30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تھیں ۔ اس نے آگے بڑھ کر ایک ہڈی اٹھائی تو وہ اس کے ہاتھ میں بکھر گئی ۔ یہ دیکھ کر وہ سوچ میں پڑ گیا اورفکر ِ مدینہ کرتے ہوئے خود سے کہنے لگا ، ’’تیری ہلاکت ہو! ایک دن تُو بھی ان میں شامل ہوجائے گا اور تیری ہڈیاں بھی اسی طرح بوسیدہ ہوجائیں گی جبکہ جسم مٹی میں مل جائے گا ، اس کے باوجود تُو گناہوں میں مشغول ہے؟‘‘اس کے بعد اس نے توبہ کی اور کہنے لگا، ’’اے میرے رب عَزَّ وَجَلَّ ! میں خود کو تیری بارگاہ میں پیش کرتا ہوں ، مجھ پر رحم فرما اور مجھے قبول کر لے۔‘‘
پھر وہ زرد چہرے اور شکستہ دل کے ساتھ اپنی ماں کے پاس پہنچے اور کہنے لگے، ’’امی جان!بھاگا ہوا غلام جب پکڑا جائے تو اس کے ساتھ کیا سلوک کیا جاتا ہے ؟‘‘ ماں نے جواب دیاکہ، ’’اسے کھردرا لباس، سوکھی روٹی دی جاتی ہے اور اس کے ہاتھ پاؤں باندھ دئیے جاتے ہیں ۔‘‘انہوں نے عرض کی ، ’’آپ میرے ساتھ وہی سلوک کریں جو بھاگے ہوئے غلام کے ساتھ کیا جاتا ہے، شاید کہ میری اس ذلت کو دیکھ کر میرا مالک مجھے معاف فرما دے۔‘‘ ان کی ماں نے یہ خواہش پوری کر دی ۔جب رات ہوتی تو یہ روتے اور آہ وزاری شروع کر دیتے اورفرماتے، ’’اے دینار !تو ہلاک ہوجائے! کیا تجھے اپنے آپ پر قابو نہیں ہے ، تو کس طرح اللہ تَعَالٰی کے غضب سے بچ سکے گا؟‘‘یہاں تک کہ صبح ہو جاتی۔
ایک رات ان کی ماں نے کہا، ’’بیٹا ! اپنے آپ پر ترس کھاؤ اور اتنی مشقت مت اٹھاؤ۔‘‘انہوں نے جواب دیا، ’’مجھے اسی حال پر رہنے دیں ، تھوڑی سی مشقت کے بعد شاید مجھے طویل آرام نصیب ہوجائے ، امی جان! میری نافرمانیوں کی ایک طویل فہرست رب تَعَالٰی کے سامنے موجود ہے اور میں نہیں جانتا کہ مجھے مقامِ رحمت میں جانے کا حکم ہوگا یا وادیٔ ہلاکت میں ڈال دیا جاؤں گا؟ مجھے اس تکلیف کا خوف ہے جس کے بعد کوئی راحت نہیں ملے گی ، مجھے ایسی سزا کا ڈر ہے جس کے بعد بھی معافی نہیں ملے گی۔‘‘ ماں نے یہ سن کر کہا ، ’’اچھا ! تھوڑا سا تو آرام کر لو۔‘‘ وہ کہنے لگے ، ’’میں کیسے آرام کر سکتا ہوں کیا آپ میری مغفرت کی ضمانت دیتی ہیں ؟ کون میری بخشش کی ضمانت دے گا ؟ مجھے میرے حال پر چھوڑ دیجئے! ایسا نہ ہو کہ کل لوگ جنت کی جانب جارہے ہوں اور میں جہنم کی طرف…۔‘‘
ایک مرتبہ ان کی والدہ قریب سے گزریں تو انہوں نے یہ آیت پڑھی ،
فَوَرَبِّكَ لَنَسْــٴَـلَنَّهُمْ اَجْمَعِیْنَۙ(۹۲) عَمَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ(۹۳)
تو تمہارے رب کی قسم ہم ضرور ان سب سے پوچھیں گے ، جو کچھ وہ کرتے تھے ۔(ترجمۂ کنزالایمان ۔پ۱۴، الحجر۹۲، ۹۳)‘‘
اور اس پر غور کرنے لگے ، یہاں تک سانپ کی طرح لَوٹنے لگے ، بالآخر بے ہوش ہوگئے ۔ ان کی ماں نے بہت پکارا لیکن کوئی جواب نہ ملا ۔ وہ کہنے لگیں ، ’’میری آنکھوں کی ٹھنڈک !اب کہاں ملاقات ہوگی ؟‘‘ انہوں نے کمزور سی آواز میں جواب دیا ، ’’اگرقیامت کے دن میں آپ کو نہ مل سکوں تو درواغۂ جہنم سے پوچھ لیجئے گا۔‘‘ پھر ایک چیخ ماری اور ان کی روح پرواز کر گئی۔
(کتاب التوابین ، ص۲۵۶ )
(اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اُن پر رحمت ہو۔۔ا ور۔۔ اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم )
( 87) ایامِ زندگی شمار کرکے ’’فکر ِ مدینہ‘‘ ۔۔۔۔
پچھلی امتوں میں سے ایک بزرگ جن کا نام زید بن صمت علیہ الرحمۃ تھا ، ایک دن اپنے ساتھیوں سے کہنے لگے ، ’’میرے دوستو! آج جب میں نے اپنی عمر کا حساب لگایا تو میری عمر ساٹھ سال بنتی ہے اور ان سالوں کے دن بنائے جائیں تو اکیس ہزار چھ سو بنتے ہیں ۔ میں یہ سوچتا ہوں کہ اگر ہر روز میں نے ایک گناہ بھی کیا ہوتو قیامت کے دن مجھے نہایت مشکل کا سامنا کرنا پڑے گا کہ میں تو کسی ایک گناہ کا بھی حساب نہ دے پاؤں گا ۔‘‘یہ کہنے کے بعد انہوں نے سر سے عمامہ اتار ا اور زاروقطار رونا شروع کر دیا ، یہاں تک کہ وہ بے ہوش ہو گئے ۔ کچھ دیر بعد انہیں افاقہ ہوا تو پھر رونے لگے اور اتنی شدت سے گریہ وزاری کی کہ ان کی روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی ۔(حکایات الصالحین، ص ۴۹)
(اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اُن پر رحمت ہو۔۔ا ور۔۔ اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم )
( 88) ایک باپ کی ’’فکر ِ مدینہ‘‘ ۔۔۔۔
مروی ہے کہ ایک شخص کا چھوٹا بچہ اس کے ساتھ بستر پر سویا کرتا تھا ۔ ایک رات وہ بچہ بہت بے چین ہوا اور سویا نہیں ۔ اس کے باپ نے پوچھا ، ’’پیارے بیٹے!کیا کہیں پردرد ہے؟‘‘ تو بچے نے عرض کی، ’’اباجان!نہیں ، لیکن کل جمعرات ہے جس میں پورے ہفتے کے دوران پڑھائے جانے والے اسباق کا امتحان ہوتا ہے ، اور مجھے یہ خوف کھائے جارہا ہے کہ اگر میں نے سبق صحیح نہ سنایا تو استاذ صاحب مجھ سے ناراض ہوں گے اور سزا دیں گے ۔‘‘ یہ سن کر اس شخص نے زور سے چیخ ماری اور اپنے سر پر مٹی ڈال کر رونے لگا اوراپنا محاسبہ کرتے ہوئے کہنے لگا، ’’مجھے اس بچے کی نسبت زیادہ خوف زدہ ہونا چاہئے کہ کل قیامت کے دن مجھے دنیا میں کئے گئے گناہوں کا حساب اپنے رب تَعَالٰی کی بارگاہ میں دینا ہے ۔‘‘(درۃ الناصحین ، المجلس الخامس والستون ، ص۲۹۵)
(اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اُن پر رحمت ہو۔۔ا ور۔۔ اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم )
( 89)اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نافرمانی میں قدم بڑھنے پر’’فکر ِ مدینہ‘‘ ۔۔۔۔
بنی اسرائیل میں ایک بزرگرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ عرصہ دراز سے اپنے حجرہ میں مصروفِ عبادت تھے ۔ ایک مرتبہ ایک عورت ان کے دروازے پر آن کھڑی ہوئی اور ان کی نگاہ اس عورت پر پڑی تو شیطان نے انہیں بہکا دیا ۔ چنانچہ آپ اس عورت کی طرف بڑھے لیکن جیسے ہی اپنا ایک پاؤں حجرہ سے باہر نکالا ، خوف ِ خدا عَزَّ وَجَلَّ آپ پر غالب آیا اور اپنا محاسبہ کرتے ہوئے کہنے لگے، ’’نہیں ! مجھے یہ کام نہیں کرنا چاہئے (اور اس گناہ سے رک گئے )۔‘‘(کتاب التوابین ، ص۷۹ )
(اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اُن پر رحمت ہو۔۔ا ور۔۔ اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم )
( 90) خادم کو سزا دینے کے بعد’’فکر ِ مدینہ‘‘ ۔۔۔۔
امام اہلِ سنت ، مجدد ِ دین وملت ، پروانۂ شمع رسالت الشاہ مولانا احمد رضاخان علیہ رحمۃ الرحمن ایک مرتبہ بریلی شریف کی مسجد میں معتکف تھے ۔آپ بعد ِ افطار کھانا تناول نہ فرماتے بلکہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع