30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حضرت منصور بن عماررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ میں کوفہ میں رات کے وقت ایک گلی سے گزر رہا تھا کہ اچانک ایک درد بھری آواز میری سماعت سے ٹکرائی ، اس آواز میں اتنا کرب تھا کہ میرے اٹھتے ہوئے قدم رک گئے اور میں ایک گھر سے آنے والی اس آواز کو غور سے سننے لگا ۔
میں نے سنا کہ اللہ تَعَالٰی کا کوئی بندہ(فکر ِ مدینہ کرتے ہوئے) ان الفاظ میں اپنے رب عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں مناجات کر رہا تھا، ’’اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ ! تو ہی میرا مالک ہے ! تو ہی میرا آقا ہے ! تیرے اس مسکین بندے نے تیری مخالفت کی بناء پر سیاہ کاریوں اور بدکاریوں کا ارتکاب نہیں کیا بلکہ نفس کی خواہشات نے مجھے اندھا کر دیا تھا اور شیطان نے مجھے غلط راہ پر ڈال دیا تھا جس کی وجہ سے میں گناہوں کی دلدل میں پھنس گیا ، اے اللہ !اب تیرے غضب اور عذاب سے کون مجھے بچائے گا ؟‘‘
(یہ سن کر)میں نے باہر کھڑے کھڑے یہ آیت کریمہ پڑھی ،
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ اَهْلِیْكُمْ نَارًا وَّ قُوْدُهَا النَّاسُ وَ الْحِجَارَةُ عَلَیْهَا مَلٰٓىٕكَةٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ لَّا یَعْصُوْنَ اللّٰهَ مَاۤ اَمَرَهُمْ وَ یَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمَرُوْنَ(۶)
ترجمۂ کنزالایمان : اے ایمان والو! اپنی جانوں اور اپنے گھر والوں کو اس آگ سے بچاؤ جس کے ایندھن آدمی اور پتھر ہیں ، اس پر سخت کرّے(طاقتور) فرشتے مقرر ہیں جو اللہ کا حکم نہیں ٹالتے اور جو انہیں حکم ہو وہی کرتے ہیں ۔ (پ ۲۸، التحریم ۶)
جب اس نے یہ آیت سنی تو اس کے غم کی شدت میں اور اضافہ ہوگیا اور وہ شدتِ کرب سے چیخنے لگا اور میں اسے اسی حالت میں چھوڑ کر آگے بڑھ گیا ۔ دوسرے دن صبح کے وقت میں دوبارہ اس گھر کے قریب سے گزرا تو دیکھا کہ ایک میت موجود ہے اور لوگ اس کے کفن ودفن کے انتظام میں مصروف ہیں ۔ میں نے ان سے دریافت کیا کہ’’ یہ مرنے والا کون تھا؟‘‘ تو انہوں نے جواب دیا کہ، ’’مرنے والا ایک نوجوان تھا جو ساری رات خوفِ خدا کے سبب روتا رہا اور سحری کے وقت انتقال کر گیا ۔‘‘ (شعب الایمان ، باب فی الخوف من اللہ تَعَالٰی ، ج۱، ص۵۳۰، رقم الحدیث ۹۳۷)
(اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اُن پر رحمت ہو۔۔ا ور۔۔ اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم )
( 83) ویرانے میں ’’ فکر ِ مدینہ‘‘۔۔۔۔
ایک بادشاہ جوشکار کے لئے نکلاتھا ، جنگل میں اپنے ساتھیوں سے بچھڑ گیا ۔ اس نے جنگل میں ایک جگہ کمزورغم زدہ نوجوان کو دیکھا جو بیٹھا انسانی ہڈیوں کو الٹ پلٹ کر رہا ہے ۔ بادشاہ نے نوجوان سے پوچھا ، ’’تمہیں کیا ہوا؟اور اس سنسان ویرانے میں اکیلے کیا کررہے ہو ؟‘‘ اس نوجوان نے جواب دیا ، ’’اس لئے کہ مجھے طویل سفر درپیش ہے ، دوموَکل (یعنی دن اور رات)میرے پیچھے لگے ہوئے ہیں اور مجھے خوف دلا کر آگے (یعنی موت )کی جانب دوڑا رہے ہیں ، … میرے سامنے تنگ وتاریک ، تکالیف سے بھرپور قبر ہے ، … آہ ! عنقریب مجھے زیر ِ زمین گلنے سڑنے کے لئے چھوڑ دیا جائے گا ، …آہ! وہاں تنگی ووحشت کا بسیرا ہوگا ، مجھے کیڑوں کی خوراک بننا ہوگا یہاں تک کہ میری ہڈیاں الگ الگ ہوجائیں گی ، … صرف یہی نہیں بلکہ اس کے بعد قیامت کا کٹھن مرحلہ بھی ہوگا ، میں نہیں جانتا کہ اس کے بعد مجھے داخل ِ جنت ہونا نصیب ہوگا یا (معاذ اللہ )مجھے جہنم میں پھینک دیا جائے گا ، …اب تم ہی بتاؤ کہ جسے اتنے خطرناک مراحل سے گزرنا ہو وہ کس طرح خوش رہ سکتا ہے ؟‘‘ یہ باتیں سن کر بادشاہ بھی رنج وغم سے نڈھال ہوگیا ۔ ( روض الریاحین۔الحکایۃ التاسعۃ بعدالمئتین ، ص۲۶۹)
(اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اُن پر رحمت ہو۔۔ا ور۔۔ اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم )
( 84) رات بھر’’ فکر ِ مدینہ‘‘۔۔۔۔
حضرت سیدنا عبیدا للہ بجلی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ رات بھر فکر مدینہ کرتے اورروتے رہتے اوربارگاہِ الٰہی عَزَّ وَجَلَّ میں اس طرح عرض کرتے ، ’’یااللہ عَزَّ وَجَلَّ ! میں وہ شخص ہوں جس کی عمر بڑھی تو گناہ بھی زیادہ ہوگئے، …میں ہی وہ شخص ہوں کہ جب میں نے ایک خطاء کو چھوڑنے کاارادہ کیا تو دوسری کی خواہش سامنے آگئی ۔‘‘ پھر اپنے آپ سے کہتے ، ’’ اے عبید! تمہاری پہلی خطا پرانی نہ ہوئی اور تُو دوسری کا طلب گار ہوگیا ، … اے عبید! اگر آگ تیرا ٹھکانہ ہو(تو کیا کرے گا ؟)، … اے عبید ! ہوسکتا ہے کہ گرز(یعنی بڑے ہتھوڑے)تیرے لئے بنے ہوں ۔‘‘…
(احیاء العلوم، کتاب المراقبۃ والمحاسبۃ ، ج ۵، ص ۱۵۹ )
(اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اُن پر رحمت ہو۔۔ا ور۔۔ اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم )
( 85) زناء کی خواہش پر ’’فکر ِ مدینہ‘‘ ۔۔۔۔
بنی اسرائیل کا ایک عابد اپنے عبادت خانے میں عبادت کیا کرتا تھا ۔گمراہوں کا گروہ ایک طوائف کے پاس پہنچا اور اس سے کہا کہ’’تم کسی نہ کسی طرح اس عابد کو بہکا دو۔‘‘چنانچہ وہ فاحشہ ایک اندھیری رات میں ، جب کہ بارش برس رہی تھی ، اس عابد کے پاس آئی اور اس کو پکارا۔عابد نے جھانک کر دیکھا ، تو عورت نے کہا کہ ’’اے اللہ !کے بندے مجھے اپنے پاس پناہ دے ۔‘‘لیکن عابد نے اس کی پرواہ نہ کی اور نماز میں مشغول ہو گیا۔وہ طوائف اسے بارش اور اندھیری رات یاد دلا کر پناہ طلب کرتی رہی حتی کہ عابد نے رحم کھا کر اسے اندر بلا لیا ۔وہ عابد سے کچھ فاصلے پر جا کر لیٹ گئی اور اسے اپنی طرف مائل کرنے کی کوشش شروع کر دی۔یہاں تک کہ عابد کا دل بھی اس کی طرف مائل ہو گیا۔
لیکن اسی لمحہاللہ عَزَّ وَجَلَّ کے خوف نے اس کے دل میں جوش مارا، عابدنے اپنا محاسبہ کرتے ہوئے خود کو مخاطب کر کے کہا ، ’’واللہ !ایسا نہیں ہو سکتا یہاں تک کہ تو دیکھ لے کہ آگ پر کتنا صبر کرسکتا ہے۔‘‘پھر وہ چراغ کے پاس گیا اور اپنی ایک انگلی اس کے شعلے میں رکھ دی ، حتی کہ وہ جل کر کوئلہ ہو گئی ۔پھر اس نے نماز کی طرف متوجہ ہونے کی کوشش کی لیکن اس کے نفس نے دوبارہ فاحشہ کی طرف بڑھنے کا مشورہ دیا۔یہ چراغ کے پاس گیا اور اپنی دوسری انگلی بھی جلا ڈالی، پھر اس کا نفس اسی طرح خواہش کرتا رہا اور وہ اپنی انگلیاں جلاتا رہا ، حتی کہ اس نے اپنی ساری انگلیاں جلا ڈالیں ، عورت یہ سارا منظر دیکھ رہی تھی، چنانچہ خوف و دہشت کے باعث اس نے ایک چیخ ماری اور مر گئی۔(ذم الھوٰی، ص۱۹۹)
(اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اُن پر رحمت ہو۔۔ا ور۔۔ اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم )
( 86) بوسید ہ ہڈیاں دیکھ کر’’فکر ِ مدینہ‘‘ ۔۔۔۔
ایک شخص جسے ’’دینارعیار‘‘کہا جاتا تھا ، اس کی ماں اسے بری حرکتوں سے منع کرتی لیکن وہ باز نہ آتا تھا۔ ایک دن اس کا گزرایک قبرستان سے ہوا جہاں بہت سی بوسیدہ ہڈیاں بکھری پڑی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع