30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
میں استعمال نہ کرنا کہ میں نے نافرمانوں کے لئے جہنم کا عذاب تیار کر رکھا ہے ، …‘‘
اے شخص ! یقینا تجھے کسی مخلوق سے کہیں زیادہ اپنے رب عَزَّ وَجَلَّ سے ڈرنا چاہیے، اس کی دی ہوئی ذمہ داریوں کو پورا کرنا چاہیے ، قصور ہوجائے تو اعتراف کرنے اور معافی مانگنے میں دیر نہیں کرنی چاہیے کہ’’ وہ سب کچھ دیکھ رہا ہے ‘‘، نیکی ہوجانے پر اسی کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ اس نے تجھے اس کی توفیق دی ، امیدہے کہ آج کے بعد تُو ایسا ہی کرے گا۔ اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ‘‘
(11) کاروبار کے حوالے سے’’ فکرِ مدینہ‘‘
کبھی اپنے کاروبارکے حوالے سے اس طرح فکر ِ مدینہ کریں ، ’’اے بندے ! تونے اس کاروبار کو اپنایا کہ تیری ضروریات پوری ہوسکیں اورتُو زندگی کی آسائشیں بھی حاصل کر سکے، … تیرا یہ مقصد اسی وقت پورا ہوسکتا ہے جب تو اپنے کاروبار سے خاطر خواہ نفع کمانے میں کامیاب ہوجائے ، …اسی لئے تُو نفع کمانے کے لئے اپنے کاروبار کا ہر پہلو سے خیال رکھتا ہے ، اس کا حساب کتاب رکھتا ہے ، اس کا روزانہ ، ہفتہ وار، ماہانہ اور سالانہ جائزہ لیتا ہے، لاگت اور آمدنی کا حساب کر کے نفع کی رقم الگ کر لیتا ہے اور اس میں سے اپنی ضرورت کے بقدر رقم رکھنے کے بعد بقیہ دوبارہ کاروبار میں لگا دیتا ہے ، … بِکری بڑھانے کے لئے مختلف حربے استعمال کرتا ہے مثلاً ڈیکوریشن، گاہگوں سے ڈیل کرنے کے دوران خوش اخلاقی کا پیکر بنے رہنا ، کسی گاہگ کو بد ظن نہ ہونے دینا، وقت پر دکان کھولنا اور بند کرنا ، مارکیٹ کے حالات کا جائزہ لیتے رہنا ، تجربہ کار لوگوں سے مشاورت کرتے رہنا وغیرہ …
لیکن یاد رکھ! یہ دنیوی کاروبار تو یہیں رہ جائے گا کیونکہ اس کی منزل تومحض دنیاوی ضروریات کو پوراکرنا اور سہولیات ِ زندگی حاصل کرلینا ہے ، … اس لئے بطورِ مسلمان تجھے اپنی دنیا کی ہی نہیں بلکہ بہتر آخرت کی بھی فکر ہونی چاہئے ، … اور بہتر آخرت کے لئے ضروری ہے کہ تُو اپنے کاروبار ِ آخرت پر اس سے کہیں زیادہ توجہ دے جتنی تو اس دنیاوی کاروبار پر دیتا ہے ، …لہذا! تجھے چاہیے کہ روزانہ اپنے اعمال کا محاسبہ کرے ، جو عمل نقصان ِ آخرت کا سبب بنے اسے چھوڑ دے اور جو عمل آخرت کے لئے نفع بخش ثابت ہو اسے اپنائے رکھے اور مزید بہتر کرے ، …اس طریقہ کار کو اپنانے سے تُو آخرت میں رحمت ِ الٰہی عَزَّ وَجَلَّ کے سبب نفع یعنی جنت حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائے گا ۔اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ‘‘
(12) خوف کے حوالے سے’’ فکرِ مدینہ‘‘
کبھی اس طرح فکر ِ مدینہ کریں ، ’’اے بندے ! آج تجھے طرح طرح کے دنیاوی خوف نے گھیر رکھا ہے مثلا بھوک کا خوف ، غربت کا خوف ، بے عزتی کا خوف، قرض خواہوں کا خوف، نوکری سے نکالے جانے کا خوف ، کاروباری نقصان کا خوف، مال چھن جانے کا خوف، بے روزگاری کا خوف ، عہدہ چھن جانے کا خوف ، پولیس کا خوف ، والدین اور استاذ کی ڈانٹ ڈپٹ کا خوف وغیرھم …اے بندے سوچ تو سہی ! جس طرح دنیاوی خوف سے تیرا دل سہما رہتا ہے ، کیا کبھی اپنے رب عَزَّ وَجَلَّ کی بے نیازی ، اس کی پکڑ ، اس کی جانب سے دی جانے والی گناہوں کی سزاؤں کا سوچ کر بھی تیرے دل پر گھبراہٹ طاری ہوئی ہے ؟…اب تک تُواپنی زندگی کی کتنی سانسیں لے چکاہے، بچپن ، جوانی ، بڑھاپے میں سے تُو اپنی عمر کے کتنے اَدوار گزار چکا ہے؟ کیا کبھی تیرے بدن پر بھیاللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ڈر سے لرزہ طاری ہوا ؟ کیا غم ِ دنیا میں بہنے والی تیری اِن آنکھوں سے خشیتِ الٰہی عَزَّ وَجَلَّ کی وجہ سے آنسو نکلے ؟ کیا کبھی کسی گناہ کے لئے اٹھے ہوئے تیرے قدم اس کے نتیجے میں ملنے والی سزا کا سوچ کر واپس ہوئے ؟کیا کبھی تُونے اللہ تَعَالٰی کی بارگاہ میں حاضری اور اس کی طرف سے کی جانے والی گرفت کے ڈر سے زندگی کی کوئی رات جاگ کر گزاری ؟ کیا کبھی رب تَعَالٰی کی ناراضگی کا سوچ کرتجھے گناہوں سے وحشت محسوس ہوئی ؟ ‘‘
اگر جواب ہاں میں ہو تو ذرا سوچئے کہ، ’’ میں نے ان کیفیات کو محسوس بھی کیا تو کیا خوفِ خدا عَزَّ وَجَلَّ کے عملی تقاضوں پر عمل پیرا ہونے کی سعادت حاصل کی یا محض ان کیفیات کے دل پر طاری ہونے پر مطمئن ہو گیا کہ میں اللہ تَعَالٰی سے ڈرنے والوں میں سے ہوں اورآنکھ ، زبان ، کان ، ہاتھ ، پاؤں ، دل کے ذریعے کئے جانے والے مختلف گناہوں سے اپنا نامۂ اعمال بدستور سیاہ کرنے کا عمل جاری رکھا اور نیکیوں سے محرومی کا تسلسل بھی نہ ٹوٹ سکا؟ …‘‘
اور اگرجواب نفی میں آئے تو غور کیجئے، ’’ کہیں ایسا تو نہیں کہ کثرت ِگناہ سے میرا دل انتہائی سخت ہوچکاہو جس کی وجہ سے میں ان کیفیات سے اب تک محروم ہوں ؟آہ!سخت دلی اوراس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی غفلت کہیں مجھے جہنم کی اتھاہ گہرائیوں میں نہ گرا دے ۔ ‘‘
اس کے بعد اپنے آپ سے یوں عہد کیجئے کہ ، ’’میں آج کے بعد اپنے دل میں خوفِ خدا عَزَّ وَجَلَّ کی کیفیت بیدار کرنے کی بھر پور کوشش کروں گا ، تاکہ مجھے نیکیاں کرنے میں آسانی اور گناہوں کے ارتکاب میں بے حد دشواری محسوس ہو ، میں بھی اپنےاللہ عَزَّ وَجَلَّ کے خوف سے رویا کروں گا تاکہ اس فضیلت کو حاصل کر سکوں کہ رحمت ِ کونین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا، ’’ جو شخص اللہ تَعَالٰی کے خوف سے روئے تو وہ اس کی بخشش فرما دے گا۔‘‘(کنز العمال ، ، ج۳، ص۶۳، رقم الحدیث ۵۹۰۹ )
(13) اپنی موت کے حوالے سے’’ فکرِ مدینہ‘‘
کبھی اپنی موت کے بارے میں اس طرح فکر ِ مدینہ کیجئے، ’’اے بندے! آج تُوعیش وعشرت کی زندگی کے مزے لوٹ رہا ہے، لذت ِ گناہ نے تجھے اندھا کردیا اورتو رونق ِ دنیا میں مگن ہو کر رہ گیا، … کیا کبھی سوچا ہے کہ ایک دن تجھے بھی موت آئے گی ، وہ موت جو ماں باپ کو بیٹے سے ، بیٹے کو والدین سے ، بہن کو بھائی سے ، بھائی کو بہن سے، بھائی کوبھائی سے ، شوہر کو بیوی سے ، بیوی کو شوہر سے اور انسان کو اپنے دوستوں سے جدا کردیتی ہے ، …یہ وہ ہے کہ جب اِس کے آنے کاوقت آجائے تو کوئی خوشی یا غم ، کوئی مصروفیت ، کسی قسم کے ادھورے کام اس کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتے، … اور اس کے آنے کا وقت بھی تجھے معلوم نہیں ، … یہ کسی خاص عمر کی بھی پابند نہیں ، بچہ ہو یا بوڑھا ، جوان ہو یا اُدھیڑ عمر یہ بلاامتیاز سب کو زندگی کی رونقوں کے بیچ سے اٹھا کر قبر کے گڑھے میں پہنچا دیتی ہے ، …یہ جب آتی ہے تو اس کی سختی ایسی ہے کہ انسان کو ہزار تلواروں کے زخم اس کے مقابلے میں ہلکے محسوس ہوں ، زندہ بکری کی کھال کھینچ لی جائے تو اس کی تکلیف اس سے کہیں کم ہوگی جتنی موت کے آنے پر ہوتی ہے ، ہاں ! جس کے لئےاللہ عَزَّ وَجَلَّ چاہے اس کی موت کو آسان فرمادیتا ہے …اس کے آنے کے طریقے بھی یکساں نہیں ہوتے بلکہ کوئی پانی میں ڈوب کر مرتا ہے تو کوئی آگ میں جل کر ، کوئی بستر پر مرتا ہے تو کوئی سفر میں ، کوئی ملبے تلے دب کر ہلاک ہوتا ہے تو کوئی بلندی سے گر کر ، کوئی ایکسیڈنٹ میں اپنی جان ہارتا ہے تو کوئی کسی بم دھماکے کا شکار ہوتا ہے ، کوئی زہریلی چیز کھالینے سے مرتا ہے تو کوئی زہریلی شے کے کاٹ لینے پر ، کوئی ہارٹ اٹیک کے ذریعے اچانک دنیا سے رخصت ہوتا ہے تو کوئی کینسر کے جان لیوا مرض کے سبب ایڑیاں رگڑ رگڑ کر ، کوئی کسی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع