دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fikr e Madina Ma 41 Hikayaat e Attaria | فکر مدینہ

book_icon
فکر مدینہ

ہونے کے باوجود کیوں روتے ہیں ؟‘‘ فرمایا، ’’اس وقت سے زیادہ میں کبھی رونے کا محتاج نہیں تھا ۔‘‘ اور قرآن عظیم کی تلاوت میں مشغول ہوگئے ، پھر فرمایا، ’’ اس وقت قرآن سے زیادہ میرا کوئی ہمدرد نہیں ، میں اس وقت اپنی عمر بھر کی عبادت کو ہوا میں معلق دیکھ رہا ہوں جسے تیز وتُند ہوا کے جھونکے اِدھر اُدھر لہرا رہے ہیں ، میں نہیں جانتا کہ یہ ہوا جدائی کی ہے یا ملن کی ، دوسری طرف ملک الموت ں اور پل صراط ہے اور میں قاضیٔ عادل (یعنی رب  تَعَالٰی ) کی طرف توجہ کئے حکم کا منتظر ہوں کہ نہ جانے مجھے جنت یا دوزخ میں سے کس جانب جانے کا حکم دے دیا جائے ۔ ‘‘(تذکرۃ الاولیاء، ، ج۲، ص ۳۰)

 (62)حضرت سیدنا محمد بن منکدر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  بوقت ِ وفات پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے۔ جب لوگوں نے اس کا سبب دریافت کیا توآنسوؤں سے بھرائی ہوئی آواز میں فرمایا، ’’میں اپنے کسی گناہ کی وجہ سے نہیں رو رہا ہوں بلکہ مجھے تو صرف یہ سوچ کر رونا آگیا کہ میں نے بہت سی باتوں کو معمولی سمجھا حالانکہ وہ اللہ  تَعَالٰی کے نزدیک بہت بڑی باتیں تھیں ، تو میں ڈر رہا ہوں کہ کہیں ان باتوں پر میری پکڑ نہ ہوجائے ۔‘‘اتنا کہنے کے فوراً بعد آپ کی وفات واقع ہوگئی ۔(احیاء العلوم، کتاب ذکر الموت ومابعدہ، ، ج ۵، ص۲۳۲ )

 (63)حضرت سیدنا ابراہیم نخعی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  اپنی وفات کے وقت رونے لگے ، کسی نے رونے کا سبب پوچھا تو فرمایا ، ’’میں اللہ  تَعَالٰی کے قاصد کا انتظار کر رہا ہوں کہ وہ جنت کی خوش خبری سناتا ہے یا (معاذ اللہ  )جہنم کی وعید سناتا ہے ؟‘‘(احیاء العلوم، کتاب ذکر الموت ومابعدہ، ، ج ۵، ص۲۳۱ )

 (64) حضرت سیدنا عامر بن عبدالقیس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  اپنی موت کے وقت بے قرار ہو کر رونے لگے۔جب ان سے رونے کا سبب پوچھا گیا تو فرمایا، ’’میں موت کے ڈر یا دنیا کی محبت میں نہیں رو رہا ہوں بلکہ میں تو اس فکرمیں رو رہا ہوں کہ اب میں مر رہا ہوں تو اب گرمیوں کے روزوں میں دوپہر کی پیاس اور سردیوں کی طویل راتوں میں رات کے قیام کی لذت مجھے کہاں اور کیسے نصیب ہوگی ، ہائے یہ روح پرور اور جاں بخش لذتیں ؟…‘‘یہی کہتے کہتے ان کی روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی ۔‘‘(احیاء العلوم، کتاب ذکر الموت ومابعدہ، ، ج ۵، ص۲۳۲ )

 (65) حضرت سیدنا احمد بن خضرویہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کے وصال کے وقت کسی نے ان سے ایک مسئلہ پوچھا تو فرمایا، ’’بیٹا ! اب جواب دینے کا وقت کہاں کیونکہ میں تو اس فکر میں مبتلاء ہوں کہ جس دروازے کو میں پچانوے سال کھٹکھٹاتا رہا ، وہ اب کھلنے کو ہے لیکن میں نہیں جانتا کہ سعادت کے ساتھ کھلتا ہے یا بدبختی کے ساتھ ؟‘‘(احیاء العلوم، کتاب ذکر الموت ومابعدہ، ، ج ۵، ص۲۳۴ )

(اللہ   عَزَّ  وَجَلَّ   کی اِن سب پر رحمت ہو۔۔ا ور۔۔اِن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم )

 (66 ) قبروالے کے بارے میں ’’ فکر ِمدینہ‘‘ ۔۔۔۔

        حضرت سیدنا عمر بن عبدالعزیز رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا، ’’ اے بھائیو! میں رات بھر جاگتا رہا اور قبر والے کے بارے میں سوچتا رہا کہ اگر تم میت کو تین دن بعد اس کی قبر میں دیکھو توتمہیں اس کے ساتھ ایک طویل عرصہ تک مانوس رہنے کے باوجود اس سے وحشت ہونے لگے اور اگر تم اس کے گھر(یعنی قبر) کو دیکھو جس میں کیڑے پھر رہے ہوں ، پیپ جاری ہو، کیڑے اس کے بدن کو کھارہے ہوں ، بدبو بھی آرہی ہو اور اس کا  کفن بوسیدہ ہوچکا ہو ، …جبکہ پہلے وہ خوبصورت تھا ، اس کی خوشبو اچھی تھی اور کپڑے بھی صاف تھے ، …‘‘ اتناکہنے کے بعد آپ نے چیخ ماری اور بے ہوش ہوگئے۔ (احیاء العلوم، کتاب ذکر الموت ومابعدہ ، ج ۵، ص۲۳۷ )

(اللہ   عَزَّ  وَجَلَّ   کی اُن پر رحمت ہو۔۔ا ور۔۔ اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم )

 ( 67) قبر پر حاضری کے وقت’’ فکر ِمدینہ‘‘ ۔۔۔۔

        ایک مرتبہ حضرت سیدنا ابوورّاق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کے مدنی منّے قرآن پاک کی تلاوت کرتے ہوئے جب اس آیت پر پہنچے ، …

اِنْ كَفَرْتُمْ یَوْمًا یَّجْعَلُ الْوِلْدَانَ شِیْبَاۗۖﰳ(۱۷)

ترجمۂ کنزالایمان : اگر کفر کرو اس دن جو بچوں کو بوڑھا کر دے گا ۔ (پ:۲۹  المزمل : ۱۷)   

        تو خوفِ الٰہی کا اس قدر غلبہ ہوا کہ دم توڑ دیا ۔آپ اس کی قبر پر فکر ِ مدینہ کرتے ہوئے فرمایا کرتے ، ’’کس قدر افسوس کی بات ہے کہ اس بچے نے ایک ہی آیت پڑھ کر خوف سے جان دے دی لیکن میرے اوپر برسوں کی تلاوت کے بعد بھی یہ آیت اثر انداز نہ ہو سکی ۔(تذکرۃ الاولیاء، ج۲، ص۸۷)

(اللہ   عَزَّ  وَجَلَّ   کی اُن پر رحمت ہو۔۔ا ور۔۔ اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم )

 ( 68)آنکھ کی حفاظت کے بارے میں ’’ فکرِ مدینہ‘‘ ۔۔۔۔

        کسی نے حضرت سیدنا جنید بغدادی سے پوچھا، ’’میں اپنی آنکھ کو بدنگاہی سے نہیں بچا پاتا ، میں کس طرح اس کی حفاظت کروں ؟‘‘ آپ نے ارشاد فرمایا، ’’تم اس بات کا یقین کر لو کہ جب تم کسی کو بری نظر سے دیکھ رہے ہوتے ہو تو حق  تَعَالٰی تمہیں کہیں زیادہ دیکھ رہا ہوتا ہے ۔‘‘(کیمیائے سعادت، ج ۲، ص ۸۸۶)

(اللہ   عَزَّ  وَجَلَّ   کی اُن پر رحمت ہو۔۔ا ور۔۔ اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم )

 ( 69) قبر والوں کے پاس ’’فکر ِ مدینہ‘‘ ۔۔۔۔

        حضرت ابراہیم بن یزید عبدی ر ضی اللہ  عنہ فرماتے ہیں کہ میرے پاس حضرت رباح قیسی ر ضی اللہ  عنہ تشریف لائے اور فرمایا، ’’ہمارے ساتھ آخرت والوں کے پاس چلو تاکہ ہم ان کے پاس جا کر ایک عہد باندھیں ۔‘‘میں ان کے ساتھ چل پڑا، حتی کہ ہم قبرستان پہنچ گئے۔وہاں ایک قبر کے پاس بیٹھ کر انھوں نے فرمایا، ’’اے ابو اسحاق!تمہارا کیا خیال ہے ، اگر ان مُردوں میں سے کوئی تمنا کرے تو کیا تمنا کرے گا؟‘‘میں نے کہا، ’’واللہ !وہ یہ تمنا کرے گا کہ اس کو دنیا میں واپس بھیج دیا جائے تاکہ وہ اللہ  تَعَالٰی کی اطاعت کی باتیں سنے اور اپنی اصلاح کرے۔‘‘یہ سن کر آپ نے فرمایا، ’’ہم ابھی اس دنیا میں موجود ہیں ۔‘‘پھر آپ اٹھ کھڑے ہوئے اور عبادت و ریاضت میں خوب مشقت برداشت کی اور بہت تھوڑا

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن