30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کی ترکیب اس طرح کی کہ رمضان کے باوجود ایک دکان سے کچھ لے کر کھانا شروع کر دیا ۔ یہ دیکھ کر لوگ متنفر ہو کر واپس ہوگئے ۔آپ نے فرمایا ، ’’اگرچہ میں نے اجازتِ شرعی (یعنی مسافر کے لئے روزہ نہ رکھنے کی رخصت ) پر عمل کیا لیکن یہ لوگ مجھے برا سمجھ کر منحرف ہوگئے ۔‘‘ (تذکرۃ الاولیاء ، ج ۱ ، ص ۱۳۲ )
(اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اُن پر رحمت ہو۔۔ا ور۔۔ اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم )
(22 )شب وروز’’ فکر ِ مدینہ‘‘ ۔۔۔۔
مروی ہے کہ حضرت رابعہ بصریہ رضی اللہ عنہا کا معمول تھا کہ جب رات ہوتی اور سب لوگ سو جاتے تو اپنے آپ سے کہتیں ، ’’اے رابعہ (ہوسکتا ہے کہ)یہ تیری زندگی کی آخری رات ہو ، ہو سکتا ہے کہ تجھے کل کا سورج دیکھنا نصیب نہ ہو چنانچہ اٹھ اور اپنے رب تَعَالٰی کی عبادت کر لے تاکہ کل قیامت میں تجھے ندامت کا سامنا نہ کرنا پڑے ، ہمت کر ، سونا مت ، جاگ کر اپنے رب کی عبادت کر…۔‘‘
یہ کہنے کے بعد آپ اٹھ کھڑی ہوتیں اور صبح تک نوافل ادا کرتی رہتیں ۔ جب فجر کی نماز ادا کر لیتیں تو اپنے آپ کو دوبارہ مخاطب کر کے فرماتیں ، ’’اے میرے نفس!تمہیں مبارک ہو کہ گزشتہ رات تونے بڑی مشقت اٹھائی لیکن یاد رکھ کہ یہ دن تیری زندگی کا آخری دن ہو سکتا ہے۔‘‘یہ کہہ کر پھر عبادت میں مشغول ہو جاتیں اور جب نیند کا غلبہ ہوتا تو اٹھ کر گھر میں ٹہلنا شروع کر دیتیں اور ساتھ ساتھ خود سے فرماتی جاتیں ، ’’رابعہ! یہ بھی کوئی نیند ہے، اس کا کیا لطف؟ اسے چھوڑ دو اور قبر میں مزے سے لمبی مدت کے لئے سوتی رہنا، آج تو تجھے زیادہ نیند نہیں آئی لیکن آنے والی رات میں نیند خوب آئے گی ، ہمت کرو اور اپنے رب عَزَّ وَجَلَّ کو راضی کر لو۔‘‘
اس طرح کرتے کرتے آپ نے پچاس سال گزار دئیے کہ آپ نہ تو کبھی بستر پر دراز ہوئیں اور نہ ہی کبھی تکیہ پر سر رکھا یہاں تک کہ آپ انتقال کر گئیں ۔(حکایات الصالحین، ص ۳۹)
(اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اُن پر رحمت ہو۔۔ا ور۔۔ اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم )
( 23) چراغ کی لَو پر ’’فکر ِ مدینہ‘‘ ۔۔۔۔
حضرت سیدنا احنف بن قیس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ رات کے وقت چراغ ہاتھ میں اٹھا لیتے اور اس کی لو پر اپنا انگوٹھا رکھ کر اس طرح اپنا محاسبہ فرماتے کہ ، ’’اے نفس ! تونے فلاں وقت فلاں کام کیوں کیا ؟ اور فلاں چیز کیوں کھائی ؟‘‘(کیمیائے سعادت ج۲، ص ۸۹۳)
(اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اُن پر رحمت ہو۔۔ا ور۔۔ اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم )
( 24) یہودی کو دیکھ کر ’’فکر ِ مدینہ‘‘ ۔۔۔۔
حضرت ابو حفص حدّادرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سرِ بازار ایک یہودی کو دیکھ کر بے ہوش ہوگئے ۔ اور ہوش میں آنے کے بعد جب لوگوں نے وجہ پوچھی تو فرمایا، ’’اسے عدل کے لباس اور خود کو فضل کے لباس میں دیکھ کر یہ خوف لاحق ہوگیا تھا کہ کہیں اس کا لباس مجھے اور میرا لباس اس کو نہ عطا کر دیا جائے ۔‘‘ (تذکرۃ الاولیاء ج۱، ص ۲۸۸ )
(اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اُن پر رحمت ہو۔۔ا ور۔۔ اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم )
( 25) فضول سوال کربیٹھنے پر’’ فکر ِ مدینہ‘‘ ۔۔۔۔
حضرت سیدنا مالک بن ضیغم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت سیدنا رباح القیسی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نمازِ عصر کے بعد ہمارے ہاں تشریف لائے اور فرمایا ، ’’اپنے والد محترم کو باہر بھیجئے۔‘‘ میں نے عرض کی ، ’’وہ تو سو رہے ہیں ۔‘‘ تو آپ یہ کہتے ہوئے پلٹ گئے کہ ، ’’یہ سونے کا کون سا وقت ہے ؟‘‘میں بھی ان کے پیچھے ہو لیا ۔ میں نے دیکھا کہ آپ اپنا محاسبہ کرتے ہوئے فرما رہے ہیں ، ’’ابوالفضول! تم نے یہ کیوں کہا کہ یہ سونے کا کون سا وقت ہے ؟ آخر تجھے یہ فضول بات کہنے کی کیا ضرورت تھی ؟ اب تمہیں سزا بھگتنا ہوگی ، میں سال بھر تجھے تکیہ پر سر نہیں رکھنے دوں گا ۔‘‘ میں نے دیکھا کہ یہ کہتے ہوئے آپ کی آنکھوں سے سیلاب ِ اشک رواں تھا ۔(کیمیائے سعادت ج۲، ص ۸۹۳)
(اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اُن پر رحمت ہو۔۔ا ور۔۔ اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم )
( 26) گوشت کھانے کی خواہش پر’’ فکر ِ مدینہ‘‘ ۔۔۔۔
حضرت سیدنا مالک بن دینار رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ مسلسل ریاضت ومجاہدات میں مشغول رہا کرتے تھے ۔ ایک مرتبہ آپ کے دل میں گوشت کھانے کی خواہش نے شدت پکڑ لی تو آپ قصاب کے پاس پہنچے اور اس سے گوشت خرید کر سیدھے پہاڑ کی طرف چلے گئے ۔ وہاں جاکر آپ نے وہ گوشت نکال کر سونگھا اور اپنے نفس کو مخاطب کر کے فرمانے لگے ، ’’اے نفس !میں تجھ سے بڑی مشقت لیتا ہوں اور زندگی کے عیش وعشرت سے دور رکھتا ہوں … ، میں نہ تو کسی دشمنی کی بناپر ایسا کرتاہوں اور نہ کسی مجبوری کی وجہ سے… ، بلکہ تیری محبت مجھے ایسا کرنے پر اکساتی ہے کیونکہ میں تجھ سے بہت محبت کرتا ہوں …، میں چاہتا ہوں کہ تُو دوزخ کی آگ سے بچ جائے …، لہذا صبر سے کام لے ۔‘‘ یہ کہہ کر آپ روپڑے اور کافی دیر تک روتے رہے ۔(حکایات الصالحین ، ص۲۸)
(اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اُن پر رحمت ہو۔۔ا ور۔۔ اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم )
( 27) راہ چلتے ’’فکر ِ مدینہ‘‘ ۔۔۔۔
حضرت ابو الشیخ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ایک مرتبہ کہیں جارہے تھے کہ اچانک بیٹھ گئے اور چادر منہ پر ڈال کر رونے لگے ۔ کسی نے پوچھا ، ’’آپ کیوں روتے ہیں ؟‘‘ فرمایا، ’’میں نے اپنی زندگی کے ختم ہونے ، نیک اعمال کی کمی اور موت کے قریب آنے کے بارے میں غوروتفکر کیا تو رونا آگیا ۔‘‘ (احیاء العلوم، کتاب التفکر ، ج ۵، ص ۱۶۳)
(اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اُن پر رحمت ہو۔۔ا ور۔۔ اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم )
( 28) جنت ودوزخ کا تصور باندھ کر’’ فکر ِ مدینہ‘‘۔۔۔۔
حضرت سیدنا ابراھیم تیمی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے یہ تصور باندھا کہ میں جنت میں ہوں ، وہاں کے پھل کھا رہاہوں ، اس کی نہروں سے مشروب پی رہا ہوں اور
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع