30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
، بانی ٔ دعوت ِ اسلامی ، شیخ ِ طریقت ، عالمِ ِباعمل ، یادگار ِ اسلاف حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطار قادری مد ظلہ العالی کے عطا کردہ مدنی انعامات کا کارڈ حاصل کر لیں (اسلامی بھائیوں کے لئے 72 ، اسلامی بہنوں کے لئے 63، اسکولز، کالجز اورجامعات کے طلباء کے لئے 92، طالبات کے لئے83، اور مدرسۃ المدینہ کے مدنی منّوں کے لئے40مدنی انعاماتہیں ۔) ، یہ کارڈ آپ کو مکتبۃ المدینہ کی کسی بھی شاخ سے بآسانی ہدیۃً مل جائے گا ، اس کا بغور مطالعہ کرنے کے بعد آپ اس نتیجے پرپہنچیں گے کہ یہ دراصل خود احتسابی کا ایک جامع اور خود کار نظام ہے جس کو اپنا لینے کے بعد نیک بننے کی راہ میں حائل رکاوٹیں ‘ اللہ تَعَالٰی کے فضل وکرم سے بتدریج دور ہوجاتی ہیں اوراس کی برکت سے پابند ِ سنت بننے ، گناہوں سے نفرت کرنے اور ایمان کی حفاظت کے لئے کڑھنے کا ذہن بنتا ہے ۔مدنی انعامات کے سلسلے میں درکار وضاحت کے لئے ’’مدنی گلدستہ ‘‘نامی کتاب اوررسالہ ’’مدنی تحفہ‘‘ بھی مکتبۃ المدینہ سے حاصل فرمالیں ۔ ان انعامات پر عمل کرنے کے ساتھ ساتھ امام غزالی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی نصیحت کے مطابق روزانہ اس کارڈ کو پر کیجئے اور ہر مدنی ماہ (یعنی قمری مہینے ) کے ابتدائی دس دن کے اندر اندر اپنے علاقے کے ذمہ داراسلامی بھائی کو جمع کروانے کا معمول بنا لیجئے ۔
محترم اسلامی بھائیو! یوں توماقبل تقسیم کے اعتبار سے ہمیں ہر لمحہ فکر ِ مدینہ میں مشغول رہنا چاہئیے لیکن فکر ِمدینہ کی برکات کامل طور پر حاصل کرنے کے لئے روزانہ سونے سے پہلے یاکوئی اور وقت مقرر کر کے گھر وغیرہ کے کسی کمرے میں تنہا۔۔۔یا۔۔۔ ایسی جگہ جہاں پر مکمل خاموشی ہو، آنکھیں بند کر کے سر جھکائے کم از کم بارہ منٹ فکر ِ مدینہ کرنے کی عادت بنائیں ، اور پھر مدنی انعامات کا کارڈ پُر کریں (یہ بھی ایک مدنی انعام ہے )۔
’’فکر مدینہ ‘‘کرنے میں آسانی کی خاطر اس کی چند مثالیں ملاحظہ فرمائیں ،
(1) سابقہ اعمال کے حوالے سے’’ فکرِ مدینہ‘‘
کبھی تو اپنے سابقہ اعمال پر نظر دوڑائیں ، پھر ان میں سے جو عمل نیک ہو‘اس کے بارے میں اپنے آپ سے یہ سوالات کریں ، ’’کیا تونے یہ عمل اللہ تَعَالٰی کی رضا کے
حصول کے لئے کیا تھا یا کسی اور غرض سے؟ …اور کیا رضائے الٰہی عَزَّ وَجَلَّ کے حصول کی یہ نیت دوران ِعمل اور اس کی تکمیل کے بعد بھی قائم رہی تھی یا نہیں ؟…کیا تونے اس عمل کے کرنے میں تمام تر شرعی تقاضوں کو پورا کیا تھا ؟…اور کہیں تُو اس عمل کو اپنا کمال تو نہیں سمجھتا ؟اگر تیرے رب عَزَّ وَجَلَّ نے اس عمل کو شرف ِ قبولیت نہ بخشا توتیرا کیا بنے گا؟…
اورجو عمل گناہ پرمشتمل ہو تو اس طرح سے اپنے نفس کو مخاطب کریں ، ’’اے نفس!تجھ پر افسوس ہے کہ تو یہ جاننے کے باوجود اس گناہ میں ملوث ہوگیا کہ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّ تجھے دیکھ رہا ہے ‘‘…، ذرا سوچ! اگر تیرا کوئی خادم ہو اور وہ تیرے کسی حکم کی خلاف ورزی کرے تو تُو طیش میں آجائے اور اسے سزا دینے سے دریغ نہ کرے پھرتُو اپنے رب عَزَّ وَجَلَّ کے قہر وغضب سے کس طرح بچ سکے گا ؟… کیا تو اس گناہ کے نتیجے میں ملنے والی سزا برداشت کر سکتا ہے ؟ذرا کبھی جلتی ہوئی موم بتی کی لو پر ہاتھ رکھ کر اپنی حیثیت تو جان…، افسوس! کہ تُوبیماری کے دوران کسی ڈاکٹر یا حکیم کی نقصان دہ قرار دی ہوئی اشیاء سے توبے حد پرہیز کرتا ہے لیکن اپنی آخرت کونقصان پہنچانے والے گناہوں سے بچنے کی سوچ بنتی ہی نہیں …، تُو سردی سے بچاؤکا انتظام اس کے آنے سے پہلے کر لیتا ہے، لیکن افسوس! موت آنے سے پہلے پہلے آخرت کی تیاری میں کیوں مشغول نہیں ہوتا؟…اے کاش! تجھے یہ باتیں سمجھ آجائیں اور تو تائب ہو کر اپنے رب عَزَّ وَجَلَّ کی فرماں برداری والے کاموں میں مصروف ہوجائے ۔ ہمت کر! اور اس جسم کو جہنم کا ایندھن بننے سے بچانے کے لئے میرے ساتھ تعاون کر ، اللہ تَعَالٰی تجھے جزائے خیر عطا فرمائے ۔
اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم
(2) اوقاتِ زندگی کے حوالے سے’’ فکرِ مدینہ‘‘
کبھی اوقات ِزندگی کے استعمال پر اپنے آپ کا اس طرح محاسبہ کریں ، ’’اے شخص !ذرا سوچ تونے لمحات ِ زندگی کے انمول ہیروں کو کہاں صرف کیا ؟… کیا رب تَعَالٰی کی اطاعت والے کاموں مثلاً نماز، روزے ، تلاوت ِ قرآن ، ذکرودُرود، کسب ِ حلال، صدق ِ کلام ، حفاظت ِ نگاہ ، قلت ِ کلام ، خدمت ِ والدین ، خیر خواہی ٔ مسلمین میں اپنا وقت گزارا ۔۔۔یا۔۔۔ اپنے مالک عَزَّ وَجَلَّ کو ناراض کردینے والے کاموں مثلاً نمازوں اور روزوں کو قضا کردینے ، داڑھی منڈانے ، فلمیں ڈرامے دیکھنے ، ماں باپ کا دل دکھانے ، گالیاں بکنے ، جھوٹ بولنے ، چغل خوری اور غیبت کرنے ، بدنگاہی کرنے ، فحش کلامی کرنے ، مسلمان کو بلااجازت ِ شرعی تکلیف دینے، حرام کمانے میں اپنا وقت برباد کر ڈالا؟…
دن بھر کھیلوں میں خاک اڑائی
لاج آئی نہ ذرّوں کی ہنسی سے
اے شخص !تجھے یہ وقت قبروحشر کے اندوہناک حالات میں سلامتی کے حصول کی کوشش کے لئے دیا گیاتھا ، …لیکن افسوس! تُونے اپنے اکثر لمحات زندگی کو ضائع کردیا ، … اگرتُو پوری زندگی بھی اس نقصان پرآنسو بہاتا رہے تو اس کا مداوا نہیں ہوسکتا، … اور اگر تُو نے اپنے طورطریقے نہ بدلے تویاد رکھ کہ عنقریب تجھے دی گئی یہ مہلت ختم ہوجائے گی اور تجھے موت کے گھاٹ اترنا پڑے گا ، … اندھیری قبر تیرا ٹھکانہ اور مٹی تیرا بچھونا ہوگی، … پھر تو وقت کے ان انمول ہیروں کو ضائع کرنے پر پشیمان ہوگا لیکن اس وقت سوائے پچھتانے کے کچھ حاصل نہ ہو گا ، … اے شخص ! اپنی بحال سانسوں کو غنیمت جان اور سابقہ خطاؤں پر اپنے مالک عَزَّ وَجَلَّ سے معافی مانگتے ہوئے سچی توبہ کر لے اوروقت کی قدر پہچانتے ہوئے پھر اپنے رب عَزَّ وَجَلَّ کو راضی کرنے والے کاموں میں مشغول ہوجا۔اللہ تَعَالٰی تیرا حامیٔ وناصر ہو ۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم …‘‘
(3) آنکھوں کے حوالے سے’’ فکرِ مدینہ‘‘
اسی طرح کبھی اپنے جسم کے اعضاء مثلاً آنکھوں کا محاسبہ کرتے ہوئے خود سے یوں مخاطب ہوکر فکر ِ مدینہ کریں کہ ، ’’ اے بندے!تجھےاللہ عَزَّ وَجَلَّ نے آنکھوں جیسی نعمت عطا فرمائی جن کی مدد سے تُوجو چاہے دیکھ سکتا ہے ، … لیکن ذرا سوچ کہ تو نے انہیں کس طرح استعمال کیا ؟…’’ دُرُست‘‘ مثلاً راستہ طے کرنے ، علم ِ دین پڑھنے، تلاوت ِ قرآن کرنے ، کعبہ ٔ مشرفہ ، گنبد خضریٰ ،
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع