دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fikr e Madina Ma 41 Hikayaat e Attaria | فکر مدینہ

book_icon
فکر مدینہ

پکڑ نہ ہوگی جبکہ اس کے کرنے کا پختہ ارادہ نہ رکھتا ہو ۔‘‘(ج۱۵، ص۹۷)

        جبکہ سورۂ نور میں ارشاد فرمایا ، …

یَّوْمَ تَشْهَدُ عَلَیْهِمْ اَلْسِنَتُهُمْ وَ اَیْدِیْهِمْ وَ اَرْجُلُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ(۲۴)

ترجمۂ کنزالایمان : جس دن ان پر گواہی دیں گی ان کی زبانیں ، ان کے ہاتھ اور ان کے پاؤں جو کچھ کرتے تھے ۔۱۸۔النور : ۲۴)

        حضرت علامہ سید محمود آلوسی بغدادی علیہ الرحمۃ اس آیت کے تحت لکھتے ہیں ، ’’ مذکورہ اعضاء کی گواہی کا مطلب یہ ہے کہ اللہ  تَعَالٰی اپنی قدرت ِکاملہ سے انہیں بولنے کی قوت عطا فرمائے گا، پھر ان میں سے ہر ایک اُس شخص کے بارے میں گواہی دے گا کہ وہ ان سے کیا کام لیتا رہا ہے ۔‘‘ (تفسیر روح المعانی ، ج۱۸، ص۴۴۲)

نیز… درۃ الناصحین میں ہے ، …

        ’’قیامت کے دن ایک شخص کو بارگاہِ خداوندی میں لایا جائے گا اور اسے اس کا اعمال نامہ دیا جائے گا تو وہ اس میں کثیر گناہ پائے گا ۔ وہ عرض کرے گا، ’’یاالٰہی  عَزَّ  وَجَلَّ  ! میں نے تو یہ گناہ کئے ہی نہیں ؟‘‘اللہ   عَزَّ  وَجَلَّ  ارشاد فرمائے گا ، ’’میرے پاس اس کے مضبوط گواہ ہیں ۔‘‘ وہ بندہ اپنے دائیں بائیں مڑ کر دیکھے گا لیکن کسی گواہ کو موجود نہ پائے گا اور کہے گا ، ’’یارب  عَزَّ  وَجَلَّ ! وہ گواہ کہاں ہیں ؟‘‘ تو اللہ  تَعَالٰی اس کے اعضاء کو گواہی دینے کا حکم دے گا۔کان کہیں گے، ’’ہاں ! ہم نے (حرام)سنا اور ہم اس پر گواہ ہیں ۔‘‘ آنکھیں کہیں گی، ’’ہاں !ہم نے(حرام)دیکھا۔‘‘ زبان کہے گی، ’’ہاں ! میں نے (حرام) بولاتھا۔‘‘اسی طرح ہاتھ اور پاؤں کہیں گے، ’’ہاں ! ہم (حرام کی طرف)بڑھے تھے۔‘‘شرم گاہ پکارے گی ، ’’ہاں ! میں نے زنا کیا تھا۔‘‘ اوروہ بندہ یہ سب سن کر حیران رہ جائے گا ۔(ملخَّصًا ، المجلس الخامس والستون ، ص۲۹۴)

(3)   زمین  :  

                یہ زمین جس پر ہم اپنی زندگی کے شب وروز بسر کرتے ہیں اوراس سے کسی قسم کی جھجک یا شرم محسوس کئے بغیر ہر جائز وناجائز فعل کر گزرتے ہیں ۔ آج یہ ہماری کسی حرکت پر اپنے ردِعمل کا اظہار نہیں کرتی ، لیکن کل قیامت کے دن یہ بھی ہمارے بارے میں گواہی دے گی کہ ہم اس پر کیا کچھ کرتے رہے ہیں ؟ چنانچہ سورہ زلزال میں ارشاد ہوتا ہے، …

یَوْمَىٕذٍ تُحَدِّثُ اَخْبَارَهَاۙ(۴)

ترجمۂ کنزالایمان :  اس دن وہ (یعنی زمین) اپنی خبریں بتائے گی ۔۳۰۔الزلزال : ۴)

        امام فخر الدین رازی علیہ الرحمۃ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں ، ’’بلاشبہاللہ  عَزَّ  وَجَلَّ  اس زمین کو زندہ ، عقل مند اور بولنے والی بنا دے گا اور یہ پہچانے گی کہ اس پر بسنے والے کیا کیا عمل کرتے رہے ہیں ؟ پھر یہ نیک لوگوں کے حق میں اور گناہ گاروں کے خلاف گواہی دے گی ، رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا ، ’’اِنَّ الْاَرْضَ لَتُخْبِرُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ بِکُلِّ عَمَلٍ عُمِلَ عَلَیْھَا یعنی بے شک قیامت کے دن زمین ہر اس عمل کے بارے میں بتائے گی جو اس پر کیا جاتا رہا ۔‘‘ پھر آپ نے یہی آیت تلاوت فرمائی۔الحدیث اوربروزِ قیامت زمین کا بولنا ہمارے مذھب کے نزدیک بعید نہیں ہے کیونکہ ہمارے نزدیک زندگی کے لئے جسم کا ہونا ضروری نہیں ہے ، لہذا !اللہ   عَزَّ  وَجَلَّ  زمین کو اس کی شکل ، خشکی اور تنگی پر باقی رکھتے ہوئے اسے زندگی اور بولنے کی قوت عطا فرمائے گا ، اس سے مقصود یہ ہو گا کہ زمین نافرمانوں سے شکوہ کرسکے اور فرمانبرداروں کا شکریہ ادا کر سکے ، چنانچہ یہ کہے گی کہ’’فلاں شخص نے مجھ پر نماز پڑھی، زکوٰۃ دی ، روزے رکھے اور حج کیا جبکہ فلاں نے کفر کیا ، زنا کیا ، چوری کی ، ظلم کیا … حتیّٰ کہ کافر (یہ سن کر)تمنا کرے گا کہ اسے جہنم میں پھینک دیا جائے ۔   (التفسیر الکبیر ۔الجزء الثانی والثلاثون ، ص ۲۵۵)

        اسی آیت کے تحت تفسیر درِمنثور میں ہے کہ حضرت سیدنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی  ہے کہ رسول ِاکرم ، شفیع ِ معظم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے یہ آیت تلاوت فرمائی ، یَوْمَىٕذٍ تُحَدِّثُ اَخْبَارَهَاۙ(۴) ترجمۂ کنزالایمان :  اس دن وہ (یعنی زمین) اپنی خبریں بتائے گی ۔‘‘ پھر دریافت فرمایا ، ’’ کیا تم جانتے ہو ، یہ کیا بتائے گی ؟ یہ ہر مرد وعورت کے تمام اعمال کے بارے میں بتائے گی جو وہ اس کی پیٹھ پر کرتے رہے ، یہ کہے گی ، ’’اِس نے فلاں دن یہ کیا تھا ، اُس نے فلاں دن یہ کیا تھا ۔‘‘ ( بحوالہ ترمذی، کتاب صفۃ القیامۃ ، ، ج ۴، رقم ۲۴۳۰)

        اور حضرت ربیعہ جرشی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ رسول اللہ  (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) نے ارشاد فرمایا، ’’تَحَفَّظُوْا مِنَ الْاَرْضِ فَاِنَّھَا اُمُّکُمْ وَاِنَّہُ لَیْسَ مِنْ اَحَدٍ عَامَلَ عَلَیْھَا خَیْرًا اَوْشَرًّا اِلَّا وَھِیَ مُخْبِرَۃٌ بِہِ ۔زمین سے محتاط رہو کہ یہ تمہاری اصل ہے اور جو کوئی اس پر اچھا یا برا عمل کرے گا ‘یہ اس کی خبر دے گی ۔‘‘ (ج ۸، ص۵۴۱)   

(4)   دن اور رات  :  

                آج ہم کوئی بھی کام کرتے وقت دن کے اجالے یا رات کی تاریکی کی مطلقاً پرواہ نہیں کرتے ۔ لیکن یاد رکھئے ! کہ بروز ِ قیامت یہ بھی ہماری نیکی یا بدی پر گواہ ہوں گے ۔ جیسا کہ

        حضرت سیدنا معقل بن یسار رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے مروی ہے کہ نبی ٔ پاک ، صاحب لولاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا، ’’ کوئی دن ایسا نہیں جو دنیا میں آئے اور وہ یہ نداء نہ کرے ، ’’اے ابن ِ آدم! میں تیرے ہاں جدید مخلوق ہوں ، آج تُو مجھ میں جو عمل کرے گا میں کل قیامت کے دن اس کی گواہی دوں گا ، تُو مجھ میں نیکی کر تاکہ میں تیرے لئے کل قیامت میں نیکی کی گواہی دوں ، میرے چلے جانے کے بعد تو کبھی مجھے نہ دیکھ سکے گا۔‘‘ پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا ، ’’اور رات بھی یوں ہی اعلان کرتی ہے ۔‘‘(حلیۃ الاولیاء، ج۲، ص ۳۴۴ ، رقم الحدیث ۲۵۰۱)

        اور بعد ِ موت ‘قبر میں طویل عرصے تک قیام کرنے کے بعد قیامت قائم ہونے پر جب ہم میدان ِ محشر میں پہنچیں گے توہمارے اِن تمام اعمال کو ہمارے سامنے لایا جائے گا ، جس کا بیان قرآن پاک میں مختلف مقامات پر کیا گیا ہے ، چنانچہ …

       (1)  سورۃالتکویر میں ہے …

وَ اِذَا الصُّحُفُ نُشِرَتْﭪ(۱۰)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن