30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اُن پر رحمت ہو۔۔ا ور۔۔ اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم )
( 44) نماز کی ادائیگی کے بعد’’ فکر ِ مدینہ‘‘ ۔۔۔۔
حضرت سیدنا ابراہیم بن ادھم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا معمول تھا کہ نماز ادا کرنے کے بعد اپنا چہرہ چھپا کر فکر ِمدینہ کرتے اور فرماتے ، ’’مجھے یہ دھڑکا لگارہتا ہے کہ کہیں اللہ تَعَالٰی میری نماز کو میرے منہ پر نہ دے مارے ۔(یعنی میری نماز قبول نہ فرمائے )‘‘(تذکرۃ الاولیاء، ج۱، ص ۹۶ )
(اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اُن پر رحمت ہو۔۔ا ور۔۔ اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم )
( 45) نماز ِ فجر تاعصر’’فکر ِ مدینہ‘‘۔۔۔۔
حضرت سیدنا احمد بن زرین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا معمول تھا کہ روزانہ صبح کی نماز سے لے کر عصر تک مسجد میں بیٹھے رہتے اور کسی کی طرف نگاہ اٹھا کر بھی نہ دیکھتے ۔ ایک مرتبہ لوگوں
نے استفسار کیا، ’’ آپ اس طرح کیوں بیٹھے رہتے ہیں ؟‘‘ ارشاد فرمایا، ’’یہ ہی میرے حق میں بہتر ہے ، کیونکہ رب تَعَالٰی نے انسان کو آنکھیں اس لئے عطا فرمائیں کہ اس کی بنائی ہوئی عجیب وغریب اشیاء کو بغور دیکھے لیکن اس کے لئے یہ بھی شرط ہے کہ انسان جو کچھ دیکھے نگاہِ عبرت سے دیکھے ورنہ اس کے نام ایک خطا لکھ دی جائے گی ۔‘‘ (کیمیائے سعادت ج۲، ص ۸۹۴ )
(اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اُن پر رحمت ہو۔۔ا ور۔۔ اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم )
( 46) مسجد میں بیٹھ کر’’ فکر ِ مدینہ‘‘۔۔۔۔
حضرت سیدنا محمد بن منکدررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ِسیدنا زیاد بن ابوزیاد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو پیچھے سے دیکھا کہ وہ مسجد میں بیٹھے اپنے نفس کا محاسبہ فرمارہے تھے کہ ، ’’بیٹھ جا! تُوکہاں جانا چاہتا ہے ، تو کیوں جانا چاہتا ہے ؟ کیا مسجد سے بھی بہتر کوئی جگہ ہے جہاں تو جانا چاہتا ہے ؟ دیکھ تو سہی یہاں رحمتوں کی کیسی برسات ہے ؟ جبکہ تُوچاہتا ہے کہ باہر جاکر کبھی کسی کے گھر کو دیکھے ، کبھی کسی کے گھر کو ۔‘‘(ذم الھوٰی، الباب الثالث، ص۴۳)
(اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اُن پر رحمت ہو۔۔ا ور۔۔ اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم )
( 47) عشاء تا فجر ’’ فکر ِ مدینہ‘‘ ۔۔۔۔
حضرت سیدنا ابراھیم بن ادھم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے پاس ایک شخص آیا تو دیکھا کہ وہ عشاء کی نماز پڑھ چکے ہیں ، لہذا وہ ان کے انتظار میں بیٹھ گیا ۔ آپ نے ایک کمبل لپیٹا اور لیٹ گئے ، رات بھر پہلو نہ بدلا حتی کہ صبح ہوگئی اور مؤذن نے اذان دی ۔وہ جلدی جلدی نماز کے لئے اٹھے اور بغیر وضو کئے نماز ادا کی ۔ یہ بات اس شخص کو کھٹکی اور اس نے کہا ، ’’اللہ تَعَالٰی آپ پر رحم فرمائے ، آپ رات بھر لیٹے رہے پھر بھی وضو نہیں فرمایا۔‘‘آپ نے فرمایا، ’’میں رات بھر کبھی جنت کے باغوں میں اور کبھی جہنم کی وادیوں میں پھرتا رہا (یعنی فکر مدینہ کرتا رہا )، تو کیا ایسی حالت میں نیند آتی ہے ؟‘‘
(احیاء العلوم، کتاب المراقبۃ والمحاسبۃ ، ج ۵، ص ۱۴۶ )
(اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اُن پر رحمت ہو۔۔ا ور۔۔ اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم )
( 48) حق معاف ہوجانے کے باوجود’’فکر ِ مدینہ‘‘۔۔۔۔
لوگوں نے ایک مرتبہ حضرت سیدنا عتبہ غلام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو سخت سردی کے موسم میں صرف ایک کرتے میں دیکھا ، اس کے باوجود آپ کا جسم پسینہ سے شرابور تھا ۔ جب لوگوں نے اس کی وجہ دریافت کی تو ارشاد فرمایا ، ’’کچھ عرصہ پہلے میرے گھر چند مہمان آئے اور انہوں نے میرے ہمسائے کی اجازت کے بغیر اس کی دیوار سے تھوڑی سے مٹی لے لی تھی ، چنانچہ اس دن سے آج تک جب بھی میری نظر اس دیوار پر پڑتی ہے تو میں شرم کے مارے پسینہ پسینہ ہوجاتا ہوں حالانکہ میرا ہمسایہ اپنا حق معاف بھی کر چکا ہے ۔‘‘(تذکرۃ الاولیاء ، ج۱ ، ص ۶۳ )
(اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اُن پر رحمت ہو۔۔ا ور۔۔ اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم )
( 49) ’’فکرِ مدینہ ‘‘میں کہاں تک پہنچے؟ ۔۔۔۔
حضرت سیدنا عبداللہ بن مبارک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے حضرت سیدنا سہل بن علی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو حالت ِ فکر میں دیکھ کر پوچھا ، ’’آپ (فکر ِ مدینہ میں )کہاں تک پہنچے ؟‘‘ آپ نے جواب دیا ، ’’پل ِ صراط پر ۔‘‘ (احیاء العلوم، کتاب التفکر ، ج ۵، ص ۱۶۳ )
(اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اُن پر رحمت ہو۔۔ا ور۔۔ اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم )
( 50) غلام کے جوابات سن کر’’فکر ِ مدینہ‘‘ ۔۔۔۔
حضرت سیدنا ابراھیم بن ادھم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک غلام خریدا اور اس کا نام دریافت کیا تو اس نے جواب دیا ، ’’آپ جس نام سے چاہیں پکاریں ۔‘‘ پھر میں نے اس سے سوال کیا ، ’’تم کیا کھانے کے عادی ہو؟‘‘ اس نے کہا ، ’’جو آپ کھلا دیں گے کھا لوں گا۔‘‘میں نے پوچھا ، ’’تمہاری کوئی خواہش ہوتو بتاؤ؟‘‘ اس نے جواب دیا ، ’’جو آپ کی خواہش ہو ، غلام کو ان چیزوں سے بحث نہیں ہوا کرتی ۔‘‘یہ سن کر میں نے سوچا کہ ، ’’کاش! میں بھی اللہ تَعَالٰی کا یونہی اطاعت گزار ہوتا تو کتنا بہتر تھا ۔‘‘ (تذکرۃ الاولیاء ، ج۱ ، ص ۹۹ )
(اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اُن پر رحمت ہو۔۔ا ور۔۔ اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم )
]*))"+stext, 'gi'); innerHTML = innerHTML.replace(regex, '$&'); container.innerHTML = innerHTML; }
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع