دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fikr e Madina Ma 41 Hikayaat e Attaria | فکر مدینہ

book_icon
فکر مدینہ

(منہاج العابدین ، ص ۳۰ )

(اللہ   عَزَّ  وَجَلَّ   کی اُن پر رحمت ہو۔۔ا ور۔۔ اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم )

 ( 37)وضو کرتے وقت ’’فکر ِ مدینہ‘‘ ۔۔۔۔

        حضرت امام زین العابدین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  جب وضو کرتے تو خوف کے مارے آپ کے چہرے کا رنگ زرد پڑ جاتا ۔ گھر والے دریافت کرتے ، ’’یہ وضو کے وقت آپ کو کیا ہوجاتا ہے؟‘‘ تو فرماتے ، ’’تمہیں معلوم ہے کہ میں کس کے سامنے کھڑے ہونے کا ارادہ کر رہا ہوں ؟‘‘( احیاء العلوم ، کتاب الخوف والرجاء ج ۴، ص ۲۲۶)

(اللہ   عَزَّ  وَجَلَّ   کی اُن پر رحمت ہو۔۔ا ور۔۔ اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم )

 ( 38)   نماز کے لئے جاتے ہوئے’’ فکر ِ مدینہ‘‘ ۔۔۔۔

        ایک مرتبہ لوگوں نے حضرت داؤد طائی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کو گھبراہٹ کے عالم میں جلد ی جلدی نماز کے لئے جاتے دیکھا تو عرض کی ، ’’حضور! اتنی جلدی اور گھبراہٹ کس سبب سے ہے ؟‘‘ ارشاد فرمایا ، ’’ دراصل شہر کے دروازے پر ایک لشکر میرا انتظار کر رہا ہے ، اس لئے عجلت میں مبتلاء ہوں ۔‘‘ لوگوں نے حیرانی سے دریافت کیا ، ’’کون سا لشکر ؟‘‘ جواب دیا ، ’’قبرستان کے مُردوں کا لشکر ۔‘‘  (تذکرۃ الاولیاء ، ج ۱ ، ص  ۲۰۲ )

(اللہ   عَزَّ  وَجَلَّ   کی اُن پر رحمت ہو۔۔ا ور۔۔ اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم )   

 ( 39)  مسجدمیں داخل ہونے سے پہلے’’ فکر ِ مدینہ‘‘ ۔۔۔۔

         حضرت سیدنا بایزید بسطامی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  مسجد میں داخل ہونے سے قبل دروازے پر کھڑے ہوکر گریہ وزاری کرنے لگتے ۔ جب آپ سے اس کی وجہ دریافت کی گئی تو فرمایا ، ’’میں خود کو حائضہ عورت کی طرح ناپاک تصور کرتے ہوئے روتا ہوں کہ کہیں میرے داخلے سے مسجد نجس(یعنی ناپاک) نہ ہوجائے ۔‘‘(تذکرۃ الاولیاء، ج۱ ، ص  ۱۳۳ )

(اللہ   عَزَّ  وَجَلَّ   کی اُن پر رحمت ہو۔۔ا ور۔۔ اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم )

 ( 40)    مسجد کے دروازے پر ’’فکر ِ مدینہ‘‘ ۔۔۔۔

        حضرت سیدنا کعب الاحبار رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  فرماتے ہیں ، ’’بنی اسرائیل میں دو آدمی مسجد کی طرف چلے تو ایک مسجد میں داخل ہوگیا مگر دوسرے پر خوفِ خدا  عَزَّ  وَجَلَّ  طاری ہوگیا اور وہ باہر کھڑا رہا اور اپنا محاسبہ کرتے ہوئے کہنے لگا ، ’’میں گناہ گار اس قابل کہاں کہ اپنا گندا وجود لے کراللہ  عَزَّ  وَجَلَّ  کے پاک گھر میں داخل ہوسکوں ؟‘‘ اللہ  تَعَالٰی کو اس کا یہ عمل پسند آیا اور اس کا نام صدیقین میں درج فرمالیا۔(روض الریاحین۔الحکایۃ السابعۃ والخمسون بعدالثلثمئۃ ۔ص۳۹۸)

(اللہ   عَزَّ  وَجَلَّ   کی اُن پر رحمت ہو۔۔ا ور۔۔ اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم )

 ( 41)   نماز شروع کرنے سے پہلے’’ فکر ِ مدینہ‘‘ ۔۔۔۔

        حضرت سَیِّدُنا ذوالنون مصری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  نماز کی نیت کرتے وقت بارگاہِ خداوندی میں عرض کرتے ، ’’اے مالک ومولا !تیری بارگاہ میں حاضری کے لئے کون سے پاؤں لاؤں ، کن آنکھوں سے قبلہ کی جانب نظر کروں ، تعریف کے وہ کون سے لفظ ہیں جن سے تیری حمد کروں ؟ لہٰذا مجبوراً حیاء کو ترک کر کے تیرے حضور حاضر ہو رہا ہوں ۔‘‘پھر آپ نماز کی نیت باندھ لیتے ۔ اکثر اللہ  تَعَالٰی سے یہ بھی عرض کرتے ، ’’آج مجھے جن مصائب کا سامنا ہے ، وہ تیرے سامنے عرض کردیتا ہوں ، لیکن کل میدانِ محشر میں میری بداعمالیوں کی وجہ سے جو اذیت پہنچے گی ، اس کا اظہار کس سے کروں ؟ لہذا ! اے رب العالمین ! مجھے عذاب کی ندامت سے چھٹکارا عطا فرما دے ۔‘‘(تذکرۃ الاولیاء ، ص۱۱۹)

(اللہ   عَزَّ  وَجَلَّ   کی اُن پر رحمت ہو۔۔ا ور۔۔ اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم )

 ( 42)  پہلی صف چھوٹ جانے پر’’ فکر ِ مدینہ‘‘ ۔۔۔۔

        امام سیدنا محمد غزالی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کیمیائے سعادت میں نقل فرماتے ہیں کہ ایک بزرگ  تیس سال تک ہمیشہ نماز کے لئے پہلی صف میں کھڑے ہوتے تھے ۔ ایک دن انہیں کسی وجہ سے تاخیر ہوگئی تو آخری صف میں جگہ ملی ۔ ان کے نفس نے کہا ، ’’لوگ کیا کہیں گے کہ یہ آج اتنی دیرسے آیا ہے ؟‘‘ انہوں نے (دل میں )کہا، ’’ افسوس! میری تیس سال کی نمازیں ضائع ہوگئیں کہ میں محض لوگوں کے لئے پہلی صف میں کھڑا ہوتا رہا ۔‘‘ (ج ۲ ،  ص ۸۷۶  )

(اللہ   عَزَّ  وَجَلَّ   کی اُن پر رحمت ہو۔۔ا ور۔۔ اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم )

 (43 )   نماز پڑھنے کے دوران’’ فکر ِ مدینہ‘‘ ۔۔۔۔

        حضرت حاتم اَصم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے ان کی نماز کا حال دریافت کیا گیا ، تو آپ نے فرمایا، ’’جب نماز کا وقت ہوتاہے، تو اچھی طرح وضو کرتا ہوں ، پھر اس مقام پر آتا ہوں ، جہاں نماز ادا کرنی ہے، وہاں بیٹھ کر تمام اعضاء کو جمع کرتا ہوں یعنی انہیں حالت ِاطمئنان میں لاتاہوں ۔پھر میں نماز کے لئے کھڑا ہوتا ہوں ، تو کعبۃ اللہ  کو اپنے سامنے رکھتا ہوں ، پل صراط کو قدموں تلے، جنت کو سیدھی جانب، جہنم کو بائیں جانب اورملک الموت ں کو اپنے پیچھے تصور کرتا ہوں ۔

        پھر اس نماز کو اپنی آخری نماز سمجھ کر خوف وامید کے ساتھ کھڑا ہوتا ہوں ، بلند آواز سے تکبیر کہہ کر ترتیل کے ساتھ قرأت کرتا ہوں ، پھر عاجزی کے ساتھ رکوع اور خشوع کے ساتھ سجود ادا کرتا ہوں ۔پھر اپنی الٹی سرین پر بیٹھ کر سیدھا پیر کھڑا کر لیتا ہوں اور ساری نماز میں اخلاص کا خوب خیال رکھتا ہوں ۔پھر(بھی) میں نہیں جانتا کہ یہ نماز بارگاہ ِالہی میں مقبول ہوتی ہے یا نہیں ؟‘‘۔

( احیاء العلوم ، کتاب اسرار الصلوۃ ومہماتھا، ج ۱ ، ص$&'); container.innerHTML = innerHTML; }

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن