دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fikr e Madina Ma 41 Hikayaat e Attaria | فکر مدینہ

book_icon
فکر مدینہ

حوروں سے ملاقات کر رہا ہوں ۔ اس کے بعد میں نے یہ خیال جمایا کہ میں جہنم میں ہوں اور آگ کی زنجیروں میں جکڑا تھوہڑ(کانٹے دار درخت ) کھا رہا ہوں اور دوزخیوں کا پیپ پی رہا ہوں ۔

         پھر میں نے اپنے نفس سے پوچھا ، ’’بتاؤ!اب تم کیا چاہتے ہو؟‘‘ میرے نفس نے جواب دیا ، ’’میں دنیا میں واپس جانا چاہتا ہوں تاکہ نیکیاں کر سکوں ۔‘‘ میں نے کہا ،

 ’’تیری خواہش پوری کی جاتی ہے ، لہذا ! نیکیاں کرلے۔‘‘(مکاشفۃ القلوب الباب الثمانون فی بیان المحبۃ ومحاسبۃ النفس، ص ۲۶۵ )

(اللہ   عَزَّ  وَجَلَّ   کی اُن پر رحمت ہو۔۔ا ور۔۔ اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم )

 ( 29)  ساری رات ’’فکر ِ مدینہ ‘‘۔۔۔۔

        حضرت سیدنا عتبہ غلام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  اپنی پوری رات تین چیخوں میں گزار دیتے تھے ۔ جب وہ نمازِ عشاء سے فارغ ہوتے تو اپنا سر دونوں گھٹنوں کے درمیان رکھ کر چیخ مارتے اور فکر مدینہ میں مشغول ہوجاتے ، جب رات کا دو تہائی حصہ گزر جاتا تو پھر ایک چیخ مارتے اور پھر سے گھٹنوں میں سر دے کر فکرِ مدینہ میں مشغول ہوجاتے ، پھر جب سحری کا وقت ہوتا تو ایک چیخ مارتے ۔ حضرت سیدنا جعفر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ   فرماتے ہیں کہ میں نے یہ بات ایک بصری سے بیان کی تو اس نے کہا آپ اس چیخ کی طرف دھیان نہ دیں بلکہ اس بات پر غور کیجئے جو دوچیخوں کے درمیان ہے ۔(یعنی غوروفکر)‘‘ (احیاء العلوم، کتاب المراقبۃ والمحاسبۃ ، ج ۵، ص  ۱۴۷ )

(اللہ   عَزَّ  وَجَلَّ   کی اُن پر رحمت ہو۔۔ا ور۔۔ اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم )

 (30 )  بستر پر لیٹنے سے قبل ’’فکر ِ مدینہ‘‘۔۔۔۔

        حضرت سیدنا عبدالعزیز بن ابی روّاد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ   رات کی تاریکی چھا جانے کے بعد اپنے بستر کے قریب تشریف لاتے ، اس پر اپنا ہاتھ پھیرتے اور فرماتے ، ’’بے شک تو بہت نرم اور عمدہ ہے لیکناللہ  عَزَّ  وَجَلَّ  کی قسم ! جنت میں تجھ سے بھی زیادہ نرم وملائم بچھونے ہیں ۔‘‘پھر ساری رات عبادت میں گزار دیتے ۔(المتجر الرابح ، ص ۱۸۵)

(اللہ   عَزَّ  وَجَلَّ   کی اُن پر رحمت ہو۔۔ا ور۔۔ اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم )   

 ( 31)   تنہائی میں ’’فکر ِ مدینہ‘‘۔۔۔۔

        حضرت سیدنا لقمان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  دیر تک تنہائی میں بیٹھے رہتے ۔جب ان کا مالک پاس سے گزرتا تو کہتا ، ’’اے لقمان ! تم ہمیشہ تنہا بیٹھتے ہو اگر لوگوں کے ساتھ بیٹھو تو اس میں دل زیادہ لگے گا ۔‘‘ تو آپ جواب دیتے زیادہ تنہائی غوروفکر کے لئے مفید ہے اور زیادہ غوروتفکر جنت کے راستہ کی راہنمائی کرتا ہے ۔‘‘ (احیاء العلوم، کتاب التفکر ، ج ۵، ص ۱۶۳ )

(اللہ   عَزَّ  وَجَلَّ   کی اُن پر رحمت ہو۔۔ا ور۔۔ اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم )

 ( 32)   درخت پر الٹا لٹک کر’’فکر ِ مدینہ‘‘ ۔۔۔۔

        حضرت سیدنا ذوالنون مصری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  نے ایک عبادت گزار نوجوان کو دیکھا کہ ایک درخت پر الٹا لٹک کرکچھ اس طرح اپنے نفس کا محاسبہ کررہا ہے کہ ، ’’جب تک تُو عبادتِ الٰہی میں میری معاونت نہیں کرے گا میں تجھے یونہی اذیت دیتا رہوں گا یہاں تک کہ تیری موت واقع ہوجائے ۔‘‘(تذکرۃ الاولیاء، ج۱ ، ص ۱۱۲ )

(اللہ   عَزَّ  وَجَلَّ   کی اُن پر رحمت ہو۔۔ا ور۔۔ اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم )

 ( 33)  کم عمری کے گناہ پر’’ فکر ِ مدینہ‘‘ ۔۔۔۔

        ایک مرتبہ حضرت سیدنا ابن عطاء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو گریہ زاری کرتے دیکھ کر لوگوں نے اس کا سبب پوچھاتو ارشاد فرمایاکہ، ’’میں نے کم عمری میں ایک شخص کا کبوتر پکڑ لیا تھا جس کے معاوضے کے طور پر اس کے مالک کو اب تک ایک ہزار دینار دے چکاہوں لیکن پھر بھی ڈرتا ہوں کہ نامعلوم مجھے کیا سزا دی جائے گی ؟‘‘(تذکرۃ الاولیاء ج۲، ص ۵۷ )

(اللہ   عَزَّ  وَجَلَّ   کی اُن پر رحمت ہو۔۔ا ور۔۔ اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم )   

 ( 34)   ماں کا حکم نفس پر گراں گزرنے پر ’’فکر ِ مدینہ‘‘۔۔۔۔

         حضرت سیدنا ابو محمد مرتعش رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  نے فرمایا، ’’ میں نے بہت سے حج کئے اوران میں سے اکثر سفر کسی قسم کا زادِ راہ لئے بغیر کئے ۔پھر مجھ پر آشکار ہوا کہ یہ سب تو میرے نفس کا دھوکہ تھا کیونکہ ایک مرتبہ میری ماں نے مجھے گھڑے میں پانی بھر کر لانے کا حکم دیا تو میرے نفس پر ان کا حکم گراں گزرا ، چنانچہ میں نے سمجھ لیا کہ سفرِ حج میں میرے نفس نے میری موافقت فقط اپنی لذت کے لئے کی اور مجھے دھوکے میں رکھا کیونکہ اگر میرا نفس فناء ہو چکا ہوتا تو آج ایک حقِ شرعی پورا کرنا اسے بے حد دشوار کیوں محسوس ہوتا ؟‘‘(الرسالۃ القشیریۃ ، ص۱۳۵ )

(اللہ   عَزَّ  وَجَلَّ   کی اُن پر رحمت ہو۔۔ا ور۔۔ اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم )

 ( 35)   بے کار سوال کر بیٹھنے پر ’’فکر ِ مدینہ‘‘۔۔۔۔

        حضرت سیدنا حسان بن سنان تابعی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  ایک بلند مکان کے پاس سے گزرے تو اس کے مالک سے دریافت کیا ، ’’یہ مکان بنائے تمہیں کتنا عرصہ گزرا ہے ؟‘‘ یہ سوال کرنے کے بعد آپ دل میں سخت نادم ہوئے اور اپنے نفس سے مخاطب ہو کر فرمانے لگے ، ’’اے مغرور نفس ! تو بے کار وبے مقصد سوالات میں قیمتی وقت کو ضائع کرتا ہے ۔‘‘ پھر اس فضول سوال کے کفارے میں آپ نے ایک سال کے روزے رکھے ۔(منہاج العابدین ، ص  ۷۲)

$&'); container.innerHTML = innerHTML; }

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن