30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۔‘‘لہٰذا میں نے نذر مان لی کہ میں شہر میں داخل نہیں ہوں گا اور نہ ہی اپنے نفس کی خواہش کو پورا کروں گا ۔‘‘ (حکایات الصالحین ، ص۳۳)
(اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اُن پر رحمت ہو۔۔ا ور۔۔ اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم )
( 15) احرام باندھنے کے بعد’’ لبیک‘‘ کہنے سے پہلے’’فکر ِ مدینہ‘‘ ۔۔
حضرت سَیِّدُنا امام علی بن حسین زین العابدین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ علمِ حدیث میں اپنے والد ِ ماجد حضرت سَیِّدُنا امام حسین ودیگر صحابہ کرام رَضِیَ اللّٰہ تعالٰی عَنہمکے وارث ہیں ۔ آپ بڑے خدا ترس تھے اور آپ کا سینۂ مبارک خشیت ِ الٰہی کا سفینہ تھا ۔ ایک مرتبہ آپ نے حج کا احرام باندھا تو تلبیہ (یعنی لبیک)نہیں پڑھی ۔ لوگوں نے عرض کی ، ’’حضور! آپ لبیک کیوں نہیں پڑھتے ؟‘‘ آبدیدہ ہو کر ارشاد فرمایا، ’’مجھے ڈر لگتا ہے کہ میں لبیک کہوں اوراللہ عَزَّ وَجَلَّ کی طرف سے ’’لاَ لَبَّیْکْ‘‘کی آواز نہ آجائے ، یعنی میں تو یہ کہوں کہ’’ اے میرے مالک ! میں بار بار تیرے دربار میں حاضر ہوں ۔‘‘ اور ادھر سے یہ آواز نہ آجائے کہ’’ نہیں نہیں ! تیری حاضری قبول نہیں ۔‘‘لوگوں نے کہا ، ’’حضور! پھر لبیک کہے بغیر آپ کا احرام کیسے ہوگا؟‘‘ یہ سن کر آپ نے بلند آواز سے لَبَّیْکْ اَللّٰھُمَّ لَبَّیْکْ لَبَّیْکَ لاَشَرِیْکَ لَکَ لَبَّیْکْ اِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَۃَ لَکَ وَالْمُلْک لاَشَرِیْکَ لَکْ پڑھا لیکن ایک دم خوفِ خدا عَزَّ وَجَلَّ سے لرز کر اونٹ کی پشت سے زمین پر گر پڑے اور بے ہوش ہو گئے ۔ جب ہوش میں آتے تو ’’لبیک‘‘ پڑھتے اور پھر بے ہوش ہوجاتے ، اسی حالت میں آپ نے حج ادا فرمایا۔(اولیائے رجال الحدیث ص۱۶۴ )
(اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اُن پر رحمت ہو۔۔ا ور۔۔ اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم )
( 16) روزانہ ’’فکر ِ مدینہ ‘‘۔۔۔۔
حضرت سَیِّدُنا عطاء سلمی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ جنہوں نے خوفِ خدا کی وجہ سے چالیس سال تک آسمان کی طرف نہیں دیکھا اور نہ ہی کسی نے انہیں مسکراتے ہوئے دیکھا ، اِن کے بارے میں منقول ہے کہ آپ روزانہ اپنے نفس کو مخاطب کر کے فرماتے ، ’’اے نفس! تو اپنی حد میں رہ اور یاد رکھ تجھے قبر میں بھی جانا ہے ، پل صراط سے بھی گزرنا ہے ، دشمن (یعنی آنکڑے)تیرے ارد گرد موجود ہوں گے جو تجھے دائیں بائیں کھینچیں گے ، اس وقت قاضی، رب تَعَالٰی کی ذات ہو گی اور جیل ، جہنم ہو گی جبکہ اس کا داروغہ سَیِّدُنا مالک ں ہوں گے ۔اس دن کا قاضی(معاذ اللہ ) ناانصافی کی طرف مائل نہیں ہوگا اور نہ ہی داروغہ کوئی رشوت قبول کرے گا اور نہ ہی جیل توڑنا ممکن ہوگا کہ تو وہاں سے فرار ہو سکے ، قیامت کے دن تیرے لئے ہلاکت ہی ہلاکت ہے ۔ اس کا بھی علم نہیں کہ فرشتے تجھے کہاں لے جائیں گے ، عزت وآرام کے مقام ‘جنت میں یا حسرت اور تنگی کی جگہ جہنم میں ؟ …‘‘ اس دوران آپ کی چشمانِ مبارک سے آنسو بھی بہتے رہتے ۔ (حکایات الصالحین، ص ۵۰)
(اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اُن پر رحمت ہو۔۔ا ور۔۔ اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم )
( 17) نگاہ اوپر اٹھ جانے پر’’فکر ِ مدینہ‘‘ ۔۔۔۔
حضرت سیدنا مجمع رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے ایک مرتبہ اوپر کی طرف دیکھا کہ تو ایک چھت پر موجود کسی عورت پر نظر پڑ گئی ۔آپ نے فوراً نگاہ جھکا لی اور اس قدر پشیمان ہوئے کہ عہد کر لیا کہ ’’آئندہ کبھی اوپر نہ دیکھوں گا ۔‘‘(کیمیائے سعادت ج۲، ص ۸۹۳)
(اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اُن پر رحمت ہو۔۔ا ور۔۔ اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم )
( 18) غسل میں سستی ہونے پر’’ فکر ِ مدینہ ‘‘۔۔۔۔
ایک مرتبہ حضرت سیدنا ابن الکریبی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو سخت سردی کے موسم میں رات کے وقت احتلام ہوگیا ۔ آپ کے نفس نے سستی دلائی کہ ابھی سو جاؤ ، کافی رات باقی ہے ، صبح اطمینان سے حمام میں غسل کر لینا ۔لیکن آپ نے اپنے نفس کا محاسبہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ میں ابھی کپڑوں سمیت نہاؤں گا اور انہیں نچوڑے بغیر بدن پر ہی خشک کروں گا۔ چنانچہ آپ نے ٹھنڈے پانی سے کپڑوں سمیت غسل کیا ، پھر ٹہلتے رہے تاکہ ہوا لگتی رہے حتی کہ آپ کے کپڑے بدن پر ہی خشک ہوگئے ۔(کیمیائے سعادت ج۲، ص ۸۹۲)
(اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اُن پر رحمت ہو۔۔ا ور۔۔ اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم )
( 19) ارتکاب ِگناہ کے مقام سے گزرنے پر’’ فکر ِ مدینہ‘‘۔۔۔۔
ایک مرتبہ حضرت سیدنا عتبہ غلام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ایک مکان کے پاس سے گزرے تو کانپنے لگے اور آپ کو پسینہ آگیا ۔ لوگوں کے دریافت کرنے پر فرمایا ، ’’یہ وہی جگہ ہے جہاں میں نے چھوٹی عمر میں گناہ کیا تھا ۔‘‘(تنبیہ المغترین ۔ص۵۷)
(اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اُن پر رحمت ہو۔۔ا ور۔۔ اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم )
(20 ) تخت ِ شاہی پر’’ فکر ِمدینہ‘‘ ۔۔۔۔
ایک مرتبہ لوگوں نے حضرت سیدنا ابراھیم بن ادھم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے سوال کیا، ’’آپ نے بادشاہت کیوں چھوڑ دی ؟‘‘ جواب دیا ، ’’ایک دن میں آئینہ لئے ہوئے شاہی تخت پر براجمان تھا تو مجھے خیال آیا کہ نہ تو میرے پاس طویل سفر (یعنی سفرِ آخرت)کے لئے کوئی زادِ راہ ہے اور نہ کوئی عذر جبکہ میری آخری منزل قبر ہے اور حاکم(یعنی اللہ تَعَالٰی ٰ) بھی عادل ومنصف ہے ، … بس یہ خیال آتے ہی میرا دل بجھ گیا اور مجھے بادشاہت سے نفرت ہو گئی ۔‘‘(تذکرۃ الاولیائ، ج ۱ ، ص ۹۳ )
(اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اُن پر رحمت ہو۔۔ا ور۔۔ اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم )
( 21) عقیدتوں کے ہجوم میں ’’فکر ِ مدینہ‘‘۔۔۔۔
ایک مرتبہ حضرت سیدنا بایزید بسطامی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ زیارتِ مدینہ کے بعد بسطام کے لئے روانہ ہوئے تو شہرکے لوگ آپ کی آمد کی اطلاع سن کر کافی فاصلہ پر استقبال کی غرض سے پہنچ گئے ۔ آپ نے جب ان لوگوں کو دور سے دیکھا تو یہ سوچ کر پریشان ہوگئے کہ اگر ان لوگوں سے ملاقات کرتا ہوں تو یادِ الٰہی عَزَّ وَجَلَّ میں غفلت ہوگی ۔ چنانچہ آپ نے ان لوگوں کو منتشر کرنے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع