دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fikr e Madina Ma 41 Hikayaat e Attaria | فکر مدینہ

book_icon
فکر مدینہ

( 52)  نفس کی بھلائی کے لئے’’فکر ِ مدینہ‘‘ ۔۔۔۔

         حضرت سیدنا علقمہ بن قیس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے پوچھا گیا کہ ، ’’آپ اپنے نفس کو اتنی تکلیف کیوں دیتے ہیں ؟‘‘ جواب دیا ، ’’اس لئے کہ مجھے اس کی بھلائی منظور ہے اور میں اسے جہنم کی تکالیف سے بچانا چاہتا ہوں ۔ ‘‘لوگوں نے عرض کی ، ’’ لیکن آپ اس کے مکلف تو نہیں کہ اسے اتنی تکلیف دیں ؟‘‘ ارشاد فرمایا، ’’ جو میرے اختیار میں ہے ، اس میں کوتاہی مجھے زیب نہیں دیتی کہ کہیں میدانِ محشر میں مجھ پر یہ حسرت نہ طاری ہوجائے کہ کاش! فلاں کام کر ہی لیتے تو کتنا اچھا تھا ۔‘‘(کیمیائے سعادت ج۲، ص ۸۹۴  )

(اللہ   عَزَّ  وَجَلَّ   کی اُن پر رحمت ہو۔۔ا ور۔۔ اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم )

 ( 53)  گرم پتھروں پر ’’فکر ِ مدینہ‘‘ ۔۔۔۔

        حضرت سیدنا طلحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  فرماتے ہیں کہ ، ’’ایک شخص ننگے پاؤں گرم ریت اور پتھروں پر چل رہا تھا ، پھر ان پر لوٹ پوٹ ہوتے ہوئے کہنے لگا ، ’’اے مردار نفس ! تو کب تک یوں رات دن سرکشی پر آمادہ رہے گا ؟‘‘ اتنے میں رسول اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَوہاں تشریف لے آئے اور اس سے پوچھا ، ’’اے بندۂ خدا!کیوں اپنے آپ کو ہلکان کرتا ہے؟‘‘ اس شخص نے جواب دیا ، ’’اس لئے کہ یہ نفس مجھ پر غالب آنا چاہتا ہے ۔‘‘(کیمیائے سعادت ج۲، ص  ۸۹۳  )

(اللہ   عَزَّ  وَجَلَّ   کی اُن پر رحمت ہو۔۔ا ور۔۔ اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم )

 (54 )  پوری رات دیوار کو تھام کر’’فکر ِ مدینہ‘‘ ۔۔۔۔

        حضرت سیدنا بایزید بسطامی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  ایک رات اپنے عبادت خانہ کی چھت پر پہنچے اور دیوار کو تھام کر پوری رات خاموش کھڑے رہے جس کی وجہ سے آپ کے پیشاب میں خون آنے لگا ۔ جب لوگوں نے اس کی وجہ پوچھی تو ارشاد فرمایا ، ’’ دوچیزوں کی وجہ سے ، ایک یہ کہ آج میں خدا عَزَّ  وَجَلَّ  کی عبادت نہ کرسکا ، دوسری یہ کہ بچپن میں مجھ سے ایک گناہ سرزد ہوگیا تھا ، چنانچہ میں ان دونوں چیزوں سے اس قدر خوف زدہ تھا کہ میرا دل  خون ہوگیا اور پیشاب کے راستے خون آنے لگا ۔‘‘(تذکرۃ الاولیاء ، ج۱، ص ۱۳۳  )

(اللہ   عَزَّ  وَجَلَّ   کی اُن پر رحمت ہو۔۔ا ور۔۔ اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم )

 ( 55) نفسانی خواہش کے لئے وقت ضائع کرنے پر’’فکر ِ مدینہ‘‘ ۔۔۔۔

        حضرت سیدنا عبد اللہ  بن مبارکرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی توبہ کے بارے میں منقول ہے کہ ’’آپ ایک عورت پر اس قدر فریفتہ ہو گئے کہ کسی پل چین ہی نہ آتا تھا ۔ایک مرتبہ سردیوں کی ایک طویل رات میں صبح تک اس کے مکان کے سامنے انتظار میں کھڑے رہے ۔حتی کہ فجر کا وقت ہوگیا تو آپ کو شدید ندامت ہوئی کہ ’’میں مفت میں ایک مخلوق کی خاطر اتنا انتظار کرتا رہا، اگر میں یہ رات عبادت میں گزارتا تو اس سے لاکھ درجے اچھا تھا ۔‘‘ چنانچہ آپ نے فوراً توبہ کی اور عبادتِ الہی  عَزَّ  وَجَلَّ  میں مصروف ہو گئے۔ (تذکرۃ الاولیاء ، ج۱، ص ۱۶۶)

(اللہ   عَزَّ  وَجَلَّ   کی اُن پر رحمت ہو۔۔ا ور۔۔ اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم )

         ( وقت ِنزع میں ’’ فکر ِمدینہ‘‘کے چند واقعات ۔۔۔۔)

 (56)حضرت سَیِّدُنا مسلم بن بشیررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے مروی ہے کہ حضرت سَیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ   بیمار ہوئے تو رونے لگے ۔ جب آپ سے رونے کا سبب دریافت کیا گیاتو فرمایا، ’’مجھے دنیا سے رخصتی کا غم نہیں رلا رہا بلکہ میں تو اس لئے رورہا ہوں کہ میرا سفر کٹھن اور طویل ہے جبکہ میرے پاس زادِ سفر بھی کم ہے اور میں گویا ایسے ٹیلے پر جاپہنچاہوں جس کے بعد جنت اور دوزخ کا راستہ ہے اور میں نہیں جانتا کہ مجھے کس طرف جانے کا حکم ہوگا؟‘‘(حلیۃ الاولیاء ، ذکر اصحاب الصفۃ ، ج ۱، ص۳۵۰)   

 (57)حضرت سَیِّدُنامعاذبن جبل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کی وفات کا وقت قریب آیا تو رونے لگے ۔ ان سے پوچھا گیا، ’’آپ کو کس چیز نے رُلایا ؟‘‘ فرمایا، ’’خدا  عَزَّ  وَجَلَّ  کی قسم! میں نہ تو موت کی گھبراہٹ سے رو رہاہوں اور نہ ہی دنیا سے رخصتی کے غم میں آنسو بہارہاہوں ۔بلکہ میں تو اس لئے روتا ہوں کہ میں نے حضور اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَسے سنا کہ ، ’’دو مٹھیاں ہیں ، ایک جہنم میں جائے گی اور دوسری جنت میں ۔۔۔۔‘‘ اور مجھے نہیں معلوم کہ میں کون سی مٹھی میں ہوں گا۔(شعب الایمان  ، ج۱، ص۵۰۲، رقم الحدیث ۸۴۱ )

 (58)حضرت سَیِّدُنا حذیفہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کی موت کا وقت جب قریب آیا تو رو دئیے اور شدید گھبراہٹ کا اظہار ہونے لگا ۔لوگوں نے ان سے رونے کا سبب پوچھا تو فرمایا، ’’میں دنیا چھوٹنے پر نہیں روتا کیونکہ موت مجھے محبوب ہے ، بلکہ میں تو اس لئے رورہا ہوں کہ میں اللہ  تَعَالٰی کی رضا پر دنیا سے جارہاہوں یا ناراضگی میں ؟‘‘(اسد الغابۃ ج۱، ص۵۷۴)

 (59)حضرت سَیِّدُنا عبداللہ  بن رواحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ   اپنی زوجہ محترمہ کی گود میں سر رکھ کر لیٹے ہوئے تھے کہ اچانک رونے لگے ، ان کو روتا دیکھ کر زوجہ بھی رونے لگیں ۔ آپ نے زوجہ سے پوچھا ، ’’تم کیوں روتی ہو؟‘‘ انہوں نے جواب دیا، ’’آپ کو روتا دیکھ کر مجھے بھی رونا آگیا۔‘‘آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا ، ’’مجھے تو اللہ  تَعَالٰی کا یہ قول یاد آگیا تھا،

وَ اِنْ مِّنْكُمْ اِلَّا وَارِدُهَاۚ

اور تم میں سے کوئی ایسا نہیں کہ جس کا گزر دوزخ پر نہ ہو۔(ترجمہ کنزالایمان ، پ۱۶، مریم ۷۱)

    اور میں نہیں جانتا کہ اس سے بعافیت گزر جاؤں گا یا نہیں ۔‘‘(حلیۃ الاولیاء ، جلد ۱، ص ۱۱۷)   

 (60)حضرت سیدنا امام احمد بن حنبل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کے انتقال کے وقت جب آپ کے صاحب زادے نے طبیعت دریافت کی تو فرمایا، ’’جواب کا وقت نہیں ہے ، بس دعا کرو کہ اللہ  تَعَالٰی میرا خاتمہ ایمان پر کر دے کیونکہ ابلیس لعین اپنے سر پر خاک ڈالتے ہوئے مجھ سے کہہ رہا ہے کہ ’’تیرا دنیا سے ایمان سلامت لے جانا میرے لئے باعث ِ ملال ہے۔‘‘اور میں اس سے کہہ رہا ہوں کہ‘‘ ابھی نہیں ، جب تک ایک بھی سانس باقی ہے میں خطرے میں ہوں ، میں (تجھ سے ) سے پرامن نہیں ہوسکتا ۔‘‘$&'); container.innerHTML = innerHTML; }

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن