دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fikr e Madina Ma 41 Hikayaat e Attaria | فکر مدینہ

book_icon
فکر مدینہ

ہوں توآؤں گا ۔پہلی :  میں جہاں چاہوں گا بیٹھوں گا، …دوسری :  جو چاہوں گا کھاؤں گا، …تیسری :  جو میں کہوں گا وہ تمہیں کرنا ہوگا ۔‘‘اس مالدار نے یہ تینوں شرائط منظور کر لیں ۔ دعوت والے دن اس نے پرتکلف کھانے کا اہتمام کیا ۔ اللہ  کے ولی کی زیارت کے لئے بہت سے لوگ بھی جمع ہوگئے ۔ وقت ِ مقررہ پر حضرتِ سیدنا حاتم اصم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  بھی تشریف لے آئے اور آتے ہی جوتے اتارنے کی جگہ پر بیٹھ گئے ۔ میزبان چونکہ یہ شرط مان چکا تھا کہ’’ حضرت جہاں چاہیں گے بیٹھیں گے، ‘‘لہذا بے بس ہو کر رہ گیا ۔ کچھ دیر بعد کھانا شروع کرنے کا اعلان کیا گیا تو لوگوں نے طرح طرح کے لذیذ کھانوں پر ہاتھ صاف کرنا شروع کردیا لیکناللہ  عَزَّ  وَجَلَّ  کے ولی نے اپنی جھولی میں ہاتھ ڈال کر سوکھی روٹی کا ایک ٹکڑا نکالا اورتناول فرمانے لگے ۔ میزبان اس مقام پر بھی کچھ نہ کر سکا ۔

        جب کھانے کا سلسلہ اختتام کو پہنچا تو آپ نے میزبان سے فرمایا ، ’’دہکتی ہوئی انگیٹھی (یعنی چولہا)لاؤ اور اس پر ایک توا رکھو ۔‘‘ آپ کے حکم کی تعمیل کی گئی ۔ جب وہ توا آگ کی تپش سے سرخ ہو گیا تو آپ اس پر ننگے پاؤں کھڑے ہوگئے اور اپنا محاسبہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ، ’’میں نے آج ایک سوکھی روٹی کھائی ہے۔‘‘ اورتوے سے نیچے تشریف لے آئے ۔پھر حاضرین سے فرمایا، ’’ (تیسری شرط کے مطابق )اب آپ حضرات باری باری اس توے پر کھڑے ہوکر اپنے کھانے کا حساب دیجئے۔ ‘‘یہ سن کر لوگوں کی چیخیں نکل گئیں اور سب بیک زبان بول اٹھے ، ’’حضور! آپ تواللہ  عَزَّ  وَجَلَّ کے ولی ہیں اور اس گرم توے پر کھڑا ہونا آپ کی کرامت ہے ، ہم گناہ گاروں میں اتنی طاقت کہاں کہ اس پر کھڑے ہوسکیں ؟‘‘

        آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  نے دعوتِ محاسبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا ، ’’اے لوگو! وہ وقت یاد کرو جب سورج جو آج کروڑوں میل دور ہے ، صرف سوا میل دور ہوگا … آج اس کی پشت ہماری جانب ہے ، اس دن اس کا اگلا حصہ ہماری طرف ہوگا … زمین تانبے کی ہوگی … اس دہکتی ہوئی زمین کا تصور کرو اور اس گرم توے کو دیکھو کہ یہ تو دنیا کی آگ سے گرم ہوا ہے ، اس کی تپش تو انگارے کی مانند دہکتی ہوئی تانبے کی زمین کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں …‘‘پھر آپ نے یہ آیت مبارکہ تلاوت کی ،

ثُمَّ لَتُسْــٴَـلُنَّ یَوْمَىٕذٍ عَنِ النَّعِیْمِ۠(۸)

(ترجمہ کنزالایمان :  پھر بے شک ضرور اس دن تم سے نعمتوں کی پرسش(پوچھ گچھ) ہو گی ۔۳۰۔التکاثر : ۸)

         یہ سن کر لوگ دھاڑیں مار مار کر رونے لگے ۔(تذکرۃ الاولیاء ، ج۱ ، ص  ۲۲۲، بتصرفما)

(اللہ   عَزَّ  وَجَلَّ   کی اُن پر رحمت ہو۔۔ا ور۔۔ اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم )

 (12 )  کام میں عیب نکلنے پر’’ فکر ِ مدینہ ‘‘۔۔۔۔

        حضرت سیدنا عطاء سلمیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  نے ایک کپڑے کو بُننے میں بڑی محنت کی اور وہ کپڑا بہت خوبصورت تیار ہوا ۔ آپ اسے لے کر بازار گئے اور کپڑے کے تاجر کو دکھایا ۔ اس نے اس کی بہت تھوڑی قیمت لگائی اور کہنے لگا ، ’’اس میں فلاں فلاں عیب ہیں ۔‘‘ آپ نے اس کپڑے کو واپس لے لیا اور رونے لگے اوربہت دیر تک روتے رہے ۔

        یہ دیکھ کر وہ تاجر بڑا شرمندہ ہوا اور آپ سے معذرت کرتے ہوئے وہ قیمت دینے پر راضی ہوگیا جو آپ نے طلب کی تھی ۔لیکن آپ نے فرمایا ، ’’میں قیمت کی کمی پر آنسو نہیں بہارہا بلکہ میں تو اس لئے رو رہا ہوں کہ میں کپڑے بُننے کا کام جانتا ہوں اور میں نے اس کپڑے کی تیاری کے دوران اسے مضبوط اور شاندار بنانے کے لئے بے حد محنت کی اور میرے گمان کے مطابق اس میں کوئی عیب نہ تھا ۔ پھر جب میں نے اسے عیوب کی پہچان رکھنے والے کے سامنے پیش کیا تو اُس نے اِس کے وہ عیوب گنوا دئیے جن سے میں بے خبر تھا ، آہ! ہمارے اعمال کا کیا بنے گا کہ جب وہ خداوند ِ عالم  عَزَّ  وَجَلَّ  کی بارگاہ میں پیش کئے جائیں گے ، نہ جانے اس وقت ان کے کیسے کیسے عیوب ونقائص ظاہر ہوں گے جن سے آج ہم بے خبر ہیں ۔‘‘(منہاج العابدین  ، ص  ۱۸۹ )

(اللہ   عَزَّ  وَجَلَّ   کی اُن پر رحمت ہو۔۔ا ور۔۔ اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم )

 ( 13)  روتے ہوئے’’ فکر ِ مدینہ‘‘ ۔۔۔۔

        حضرت سیدنا مالک بن دینار رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کے بارے میں منقول ہے کہ آپ عشاء کے بعد وضو فرماتے اور اپنی جائے نماز پر کھڑے ہوجاتے ۔ پھر اپنی داڑھی تھام کر روتے اور عرض کرتے ، ’’اے اللہ  عَزَّ  وَجَلَّ  ! مالک کے بڑھاپے کو جہنم پر حرام فرمادے ، یا الٰہی عَزَّ  وَجَلَّ ! تو جانتا ہے کہ کون اہل ِ جنت میں سے ہے اور کون دوزخ والوں میں سے ؟ تو میں کن میں سے ہوں ؟ اور کون سا گھر میرا ہے (جنت یا دوزخ)؟ ‘‘آپ انہی مناجات میں مصروف رہتے یہاں تک کہ فجر کا وقت ہوجاتا ۔(المتجر الرابح ، ص ۱۸۵)

(اللہ   عَزَّ  وَجَلَّ   کی اُن پر رحمت ہو۔۔ا ور۔۔ اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم )

 (14 )   شہر میں داخلے سے پہلے ’’ فکر ِ مدینہ‘‘ ۔۔۔۔

        حضرت سیدنا ابوالقاسم قادسی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  فرماتے ہیں کہ ایک رات قادسیہ شہر کے باسیوں نے سنا کہ کوئی کہہ رہا ہے کہ ، ’’اے قادسیہ والو!اللہ   عَزَّ  وَجَلَّ  کے ایک ولی نے اپنے نفس کو’’درندوں کے جنگل ‘‘میں قید کردیا ہے ۔ جاؤ اور اسے شہر میں لے آؤ ، ایسا نہ ہو کہ درندے اسے کوئی نقصان پہنچا دیں ۔‘‘یہ غیبی آواز سن کر تمام شہر والے جنگل کی طرف روانہ ہوگئے اور میں بھی ان کے ساتھ ہولیا ۔ایک جگہ پہنچ کر ہم نے دیکھا کہ حضرت سیدنا  ابوالحسن نوری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  ایک گڑھے میں آرام فرما رہے ہیں ۔ ہم سب نے مل کر انہیں گڑھے سے باہر نکالا اور(بھر پور اصرار کر کے) شہر میں لے آئے۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے مجھے شرفِ میزبانی عطا فرمایا اور چند دن میرے گھر مقیم رہے ۔

        جب آپ روانہ ہونے لگے تو میں نے آپ سے اُس گڑھے میں آرام کرنے کا مقصد پوچھا۔ آپ نے جواب دیا ، ’’اس کا سبب یہ تھا کہ جب میں سفر کرتا ہوا اس مقام پر پہنچا تو میرا نفس خوشی سے جھومنے لگا اور کہنے لگا کہ میں جلد ہی شہر میں داخل ہوجاؤں گا ، جہاں بہت سے لوگ مجھے جاننے اور پہچاننے والے ہیں ، وہ میری مہمان نوازی کریں گے اور مجھے طرح طرح کے لذیذ کھانے کھلائیں گے ۔‘‘ جب میں نے اپنے نفس کی یہ حالت دیکھی تو سخت افسردہ ہوا ۔ چنانچہ میں نے اسے مخاطب کرکے کہا، ’’اے نفس ! تو اس بات پر خوش ہورہا ہے کہ تجھے اچھے اچھے کھانے ملیں گے ، آرام وسکون حاصل ہوگا ، رب  تَعَالٰی کی قسم ! میں تجھے شہر نہیں لے کر جاؤں گا بلکہ تجھے یہیں قید کردوں گا اور تیری موت بھی اسی جگہ واقع ہوگی ، تُو کبھی بھی قادسیہ شہر کا نظارہ نہیں کرسکے گا

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن