دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fikr e Madina Ma 41 Hikayaat e Attaria | فکر مدینہ

book_icon
فکر مدینہ

نام اس طرح پیغام بھجوایا کہ بچوں اور آپ کے اصرار پر میں نے پاکستان آنے کی حامی تو بھر لی اور فلائٹ میں سیٹیں بھی بُک کروائی جاچکی تھیں ، لیکن پھر میں نے اپنا محاسبہ کیا کہ پاکستان جانے میں لذت ِ نفس ہے کہ وہاں عقیدت مندوں کے ہجوم اور دیوانوں کی بھیڑ میں نفس کا مزہ توپوشیدہ ہے مگر دینی اعتبار سے کوئی خاص فائدہ سمجھ نہ آسکا جبکہ یہاں رہ کر تحریری کام کرنے میں الحمدللہ  عَزَّ  وَجَلَّ  دین کا عظیم فائدہ حاصل ہونے کی امید ہے ۔ لہذا میں نے جہاز کے ٹکٹ بھی کینسل کروا دئیے ہیں اور اب یہیں گھر والوں سے دور رہ کر دین کاکام کرتے ہوئے عید مناؤں گا ۔‘‘(بتغیر ما)

(اللہ   عَزَّ  وَجَلَّ   کی اِن پر رحمت ہو۔۔ا ور۔۔ اِن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم )

 (41)   سنگ ِ بنیاد رکھتے وقت ’’فکر ِ مدینہ‘‘۔۔۔۔

        جب شیخ ِ طریقت امیرِ اہلسنت مدظلہ العالی کی خدمت میں صحرائے مدینہ(باب المدینہ کراچی ) میں فَیضانِ مد ینہ کا سنگِ بنیاد رکھنے کے لئے عرض کی گئی تو آپ نے فرمایا کہ’’ سنگ ِبنیاد میں عموماً کھودے ہوئے گڑھے میں کسی شخصیت کے ہاتھو ں سے سیمنٹ کا گارا ڈلوا دیا جاتا ہے، بعض جگہ ساتھ میں اینٹ بھی رکھوالی جاتی ہے لیکن یہ سب رسمی ہوتا ہے ، بعد میں وہ سیمنٹ وغیرہ کا م نہیں آتی ۔ مجھے تو یہ اِسراف نظر آتا ہے اور اگر مسجد کے نام پر کئے ہوئے چندے کی رقم سے اس طرح کا اسراف کیا جائے تو توبہ کے ساتھ ساتھ تاوان یعنی جو کچھ مالی نقصان ہوا وہ بھی ادا کرنا پڑیگا۔‘‘ ان سے عرض کی گئی، ’’ایک یادگاری تختی بنوا لیتے ہیں ، آپ اس کی پردہ کشائی فرمادیجئے گا۔‘‘توفرمایا !’’ یہ اندازبھی غلط ہے کیونکہ پردہ کشائی کرنے اور سنگ بنیاد رکھنے میں فرق ہے۔ پھر چونکہ ابھی  میدان ہی ہے اس لئے شاید وہ تختی بھی ضائع ہوجائے گی۔ ‘‘

        بالآخرامیرِ اہلسنت مدظلہ العالی نے فرمایا کہ’’ جہاں واقعی ستون بنا نا ہے اس جگہ پر ہتھوڑے مار کر کھودنے کی رسم ادا کرلی جائے اوراس کو ’’سنگِ بنیاد رکھنا‘‘ کہنے کے بجائے ’’تعمیر کا آغاز‘‘ کہا جائے۔‘‘ چنانچہ۲۲ ربیع النور شریف ۱۴۲۶ھ یکم مئی 2005ء  بروز اتوار ، آپ کی خواہش کے مطابق 25سیِّد مَدَنی منوں نے اپنے ننھے ننھے ہاتھوں سے مخصوص جگہ پر ہتھوڑے چلائے ، آپ خود بھی اس میں شریک ہوئے اور اس نرالی شان سے فیضان مدینہ (صحرائے مدینہ ، ٹول پلازہ، سپر ہائی وے باب المدینہ کرچی) کے تعمیری کام کا آغاز ہوا۔

سنت کی بہار آئی فیضان مدینہ میں       رحمت کی گھٹا چھائی فیضان مدینہ میں

(اللہ   عَزَّ  وَجَلَّ   کی اِن پر رحمت ہو۔۔ا ور۔۔ اِن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم )

 پیارے اسلامی بھائیو!

                اب تک ذکر کردہ تفصیل سے ہم بخوبی جان گئے کہ ہماری زندگی اور موت کا مقصد ہمارے اعمال کی آزمائش ہے، …یہ تمام اعمال جمع کئے جارہے ہیں اور بروزِ قیامت انہیں ہمارے سامنے لایا جائے گانیز فرشتے، ان کے صحیفے، ہمارے اعضائ، زمین اور یہ دن رات ان پر گواہ ہوں گے، …قرآنِ عظیم ، احادیث مبارکہ میں نیز ہمارے اسلاف کی جانب سے ہمیں یہ تاکید کی گئی ہے کہ ہم اپنا محاسبہ کریں کہ ہم اپنی آخرت کے لئے کس قسم کے اعمال جمع کروا رہے ہیں ، …اور یہ کہ ہمارے اسلاف خود بھی فکر ِمدینہ میں مشغول رہا کرتے تھے ۔…

        اب ہمیں چاہئیے کہ ہم دل دہلا دینے والے عذابات ِ دوزخ سے پناہ حاصل کرنے اور جنت کی ابدی نعمتوں کے حصول کے لئے فکر ِ مدینہ کی عادتِ مقدسہ کو اپنانے کی جستجو میں لگ جائیں ۔

 ’’ فکرِمدینہ‘‘ کی اقسام :

               فکر ِ مدینہ کے دوران ہمیں جن امور پر غور وفکر کرنا چاہئے ، ان کی بنیادی طور پر تین اقسام ہیں ،

            (1) وہ کام ہم کر چکے ہوں گے …یا…

        (2) وہ کام ہم کرنے ہی والے ہوں گے …یا…

        (3) وہ کام ہم آنے والے وقت میں کرنے کا ارادہ رکھتے ہوں گے ۔

        اور ان میں سے ہر کام یاتو نیکی ہوگا ۔۔۔یا۔۔۔گناہ ہوگا۔۔۔یا۔۔۔ مباح ہوگا۔

       پھرہر کام کے بارے میں ہم اپنے نفس کا دوطرح سے محاسبہ کرسکتے ہیں ،

        (iتم نے یہ کام کیوں کیا ، یا کیوں کررہے ہو؟ ۔۔۔اور۔۔۔

        (iiتم نے یہ کام کس طرح کیا ، یا کس طرح کرو گے ؟…

        محترم اسلامی بھائیو! مذکورہ تقسیم کی بناء پر ہماری فکر ِ مدینہ کبھی محض ایک عمل کے بارے میں ہوگی اورکبھی ایک سے زائد مختلف انواع کے اعمال کے بارے میں ،  کبھی سابقہ زندگی کے بارے میں توکبھی موجودہ زندگی کے بارے میں اور کبھی آئندہ زندگی کے بارے میں ہوگی۔ظاہرہے کہ اس تقسیم کے نتیجے میں ہمیں بیک وقت بہت سے اعمال کا محاسبہ اور وہ بھی زبانی کرنا ہوگا جو کہ بے حد مشکل امر ہے ۔ اس سلسلے میں آسانی کے حصول کے لئے حضرت سیدنا امام محمد غزالیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  مشورہ دیتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں کہ’’ہر شخص کے پاس ایک کاپی ہونی چاہئیے ، جس پر ہلاکت میں ڈالنے والے امور اور نجات دینے والی تمام صفات کا ذکر ہو نیز تمام گناہوں اور عبادت کا بھی تذکرہ ہو اور وہ روزانہ اس کی مدد سے اپنا محاسبہ کرے ۔‘‘

(احیاء العلوم، کتاب التفکر ، ج ۵، ص ۱۷۱)

        اس کے علاوہ یہ سنت ِ فاروقی بھی ہے جیسا کہ پچھلے صفحات میں یہ روایت منقول ہے کہ حضرت سَیِّدُنا عمرفاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کے پاس ایک رجسٹر تھا جس میں وہ اپنے ہفتہ واراعمال لکھا کرتے تھے ۔ جب جمعہ کا دن آتا تو وہ اپنے اعمال کا جائزہ لیتے تھے۔‘‘(درۃ الناصحین ، المجلس الخامس والستون ، ص۲۹۳)

        اس لئے ہمیں اپنے مطلوبہ اعمال کی فہرست روزمرہ ، ہفتہ وار ، ماہانہ اور سالانہ اعتبار سے بنا لینی چاہیے پھر اس پر امام غزالی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کے مشورے کے مطابق نشانات لگانا چاہئیے ۔لیکن یہ حقیقت ہے کہ ہر شخص ایسی فہرست مرتب کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا جو اس کی دنیا وآخرت کو بہتر بنانے کے امور پر مشتمل ہو، لہذا میرا مشورہ ہے کہ آپ پہلی فرصت میں امیر ِ اہل ِ سنت

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن