30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
یاد رکھ اگراب بھی توخواب ِ غفلت سے بیدار نہ ہوا تو موت کے جھٹکے بالآخرتجھے جھنجھوڑ کر اٹھا دیں گے، …لیکن افسوس ! اس وقت بہت دیر ہوچکی ہوگی ، پچھتانے کے سواء کچھ حاصل نہ ہو گا، …اس زندگی کو غنیمت سمجھتے ہوئے خدائے احکم الحاکمین عَزَّ وَجَلَّ کی اطاعت اور اس کے حبیب، نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی سنتوں کی اتباع میں مشغول ہوجا ۔اللہ تَعَالٰی تیرا حامی وناصرہو۔
اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم ‘‘
(16)اپنے سفرِ آخرت کے حوالے سے’’ فکرِ مدینہ‘‘
کبھی اس طرح تصور کیجئے ، کہ ’’ میری موت کا وقت آن پہنچا ہے اور مجھ پر غشی طاری ہو چکی ہے، … میرے ارد گرد کھڑے ہونے والے بے بسی کے عالم میں مجھے موت کے منہ میں جاتا ہوا دیکھ رہے ہیں ، …نزع کی سختیاں شروع ہوچکی ہیں ، … زبان خاموش ہوچکی ہے ، … مجھے سخت پیاس محسوس ہو رہی ہے، …، اسی اثنا میں کوئی مجھے تلقین کرنے(یعنی میرے سامنے کلمہ پاک پڑھنے) لگا ، …اس کے بعد کسی نے میرے سرہانے سورۂ یٰسین شریف کی تلاوت شروع کر دی ، … ، سامنے کے مناظر دھندلے ہونے لگے، … گلے سے خرخراہٹ کی آوازیں آنا شروع ہوگئیں ، بالآخر میری روح نے جسم کا ساتھ چھوڑدیا۔
میری موت واقع ہوتے ہی عزیز و اقارب پر گریہ طاری ہوگیا ۔ بیوی بچے ، بہن بھائی ، ماں باپ وغیرہ سبھی کی آنکھوں سے شدتِ غم سے آنسو بہہ رہے ہیں ، … کچھ لوگوں نے آگے بڑھ کررونے والوں کی غم خواری کی، …ان میں سے کسی نے آگے بڑھ کر میری بے نور آنکھیں بند کر دیں اور پاؤں کے دونوں انگوٹھے اوردونوں جبڑوں کو کپڑے کی پٹی سے باندھ دیا گیا، …پھر میری تدفین کے انتظامات ہونے لگے ، …رشتہ داروں اور دوستوں کو میرے مرنے کی خبربھی دے دی گئی ، … غسل کا انتظام ہونے پر مجھے تختۂ غسل پر لٹاکر غسل دیا گیا اورسفید کفن پہناکر آخری دیدار کے لئے گھر والوں کے سامنے لٹا دیا گیا، … میرے چاہنے والوں نے آخری مرتبہ مجھے دیکھا کہ یہ چہرہ اب دنیا میں دوبارہ ہمیں دکھائی نہ دے گا، …پورے گھر کی فضا پر عجیب سوگواری چھائی ہوئی ہے اور درودیوار سے حسرت ٹپک رہی ہے ۔
بالآخر! میرے جنازے کو کندھوں پر اٹھا لیا گیا ، … میں نے بڑی حسرت سے اپنے نئے گھر کو دیکھا جسے میں نے بڑے شوق سے بنایا تھا لیکن مجھے اس میں زیادہ عرصہ رہنا نصیب نہ ہوسکا، … اپنے کمرے کی طرف دیکھا جہاں کا مکین اب کوئی دوسراہوگا، … اپنے استعمال کی چیزوں کی طرف دیکھا جنہیں اب کوئی اور استعمال کرے گا … ، اپنے ہاتھوں سے لگائے ہوئے پودوں کی جانب دیکھا جن کی نگہبانی اب کوئی دوسرا کرے گا، …لوگ میرا جنازہ اپنے کندھوں پر اٹھائے جنازہ گاہ کی طرف بڑھنا شروع ہو گئے ، … میں نے انتہائی حسرت کے ساتھ آخری مرتبہ اپنے ماں باپ ، بیوی بچوں ، بھائی بہنوں ، دیگر رشتہ داروں ، دوستوں اور محلے والوں کی طرف دیکھا، … ان راہوں کو دیکھا جن سے کبھی میرا گزرتھا ۔
جنازہ گاہ پہنچ کر میری نمازِ جنازہ ادا کی گئی اور مجھے طویل عرصے کے لئے کسی تاریک قبر میں تنہا چھوڑآنے کے لئے میری چارپائی کا رخ قبروں کی جانب کر دیا گیا، … یہ وہی قبرستان ہے کہ جہاں دن کے اجالے میں تنہا آنے کے تصور سے ہی میرا کلیجہ کانپتا تھا، … یہ وہی قبر ہے جس کے بارے میں کہا گیا کہ جنت کا ایک باغ ہے ۔۔یا۔۔ دوزخ کا ایک گڑھا ، …یہ تو وہی جگہ ہے کہ جہاں دوخوف ناک شکلوں والے فرشتے سر سے پاؤں تک بال لٹکائے ، آنکھوں سے شعلے نکالتے ہوئے انتہائی سخت لہجے میں مجھ سے تین سوال کریں گے ، ’’مَنْ رَّبُّکَ(تیرا رب کون ہے؟) ‘‘ اور ’’مَادِیْنُکَ(تیرا دین کیا ہے؟) ‘‘ اس کے بعد کسی کی نورانی صورت دکھا کر پوچھیں گے ، ’’مَاکُنْتَ تَقُوْلُ فِیْ ھٰذَا الرَّجُل(تُو اس ہستی کے بارے میں کیا کہا کرتا تھا؟) ‘‘ ۔
آہ! گناہوں کی نحوست کے سبب کہیں میری قبر دوزخ کا گڑھا نہ بنا دی جائے۔ اے کاش ! میں نے زندگی میں نیکیاں کمائی ہوتیں ، افسوس! میں نے گناہوں سے پرہیز کیاہو تا ، آہ ! اب میرا کیا بنے گا ۔‘‘ اس کے بعد آنکھیں کھول دیں اور اپنے آپ سے مخاطب ہوکرکہیں کہ ’’ابھی تومیں زندہ ہوں ، ابھی میری سانسیں چل رہی ہیں ، …میں ان حسرت آمیز لمحات کے آنے سے پہلے پہلے اپنی قبر کو جنت کا باغ بنانے کی کوشش میں لگ جاؤں گا ، … خوب نیکیاں کروں گا ، گناہوں سے کنارہ کشی اختیار کروں گا تاکہ کل مجھے پچھتانا نہ پڑے ۔ اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ‘‘
(17) میدانِ محشر میں اپنی حاضری کے حوالے سے’’ فکرِ مدینہ‘‘
کبھی اس طرح تصور کریں کہ ’’میں نے قبر میں ایک طویل عرصہ رہنے کے بعد بے شمار مُردوں کی طرح وہاں سے نکل کر بارگاہ الٰہی عَزَّ وَجَلَّ میں حاضری کے لئے میدان محشر کی طرف بڑھنا شروع کردیا ہے، …سورج ہمارے بہت قریب ہے اور آگ برسا رہا ہے، لیکن اس کی تپش سے بچنے کے لئے کوئی سایہ بھی میسر نہیں ، … ہر ایک کو پسینوں پر پسینے آرہے ہیں جس کی بدبو سے دماغ پھٹا جارہا ہے، …ہر کوئی پیاس سے نڈھال ہے…، ہجوم کی کثرت کی وجہ سے دھکے لگ رہے ہیں ، …جبکہ دل زندگی بھر کی جانے والی اللہ تَعَالٰی کی نافرمانیوں کا سوچ کر ڈوبا جارہا ہے، …ان کے نتیجے میں ملنے والی جہنم کی ہولناک سزاؤں کے تصور سے کلیجہ کانپ رہا ہے، …میدانِ محشر تو وہ امتحان گاہ ہے جس کے بارے میں کہا گیا کہ انسان اس وقت تک قدم نہ ہٹا سکے گا جب تک ان پانچ سوالات کے جوابات نہ دے لے(۱)تم نے زندگی کیسے بسر کی؟(۲)جوانی کس طرح گزاری ؟ (۳)مال کہاں سے کمایا ؟اور…(۴)کہاں کہاں خرچ کیا ؟(۵)اپنے علم کے مطابق کہاں تک عمل کیا ؟
اب عمر بھر کی کمائی کا حساب دینے کا وقت آن پہنچا لیکن افسوس!میرے پلے سوائے گناہوں کے کچھ نہیں ، … شدت کی بے بسی کے عالم میں پچھتاوے کا احساس بھی دامن گیر ہے کہ اللہ تَعَالٰی کی بارگاہ میں پیش کرنے کے لئے میرے پاس کوئی حسن عمل نہیں ، …کیونکہ شریعت نے جو کرنے کا حکم دیا وہ میں نے کیا نہیں مثلاًمجھے روزانہ پانچ وقت مسجد میں باجماعت نمازپڑھنے کا حکم ملا لیکن افسوس! میں نیند ، مصروفیت ، تھکن ، دوستوں کی محفل وغیرہ کے سبب ان کو قضاء کر دیتا رہا…، مجھے رمضان المبارک کے مہینے میں روزہ رکھنے کا کہا گیا لیکن افسوس میں معمولی بیماری اور مختلف حیلوں بہانوں سے روزہ رکھنے کی سعادت سے محروم ہوتا رہا…، مجھے مخصوص شرائط کے پورا ہونے پر زکوۃوحج کی ادائیگی کا حکم ہوا ، لیکن افسوس! میں مال کی محبت کی وجہ سے زکوۃ وحج کی ادائیگی سے کتراتا رہا ، ۔۔۔ اور۔۔۔ جس جس گناہ سے بچنے کی تلقین کی گئی تھی ، میں انہی گناہوں میں ملوث ہوتا رہا مثلاً مجھے کسی مسلمان کو بلااجازت ِ شرعی تکلیف دینے سے روکا گیا لیکن آہ! میں مسلمانوں پر ظلم ڈھاتا رہا… ، والدین کو ستانے سے منع کیا گیا لیکن آہ! میں نے والدین کی نافرمانی کر کے ان کو ستانا اپنی عادت بنا لیاتھا… ، کسی نامحرم عورت کو بشہوت یا بلا شہوت دونوں صورتوں میں دیکھنے سے روکا گیا لیکن آہ! میں نے اپنی نگاہوں کی حفاظت نہ کی…، جھوٹ، غیبت چغلی ، فحش کلامی اور گالم گلوچ سے اپنی زبان پاک رکھنے کا کہا گیا لیکن آہ! میں اپنی زبان کو قابو میں نہ رکھ سکا …، مجھے غیبت ، فحش کلامی وغیرہ سننے سے روکا گیا لیکن میں اپنی سماعت پاکیزہ نہ رکھ سکا …، دل کو بغض، حسد، تکبر، بدگمانی، شماتت، ناجائز لالچ وغصہ وغیرہ سے خالی رکھنے کا ارشاد ہوا لیکن آہ! میں اپنے دل کو ان غلاظتوں سے نہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع