30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تو آپ مدظلہ العالی کے دل پر اس واقعہ کا گہرا اثر ہوا ، لہٰذا اس کے بعدسے آپ ٹھنڈا پانی پینے سے اکثر کتراتے ہیں حتی کہ اکثر روزے سے ہونے کے باوجود شدید گرمی میں بھی آپ مدظلہ العالی سادہ پانی ہی استعمال فرماتے ہیں ۔
(اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اِن پر رحمت ہو۔۔ا ور۔۔ اِن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم )
(13) نکاح کے وقت’’ فکر ِ مدینہ‘‘
بانیٔ دعوت ِ اسلامی ، امیرِ اہل ِ سنت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے اپنی شادی کا سب سے پہلا دعوت نامہ ایک ساکنِ مدینہ اسلامی بھائی کے ذریعے بارگاہِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ میں بھجوایا۔ جنہوں نے اسے سنہری جالیوں کے روبرو پیارے آقاصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں پیش کرنے کی سعادت حاصل کی۔(آپ فرماتے ہیں کہ ) وقت ِنکاح یہ سوچ مجھ پر عجیب کیف طاری کئے دے رہی تھی کہ میں نے بارگاہِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ میں دعوت عرض کی ہے، دیکھئے اب آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کب کرم فرماتے ہیں اور تشریف لاتے ہیں ۔ اس فکرِمدینہ کی بَرَکت سے شادی کی تقریب (جو انسان کو عموماًغفلت میں مبتلا کردیتی ہے )پُر سوز انداز میں گزارنے کی سعادت حاصل ہوئی ۔
(اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اِن پر رحمت ہو۔۔ا ور۔۔ اِن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم )
(14) نگاہوں کی حفاظت کیلئے’’ فکر ِمدینہ‘‘
ایک مرتبہ عرب امارات سے باب المدینہ(کراچی ) تشریف لانے سے قبل امیرِ اہل ِ سنت مدظلہ العالی نے نگاہ کی حفاظت سے متعلق فکر ِ مدینہ اور خوفِ خدا عَزَّ وَجَلَّ میں ڈوبی ہوئی ایک E.Mail اپنے شہزادے حاجی احمد عبید رضا مدظلہ العالی کو بھیجی، جس کا کچھ حصہ پیش خدمت ہے۔
’’اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب P.I.A کے ذریعے رات تقریباً ۱۲ بجے روانگی ہے اور اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ رات کے تین بجے باب المدینہ مطار(یعنی ائیرپورٹ) پر اتر جائیں گے۔ چونکہ مطار(یعنی ائیر پورٹ) پر بے پردہ عورتوں سے بھر ا پُراگندا سا ماحول ہوتا ہے، اس لئے ذہن یہ بن رہا ہے کہ میں کسی کو بھی مطار(ائیر پورٹ) آنے کا نہ کہوں کہ کہیں میرے کہنے کے سبب وہ آئیں اور بدنگاہیوں سے نہ بچ پائیں اورآخرت میں مجھے بھی اسکاکہیں حساب نہ دینا پڑجائے کہ’’ تُو جب حالات سے واقف تھا کہ جب ہر ایک آنکھوں کا قفل مدینہ نہیں لگاپارہا تھاتو اپنے نفس کو خوش کرنے کیلئے لوگوں کو مطار(ائیر پورٹ) پر کیوں جمع کرتا رہا؟‘‘آہ ! حساب کے سامنے کی تاب نہیں ، میں نے سارے گناہوں سے بار بار توبہ کی ہے ، آپ کوگواہ رکھ کر بھی توبہ کرتا ہوں ۔ استقامت کی دعا فرمادیجئے۔ آہ! آہ ! آہ!
موت نزدیک گناہوں کی تہیں میل کے خول
آ برس جا کہ نہا دھو لے یہ پیاسا تیرا
(لیکن)حارسین کی آمد ہماری مجبوری ہے، زہے نصیب! کہ صرف گاڑیوں کے ڈرائیور اور حارسین تشریف لائیں اور وہ بھی کارپارکنگ کی جگہ تشریف رکھیں ۔ ہاں ! جن کو اپنی آنکھوں کے قفل مدینہ پر اعتماد ہو وہ بے شک تشریف لائیں ۔ میں نے یہ خوف خدا عَزَّ وَجَلَّ کے سبب لکھا ہے۔ آپ مجھے جلدی مشورہ میل فرما دیجئے۔ اور جن جن کو چاہیں ان کو اس میل کی پرنٹ آؤٹ پڑھادیجئے ،
اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ !اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے ڈرنے والے بحث میں نہیں پڑیں گے۔‘‘
(اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اِن پر رحمت ہو۔۔ا ور۔۔ اِن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم )
(15) ہاتھ دھوتے وقت’’ فکر ِمدینہ‘‘
آپ مدظلہ العالی نے ایک بار ارشاد فرمایا کہ’’میں ہاتھ دھوتے وقت گھر میں حتی الامکان بغیر خوشبو کا صابن استعمال کرتا ہوں ۔کپڑے دھونے کے صابن میں غالباً میل اور چکناہٹ دور کرنے کی صلاحیت زیادہ ہے ، خوشبو دار صابون مہنگا ہوتا ہے ، مجھے ڈر لگتاہے کہ کہیں بِلا ضَرورت مہنگا صابون استعمال کرنے پر آخِرت میں گَرِفت نہ ہوجائے(یہ امیرِ اہل سنت مدظلہ العالی کی مدنی احتیاط ہے وگرنہ خوشبودار صابن کا استعمال بھی جائز ہے) ۔‘‘
(اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اِن پر رحمت ہو۔۔ا ور۔۔ اِن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم )
(16) چائے پیتے وقت ’’فکر ِمد ینہ‘‘
۱۴۲۳ ھ میں سفرِ’’ چل مدینہ‘‘ کے دوران آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کو دیکھا گیاکہ گرم پانی کے کپ میں Tea bagڈال کر چائے کی پتی حل فرمائی پھردودھ اور چینی ڈالنے کے بعد Tea bagکو ہاتھ سے اچھی طرح نچوڑ کر نکالا (جب کہ عموماً لوگ بغیر نچوڑے پھینک دیتے ہیں ) پھرآپ نے چائے نوش فرمائی۔آپ کی خدمت میں عرض کی گئی، ’’ حضور !اس میں کیا حکمت ہے ؟‘‘ارشاد فرمایا ، ’’ میں نے محسوس کیا کہ دودھ اور چینی کے کچھ اجزاء Tea bagمیں رہ جائیں گے ، اس لئے میں نے احتیاطاً نچوڑ لیا، تاکہ کوئی کارآمد چیز ضائع نہ ہونے پائے ۔ ‘‘
(اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اِن پر رحمت ہو۔۔ا ور۔۔ اِن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم )
(17) خوفِ خدا عَزَّ وَجَلَّ سے متعلق’’ فکر ِمدینہ‘‘
عَرَب اَمارات میں تحریری کام کے دوران جب امیر اہل سنت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی نگاہ سے سیدنا امام محمد غزالی علیہ الرحمۃ کی یہ تحقیق گزری کہ موت کی وجہ سے عقل میں کوئی تبدیلی نہیں آتی، صرف بدن اور اعضاء میں تبدیلی آتی ہے۔لہٰذا مردہ زندوں ہی کی طرح عقلمند، سمجھدار اور تکالیف و لذات کو جاننے والا ہوتا ہے، عقل باطنی شے ہے اور نظر نہیں آتی۔ انسان کا جسم اگرچہ گل سڑکر بکھر جائے پھر بھی عقل سلامت رہتی ہے۔(احیاء العلوم ، کتاب ذکرالموت ومابعدہ ، ج۴، ص۴۲۰)
توآپ فکر ِمدینہ میں ڈوب گئے کہ ’’بعد ِموت غسل ِمیت ، تدفین او رمنکر نکیر کے سوالات کے جوابات کے وقت کی سختیاں اور ان عظیم آزمائشوں کے وقت عقل اور محسوس کرنے کی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع