30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ترجمۂ کنزالایمان : تم ہرگز بھلائی کو نہ پہنچو گے جب تک راہِ خد ا میں اپنی پیاری چیز نہ خرچ کرو ۔(پ۴، اٰل عمران ۹۲)
(اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اِن پر رحمت ہو۔۔ا ور۔۔ اِن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم )
(4) قطار میں ’’ فکر ِ مدینہ ‘‘۔۔۔۔
شیخِ طریقت ، امیرِ اہل سنت، بانیٔ دعوت ِ اسلامی علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطار قادری دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے ۱۴۰۰ھ میں حرمین طیبین کی زیارت کاارادہ کیا اور اپنا پاسپورٹ ویزا کے لئے جمع کروا دیا ۔ ویزا لگ جانے پر جب آپ اپناپاسپورٹ لینے کے لئے متعلقہ ایمبینسی پہنچے تو ویزا لینے والوں کی ایک طویل قطار لگی ہوئی تھی ۔ آپ قطار ہی میں کھڑے ہوگئے ۔ کسی شناسا ٹریول ایجنٹ کی نظر آپ پر پڑی کہ اتنے اعلیٰ مرتبے کے حامل ہونے کے باجود انکساری کرتے ہوئے قطار میں کھڑے ہوئے ہیں تو اس نے بعد ِ سلام عرض کیا ، ’’حضور! قطار بہت طویل ہے ، آپ کو کئی گھنٹوں تک دھوپ میں انتظار کرنا پڑے گا ، آئیے میں آپ کو (اپنے تعلقات کی بنا پر)کھڑکی کے قریب پہنچا دیتا ہوں ۔‘‘ تو آپ نے بڑی نرمی سے منع فرمادیا جس کی وجہ یہ تھی کہ اگر آپ اس کی پیش کش قبول فرماکر آگے تشریف لے جاتے تو پہلے سے قطار میں کھڑے ہونے والوں کی حق تلفی ہوجاتی ۔ ‘‘
(اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اِن پر رحمت ہو۔۔ا ور۔۔ اِن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم )
(5) میدان ِ محشر کے بارے میں ’’فکر ِ مدینہ‘‘۔۔۔۔
عرب امارات میں قیام کے دوران بانیٔ دعوت ِ اسلامی علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطار قادری دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ ایک صاحب کی وساطت سے بعض Testکروانے کے لئے دبئی کے ایک ہسپتال کی لیبارٹری میں تشریف لے گئے ۔ وہاں پر اپنے بول کی شیشی (Urine Bottle)ان صاحب کو ان کے بے حد اصرار کے باوجود نہ اٹھانے دی ۔ بعد میں آپ سے عرض کی گئی ، ’’آپ نے ان صاحب کو یہ شیشی نہیں اٹھانے دی اس میں کیا حکمت ہے ؟‘‘ تو ارشاد فرمایا ، ’’ وہ سید صاحب تھے ، ان کو اپنے پیشاب کی بوتل کیسے پکڑاؤں ؟ اگر قیامت کے دن سیدصاحب کے جدِ اعلی اور ہمارے پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمادیا ، ’’الیاس!کیا تیرا پیشاب اٹھانے کے لئے میرا بیٹا ہی رہ گیا تھا تو اس وقت میں کیا جواب دوں گا ؟‘‘
(اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اِن پر رحمت ہو۔۔ا ور۔۔ اِن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم )
(6) دری کا دھاگہ نوچ لینے پر ’’فکر ِ مدینہ‘‘۔۔۔۔
ایک مرتبہ بانیٔ دعوت ِ اسلامی علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطار قادری دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ سندھ اجتماع کے موقع پر بچھائی گئی دریوں پر تشریف فرما تھے کہ غیر ارادی طور پر آپ نے ایک دری کا دھاگہ نوچ لیا لیکن بعد میں پشیمان ہوئے کہ یہ دریاں تو ٹینٹ والوں سے بیٹھنے کے لئے حاصل کی گئی ہیں نہ کہ دھاگے نوچنے کے لئے ۔ لہذا !آپ نے مجلس ِ شوریٰ کے مرحوم نگران حاجی مشتاق عطاری رحمۃ اللہ علیہ کو تحریراًہدایت کی کہ میری طرف سے اس دریوں کے مالک سے معافی مانگ لیجئے گا (کیونکہ آپ سیکیورٹی وغیرہ کی مجبوری کی وجہ سے خود اس مالک کے پاس نہیں جاسکتے تھے ) … …
(ماخوذ از رسالہ ’’امیرِ اہلِ سنت مدظلہ کی احتیاطیں )
(اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اِن پر رحمت ہو۔۔ا ور۔۔ اِن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم )
(7) شہد کی مکھی کے ڈنک مارنے پر ’’فکر ِ مدینہ‘‘۔۔۔۔
عرب امارات کے قیام کے دوران غالباً ۴ ربیع الغوث ۱۴۱۸ھ کو قیام گاہ پر علی الصبح اندھیرے میں شیخ طریقت امیر اہلسنت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا پاؤں ایک شہد کی مکھی پر پڑگیا۔ اس نے آپ کے پاؤں کے تلوے پر ڈنک مار دیا، جس پر آپ نے بے تاب ہو کر قدم اٹھالیااور وہ شہدکی مکھی رینگنے لگی ۔ایک اسلامی بھائی اس مکھی کو مارنے کیلئے دوا کا اسپرئیر(Flying Insect Killer) اٹھالائے لیکن آپ نے فوراً اس کا ہاتھ روک دیا اور فرمایا، ’’ اس بے چاری کا قصور نہیں ، قصور میرا ہی ہے کہ میں نے بغیر دیکھے غریب پر پاؤں رکھ دیا، اب وہ اپنی جان بچانے کے لئے ڈنک نہ مارتی تو اورکیا کرتی؟‘‘پھرفرمایا، ’’ شہد کی مکھی کے ڈنک میں عذاب قبرو جہنم کی تذکیر یعنی یاد ہے ، یہ تو مقامِ شکر ہے کہ مجھے شہد کی مکھی نے کاٹا ، اگر اس کی جگہ کوئی بچھو ہو تا تو میں کیا کرتا؟‘‘
ڈنک مچھر کا بھی مجھ سے تو سہا جاتا نہیں قبر میں بچھو کے ڈنک کیسے سہوں گا یارب
(اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اِن پر رحمت ہو۔۔ا ور۔۔ اِن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم )
(8) منچ(اسٹیج) پر جانے سے پہلے ’’فکر ِ مدینہ‘‘۔۔۔۔
اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ ! جشن ولادت ِ سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے سلسلے میں ربیع النورشریف کی ۱۲ ویں شب، دعوت اسلامی کی طرف سے باب المدینہ (کراچی ) میں بہت بڑے اجتماع ِ ذکر ونعت کا انعقاد کیا جاتا ہے جوغالباً اس موقع پر ہونے والا روئے زمین کا سب سے بڑا اجتماعِ ذکرو نعت ہے۔ ربیع النور شریف۱۴۱۸ھ کی ۱۲ ویں رات ۱۲ بجے جب بانیٔ دعوت ِ اسلامی امیر اہلسنت مدظلہ العالی اجتماع میں بیان کرنے کیلئے پہنچے تو تلاوت شروع ہوچکی تھی۔لہذا! آپ منچ (اسٹیج )پر جلوہ گر ہوکر حاضرین کے سامنے آنے کی بجائے منچ کی سیڑھیوں پرہی بیٹھ کر تلاوت سننے میں مشغول ہوگئے۔تلاوت ختم ہونے کے بعد جب آپ کے بڑے شہزادے حاجی عبیدرضا ابن عطار نے عرض کی کہ’’ آپ براہ راست منچ پر تشریف لانے کے بجائے اس کی سیڑھی پر بیٹھ گئے، اس میں کیا حکمت تھی؟‘‘تو ارشاد فرمایا قرآن پاک میں ہے کہ
وَ اِذَا قُرِئَ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوْا لَهٗ وَ اَنْصِتُوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ(۲۰۴)
ترجمہ کنز الایمان : اور جب قرآن پڑھا جائے تو اسے کان لگا کر سنو اور خاموش رہو کہ تم پر رحم ہو۔‘‘(پ۹، الاعراف : ۲۰۴)
اور … ’’فتاویٰ رضویہ(جلد دہم، ص۱۶۷)‘‘ میں ہے ، ’’جب بلند آواز سے قرآن پاک پڑھا جائے تو حاضرین پر سننا فرض ہے جبکہ وہ مجمع سننے کی غرض سے حاضر ہو، ورنہ ایک کا سننا کافی ہے۔ اگرچہ دوسرے لوگ کام میں ہوں ۔‘‘
پھر فرمایا، ’’جب میں حاضر ہوا تو تلاوت جاری تھی، اب اگر میں سیدھا منچ پر چلا جاتا تو خدشہ تھا کہ کوئی اسلامی بھائی استقبالی نعرہ لگا دیتا اور دوران ِتلاوت ایسا ہر گز نہیں ہونا چاہئے، لہٰذا ! میں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع