بھائی ملیں گے جو سرکار ِ دو عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی سنتوں کی چلتی پھرتی تصویر ہیں ۔ ان کی حیاء سے جھکی ہوئی نگاہیں ، سنت کے مطابق بدن پر سفید لباس اورسر پر زلفیں نیز گنبد ِ خضریٰ کی یاد دلا دینے والا سبز سبزعمامہ، چہرے پر شریعت کے مطابق ایک مٹھی داڑھی ، بقدرِ ضرورت گفتگو کا باادب انداز ، خوش اخلاقی کا نمایاں وصف اورکردار کی پاکیزگی آپ کو یہ سوچنے پر مجبور کر دے گی کہ مجھے سفرِ آخرت کی کامیابی کے لئے ایسا ہی مدنی ماحول درکار ہے ۔ قوی گمان ہے کہ ان ہی میں سے کوئی بھی آگے بڑھ کر آپ سے ملاقات کرے ، جس کے نتیجے میں آپ دعوت ِ اسلامی کے ماحول کی افادیت کے مزید قائل ہوجائیں اور آپ بھی یہ مدنی مقصد لے کر گھر لوٹیں کہ، ’’مجھے اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کرنی ہے ۔ اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ‘‘
محترم اسلامی بھائیو!جس مدنی مقصد کو آپ نے اجتماع میں شرکت کی برکت سے اپنایا تھا اس مقصد کو پورا کرنے کا بہترین ذریعہ ہے کہ اپنی اصلاح کے لئے مدنی انعامات (جن کا ذکر پہلے ہوچکا ہے )پر عمل کریں اور اس کا کارڈ پر کر کے ہر ماہ کی پہلی جمعرات کو اپنے یہاں کے ذمہ دار کو جمع کروانے کا معمول بنا لیجئے۔ اورساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کے سلسلے میں دعوت ِ اسلامی کے سنتوں کی تربیت کے لئے سفر کرنے والے’’ مدنی قافلوں ‘‘میں شرکت کرنا بے حدضروری ہے ۔ اپنی روزمرہ کی دنیاوی مصروفیات ترک کرکے اپنے گھر والوں اور فکرِآخرت سے غافل کردینے والے دوستوں کی صحبت چھوڑ کر جب ہم ان قافلوں میں سفر کریں گے تو ان قافلوں میں سفر کے دوران ہمیں اپنے طرزِزندگی پر دیانت دارانہ غوروفکر کا موقع میسر آئے گا ، اپنی آخرت کو بہتر سے بہتر بنانے کی خواہش دل میں پیدا ہوگی، جس کے نتیجے میں اب تک کئے جانے والے گناہوں کے ارتکاب پر ندامت محسوس ہوگی ، ان گناہوں کی ملنے والی سزاؤں کا تصور کر کے رونگٹے کھڑے ہوجائیں گے ، دوسری طرف اپنی ناتوانی وبے کسی کا احساس دامن گیر ہوگااوراگر دل زندہ ہوا توخوفِ خدا کے سبب آنکھوں سے بے اختیار آنسوچھلک کررخساروں پر بہنے لگیں گے۔
محترم اسلامی بھائیو!ان قافلوں میں مسلسل سفر کرنے کے نتیجے میں فحش کلامی اور فضول گوئی کی جگہ زبان سے درود ِ پاک جاری ہوجائے گا ، یہ تلاوت قرآن ، حمد ِ الٰہی اور نعت ِرسول صَلَّی اللہُ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع