30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط بِسْمِ اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط
پیارے اسلامی بھائیو!
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا ایک صفاتی نام حکیم (یعنی حکمت والا)بھی ہے اور اُس حکیم( عَزَّ وَجَلَّ ) کا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں ہوتا، چاہے وہ حکمت ہمیں معلوم ہویانہ ہو ۔ لہذا! اللہ تَعَالٰی کا ہمیں یہ زندگی عطا فرمانا اور ایک مخصوص مدت گزرنے پرہماری موت کاواقع ہوجانا بھی خالی از حکمت نہیں ہے ۔چنانچہ سورۂ مُلک میں ارشاد فرمایا،
الَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَ الْحَیٰوةَ لِیَبْلُوَكُمْ اَیُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًاؕ
ترجمۂ کنزالایمان : وہ جس نے موت اور زندگی پیدا کی کہ تمہاری جانچ(یعنی آزمائش) ہو تم میں کس کا کام زیادہ اچھا ہے ۔(پ ۲۹، الملک : ۲)
اوریہ بھی یاد رکھئے کہ اس حیاتِ فانی میں کیا جانے والا ہماراہر عملاللہ عَزَّ وَجَلَّ دیکھ رہا ہے ، چاہے وہ عمل نیکی پر مشتمل ہویابرائی پر ، …اس عمل کا تعلق ظاہر سے ہویاباطن سے، …اس عمل کو ہم نے چھپ کرتنہائی میں کیا ہویا لوگوں کے درمیان، … دن کے اجالے میں کیا ہویارات کی تاریکی چھا جانے کے بعد، …کوئی دوسرا اس عمل پر مطلع ہویانہ ہو، …اوروہ عمل ہمیں یاد ہویانہ ہو۔ …
جیساکہ سورۂ نساء میں ارشاد ہوتا ہے ،
’’ فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًا(۱۲۸)
ترجمۂ کنزالایمان : تو اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے ۔(پ ۵۔النساء : ۱۲۸)
نیز ہمارے یہ اعمال محض اللہ تَعَالٰی کے ازلی وابدی علم میں ہی محفوظ نہیں بلکہ ’’کوئی اور بھی‘‘ ان کو جمع کررہا ہے ، …
(1) فرشتے اپنے صحیفوں (رجسٹر) میں :
اللہ تبارک و تَعَالٰی نے ہمارے دائیں اور بائیں کندھے پردو فرشتے مقرر فرمادئیے ہیں ، جو اپنے صحیفوں (یعنی رجسٹر) میں ہمارے ہر اچھے برے عمل کو مسلسل نوٹ کر رہے ہیں ، جیسا کہ سورۃ الانفطار میں ارشاد فرمایا، …
وَ اِنَّ عَلَیْكُمْ لَحٰفِظِیْنَۙ(۱۰) كِرَامًا كَاتِبِیْنَۙ(۱۱) یَعْلَمُوْنَ مَا تَفْعَلُوْنَ(۱۲)
ترجمۂ کنزالایمان : اور بے شک تم پر کچھ نگہبان ہیں معزز لکھنے والے ، جانتے ہیں جو کچھ تم کرو۔‘‘( پ۳۰۔الانفطار۱۰، ۱۱، ۱۲)
جبکہ سورۂ قٓ میں ارشاد فرمایا،
اِذْ یَتَلَقَّى الْمُتَلَقِّیٰنِ عَنِ الْیَمِیْنِ وَ عَنِ الشِّمَالِ قَعِیْدٌ(۱۷) مَا یَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ اِلَّا لَدَیْهِ رَقِیْبٌ عَتِیْدٌ(۱۸)
ترجمۂ کنزالایمان : جب اس سے لیتے ہیں دو لینے والے ، ایک دہنے بیٹھا اور ایک بائیں ، کوئی بات وہ زبان سے نہیں نکالتا کہ اس کے پاس ایک محافظ تیار نہ بیٹھا ہو ۔‘‘(پ۲۶۔ قٓ۱۷، ۱۸)
اور سورۃ الطارق میں فرمایا ، …
اِنْ كُلُّ نَفْسٍ لَّمَّا عَلَیْهَا حَافِظٌؕ(۴)
ترجمۂ کنزالایمان : کوئی جان ایسی نہیں جس پر نگہبان نہ ہو ۔‘‘(پ۳۰۔الطارق ۴)
امام فخر الدین رازی علیہ الرحمۃاس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ ، ’’نگہبان سے مراد فرشتے ہیں ، اور رہا یہ سوال کہ وہ کیا لکھتے ہیں ؟ تو وہ اس نوشتے پر بندے کے چھوٹے بڑے اعمال لکھتے ہیں یہاں تک کہ اسے قیامت کے دن انسان کو کھول کر دکھایا جائے گا۔ (ملخصًامن التفسیر الکبیر ۔الجزء الواحد والثلاثون ، ص ۱۱۹)
ہمارے جسم کے اعضاء مثلاً آنکھ ، کان ، زبان ، دل اور پاؤں وغیرہ، جو آج ہر اچھے اور برے کام میں ہمارے معاون ہیں ، کسی بھی نیکی کے کام پر حوصلہ افزائی یا گناہ کے ارتکاب پرملامت کرنے کی بجائے بالکل خاموش رہتے ہوئے ہمیں اپنے تأثرات سے مکمل طور پر’’ محروم‘‘رکھتے ہیں ۔ لیکن بروزِ قیامت یہی اعضاء ہمارے اعمال پرگواہ ہوں گے کہ ہم انہیں کن کاموں میں استعمال کرتے رہے ہیں ، جیسا کہ سورۂ بنی اسرائیل میں ارشاد ہوتا ہے ، …
اِنَّ السَّمْعَ وَ الْبَصَرَ وَ الْفُؤَادَ كُلُّ اُولٰٓىٕكَ كَانَ عَنْهُ مَسْـٴُـوْلًا (۳۶)
ترجمۂ کنزالایمان : بے شک کان اور آنکھ اور دل ان سب سے سوال ہونا ہے۔‘‘( پ۱۵۔بنی اسرائیل : ۳۶)
اس آیت کے تحت تفسیر ِقرطبی میں ہے کہ ’’یعنی ان میں سے ہر ایک سے اس کے استعمال کے بارے میں سوال ہوگا ، چنانچہ دل سے پوچھا جائے گا کہ اس کے ذریعے کیا سوچا گیا اور پھرکیا اعتقاد رکھا گیا جبکہ آنکھ اور کان سے پوچھا جائے گا تمہارے ذریعے کیا دیکھا اور کیاسنا گیا ۔‘‘(ج۲۰، ص ۱۳۹)
جبکہ علامہ سید محمود آلوسی بغدادی علیہ الرحمۃ تفسیر روح المعانی میں اسی آیت کے تحت لکھتے ہیں کہ ، ’’ یہ آیت اس بات پر دلیل ہے کہ آدمی کے دل کے افعا ل پر بھی اس کی پکڑ ہوگی مثلاً کسی گناہ کا پختہ ارادہ کر لینا ۔۔یا ۔۔دل کا مختلف بیماریوں مثلاًکینہ ، حسد اور خود پسندی وغیرہ میں مبتلاء ہوجانا، …ہاں علماء نے اس بات کی تصریح فرمائی کہ دل میں کسی گناہ کے بارے میں محض سوچنے پر
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع