دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fikr e Madina Ma 41 Hikayaat e Attaria | فکر مدینہ

book_icon
فکر مدینہ

( 5)   عید کے دن’’فکر ِ مدینہ‘‘ ۔۔۔۔

        عید کے دن کچھ لوگ امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کے کاشانۂ اقدس پر حاضر ہوئے تو دیکھا کہ آپ دروازہ بند کر کے زاروقطار رو رہے ہیں ۔ لوگوں نے حیران ہو کر عرض کیا ، ’’یا امیر المؤمنین ! آج تو یومِ عید ہے جو شادمانی ومسرت اور خوشی منانے کا دن ہے ، پھر یہ رونا کیسا ؟‘‘ آپ نے آنسو پونچھتے ہوئے ارشاد فرمایا، ’’ھٰذَ ا یَوْمُ الْعِیْدِ وَھٰذَا یَوْمُ الْوَعِیْد یعنی یہ عیدکا دن بھی ہے اور وعید کا دن بھی ہے ، بلاشبہ اس کے لئے آج عید کا دن ہے جس کے نماز وروزہ مقبول ہوگئے اور جس کے نماز وروزہ اس کے منہ پر مار دئیے گئے ہوں (یعنی رد کر دئیے گئے ہوں ) اس کے لئے تو آج وعید کا دن ہے ، اور میں اس خوف سے رو رہا ہوں کہ میں نہیں جانتا کہ میں مقبول بندوں میں سے ہوں یا ٹھکرائے جانے والوں میں سے ؟‘‘  (ماخوذ از فیضان رمضان ، ص ۳۰۳)

(اللہ   عَزَّ  وَجَلَّ   کی اُن پر رحمت ہو۔۔ا ور۔۔ اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم )

 ( 6)  قبر پر کھڑے ہو کر’’ فکر ِ مدینہ ‘‘۔۔۔۔

        امیر المؤمنین حضرت سَیِّدُنا عثمان غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  جب کسی کی قبر پر تشریف لے جاتے تو اس قدر روتے کہ آپ کی داڑھی مبارک آنسوؤں سے تر ہو جاتی ۔ آپ کی خدمت میں عرض کی گئی ، ’’جنت اور دوزخ کے تذکرے پر آپ اتنا نہیں روتے جتنا کہ قبر پر روتے ہیں ؟‘‘ تو ارشاد فرمایا ، ’’ میں نے نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَسے سنا ہے کہ ’’قبر آخرت کی سب سے پہلی منزل ہے ، اگر صاحبِ قبر نے اس سے نجات پالی تو بعد (یعنی قیامت) کا معاملہ آسان ہے اور اگر اس سے نجات نہ پائی تو بعد کا معاملہ زیادہ سخت ہے ۔‘‘ پھر فرمایا ، ’’قبر کا منظر سب مناظر سے زیادہ ہولناک ہے ۔‘‘(جامع ترمذی ، کتاب الزھد ، رقم الحدیث ۲۳۱۵، ج۴، ص۱۳۸)

(اللہ   عَزَّ  وَجَلَّ   کی اُن پر رحمت ہو۔۔ا ور۔۔ اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم )

 ( 7) محراب میں بیٹھ کر’’ فکر ِ مدینہ‘‘ ۔۔۔۔

        حضرت سَیِّدُنا ضرار رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  فرماتے ہیں کہ ، ’’میں خدا کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میں نے امیر المؤمنین حضرت سَیِّدُنا علی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کو کئی مرتبہ دیکھا ، اس وقت کہ جب رات کی تاریکی چھارہی ہوتی ، ستارے ٹمٹما رہے ہوتے اور آپ اپنے محراب میں لرزاں و ترساں اپنے داڑھی مبارک تھامے ہوئے ایسے بے چین بیٹھے ہوتے کہ گویا زہریلے سانپ نے ڈس لیا ہو ۔ آپ غم کے ماروں کی طرح روتے اور بے اختیار ہوکر ’’اے میرے رب ! اے میرے رب ! ‘‘پکارتے ، پھر دنیا سے مخاطب ہو کر فرماتے ، ’’تو مجھے دھوکے میں ڈالنے کے لئے آئی ہے ؟ میرے لئے بن سنور کر آئی ہے ؟ دور ہوجا! کسی اور کو دھوکا دینا ، میں تجھے تین طلاق دے چکاہوں ، تیری عمر کم ہے اور تیری محفل حقیرجبکہ تیرے مصائب جھیلنا آسان ہیں ، آہ صد آہ!زادِ راہ کی کمی ہے اور سفرطویل ہے جبکہ راستہ وحشت سے بھر پور ہے۔‘‘(حلیۃ الاولیاء ، ذکر الصحابۃ من المہاجرین ، ج ۱، ص۸۵ )

(اللہ   عَزَّ  وَجَلَّ   کی اُن پر رحمت ہو۔۔ا ور۔۔ اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم )

 ( 8) دن بھر’’ فکر مدینہ‘‘ ۔۔۔۔

        حضرت سیدنا محمد بن واسع رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  فرماتے ہیں کہ حضرت سیدنا ابوذر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کی وفات کے بعد ایک شخص نے ان کی زوجہ محترمہ سے ان کی عبادت کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے جواب دیا ، ’’وہ دن بھر گھر کے ایک کونے میں ’’ فکرِ مدینہ‘‘ میں مشغول رہتے تھے ۔‘‘ (احیاء العلوم، کتاب التفکر ، ج ۵، ص  ۱۶۲ )

(اللہ   عَزَّ  وَجَلَّ   کی اُن پر رحمت ہو۔۔ا ور۔۔ اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم )

 ( 9) ہر دم ’’فکر ِ مدینہ‘‘ ۔۔۔۔

          منقول ہے کہ حضرت سَیِّدُنا حسن بصری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ چالیس برس تک نہیں ہنسے ۔ جب ان کو بیٹھے ہوئے دیکھا جاتا تو یوں معلوم ہوتا گویا ایک قیدی ہیں جسے گردن اڑانے کے لئے لایا گیا ہو، اور جب گفتگو فرماتے تو انداز ایسا ہوتا گویا آخرت کو آنکھوں سے دیکھ دیکھ کر بتا رہے ہیں ، اور جب خاموش رہتے تو ایسا محسوس ہوتا گویا ان کی آنکھوں میں آگ بھڑک رہی ہے ۔ جب ان سے اس قدر غمگین وخوف زدہ رہنے کا سبب پوچھا گیا تو فرمایا ، ’’مجھے اس بات کا خوف ہے کہ اگر اللہ  تَعَالٰی نے میرے بعض ناپسندیدہ اعمال کو دیکھ کر مجھ پر غضب فرمایااور یہ فرمادیا کہ جاؤ! میں تمہیں نہیں بخشتا۔تو میرا کیا بنے گا؟‘‘(احیاء العلوم ، کتاب الخوف والرجاء ج ۴، ص ۲۳۱)

(اللہ   عَزَّ  وَجَلَّ   کی اُن پر رحمت ہو۔۔ا ور۔۔ اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم )   

 ( 10) کیچڑ لگنے پر’’ فکر ِ مدینہ‘‘ ۔۔۔۔

        ایک مرتبہ امام اعظم ابوحنیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کسی جگہ تشریف لے جارہے تھے ۔راستہ میں کیچڑ تھی ، ایک جگہ آپ کے پاؤں کی ٹھوکر سے تھوڑی کیچڑ اڑ کر کسی شخص کے مکان کی دیوار سے جا لگی ۔ آپ شدید پریشان ہوئے کہ اگر کیچڑکھرچ کر دیوار صاف کی جائے تو دیوار کی کچھ مٹی بھی اس کے ساتھ اتر آئے گی اور اگر یونہی چھوڑ دیا جائے تو اس مکان کی دیوار خراب ہوتی ہے ۔ آپ اسی پریشانی میں تھے کہ اتفاق سے صاحب خانہ باہر نکل آیا جو کہ ایک یہودی تھا اور آپ کا مقروض بھی تھا ۔ وہ آپ کو دیکھ کر سمجھا کہ شاید آپ قرض وصول کرنے آئے ہیں ۔لہٰذا وہ پریشان ہوکر قرض کی ادائی میں تاخیر کا عذر پیش کرنے لگا۔لیکن آپ نے فرمایا ، ’’قرض کو چھوڑو ، میں تو اس شش وپنج میں ہوں کہ تمہاری اس دیوار کو کس طرح صاف کروں کیونکہ اگر کیچڑ کھرچتا ہوں تو قوی احتمال ہے کہ دیوار کی کچھ مٹی بھی ساتھ ہی اتر آئے گی اور اگر یونہی چھوڑ دوں تو تمہاری دیوار بدنُما نظر آئے گی۔‘‘یہ سن کر وہ یہودی بے ساختہ کہنے لگا ، ’’حضور! دیوار تو بعد میں صاف کیجئے گا پہلے کلمہ پڑھا کر(یعنی مسلمان کر کے) میرا دل پاک کردیجئے۔‘‘(تذکرۃ المحدثین ، ص ۵۷)

 ( 11)  دعوت میں ’’فکر ِ مدینہ‘‘ ۔۔۔۔

        حضرت سیدنا حاتم اصم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو ایک شخص نے دعوتِ طعام دی لیکن آپ نے انکار فرمادیا ۔ جب اس شخص نے بے حد اصرار کیا تو فرمایا ، ’’اگر تمہیں میری تین شرطیں قبول

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن