30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
چوتھی فصل: معجزات
اس کائنات رنگ و بو میں ہر چیز کے پیچھے کوئی نہ کوئی سبب کار فرما ہے جو نظام عالم کو نقطے سے وسیع مفہوم تک سمجھنے، اس کے پوشیدہ رازوں کو کھوجنے اور تدبر و تفکر کے قرآنی حکم پر عمل کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ پھولوں کا کھلنا، موسموں کا بدلنا اور بارش کا برسنا کسی نہ کسی سبب و تاثیر کی وجہ سے ہی ہوتا ہے، اسی کو امر عادی یا تحت الاسباب جیسی اصطلاحات سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ یہ اسباب و تاثیرات اکثر معلوم ہوتے ہیں اور نا معلوم اسباب کی وجوہات کو تلاش کرنا ہی تحقیق کہلاتا ہے۔
اگر کوئی چیز اپنے معروف اثر کے خلاف ظاہر ہو یا اپنے عام سبب کے بغیر کسی دوسرے ذریعے سے وجود پزیر ہوجائے تو اسے ”خرقِ عادت “ یا ”فوق الاسباب“ جیسی اصطلاحات سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ البتہ یہ بات ذہن نشین رہنی چاہیےکہ کسی چیز کے وجود کا سبب اس کے لیے علتِ تامہ نہیں ہوتا بلکہ کسی شے کا سبب بننا صرف ہمارے فہم کے اعتبار سے ہوتا ہے، یعنی ہم نے بارہا سبب کے بعد مسبب کا وجود ملاحظہ کیا ہوتا ہے تو ہم دونوں کے درمیان سببیت کا تعلق سمجھ لیتے ہیں، حالانکہ یہ بھی ممکن ہے کہ جس پروردگار عالم نے اسباب کو مقرر فرمایا ہے وہ کبھی ان اسباب کے بغیر بھی مسبب ظاہر فرمادے اور اگر وہ چاہے تو سبب کی تاثیر کو ہی ختم کردے اور سبب کے باوجود مسبب ظاہر نہ ہو۔
اللہ پاک اپنے پیارے نبیوں کو دعویٔ نبوت کی سچائی ثابت کرنے کے لیے اور اولیائے کرام کوبطورِ اکرام خرقِ عادت ظاہر کرنے کی قدرت عطا فرماکر انہیں عام بندوں سے ممتاز فرماتا ہے۔ انبیائے کرام اور اولیائے عظام کے یہ امور اللہ پاک کے ارادہ و مشیت کے مطابق اور اس کے اذن سے ہی ہوتے ہیں۔ ذیل میں کچھ ایسی آیات ذکر کی جارہی ہیں جن میں انبیا و اولیا کے خوارقِ عادت امور کا ذکر ہے۔ ملاحظہ کیجیے:
اَنِّیْ قَدْ جِئْتُكُمْ بِاٰیَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ ﳐ اَنِّیْۤ اَخْلُقُ لَكُمْ مِّنَ الطِّیْنِ كَهَیْــٴَـةِ الطَّیْرِ فَاَنْفُخُ فِیْهِ فَیَكُوْنُ طَیْرًۢا بِاِذْنِ اللّٰهِۚ-وَ اُبْرِئُ الْاَكْمَهَ وَ الْاَبْرَصَ وَ اُحْیِ الْمَوْتٰى بِاِذْنِ اللّٰهِۚ-
(پ 3،اٰلِ عمرٰن:49)
ترجمہ: میں تمہارے پاس ایک نشانی لایا ہوں تمہارے رب کی طرف سے کہ میں تمہارے لیے مٹی سے پرند کی سی مورت بناتا ہوں پھر اس میں پھونک مارتا ہوں تو وہ فوراً پرند ہوجاتی ہے اللہ کے حکم سے اور میں شفا دیتا ہوں مادر زاد اندھے اور سپید (سفید) داغ والے کو اور میں مُردے جلاتا (زندہ کرتا) ہوں اللہ کے حکم سے۔
قَدْ جَآءَتْكُمْ بَیِّنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْؕ-هٰذِهٖ نَاقَةُ اللّٰهِ لَكُمْ اٰیَةً
(پ 8، الاعراف:73)
ترجمہ: بے شک تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے روشن دلیل آئی یہ اللہ کا ناقہ ہے تمہارے لئے نشانی۔
قَالَ اَلْقِهَا یٰمُوْسٰى(۱۹) فَاَلْقٰىهَا فَاِذَا هِیَ حَیَّةٌ تَسْعٰى(۲۰)
(پ 16، طٰہٰ:19-20)
ترجمہ: فرمایا اسے ڈال دے اے موسیٰ تو موسیٰ نے اسے ڈال دیا تو جبھی وہ دوڑتا ہوا سانپ ہوگیا۔
وَ اضْمُمْ یَدَكَ اِلٰى جَنَاحِكَ تَخْرُ جْ بَیْضَآءَ مِنْ غَیْرِ سُوْٓءٍ اٰیَةً اُخْرٰىۙ(۲۲)
(پ 16، طٰہٰ:22)
ترجمہ:اور اپنا ہاتھ اپنے بازو سے ملا خوب سپید نکلے گا بے کسی مرض کے ایک اور نشانی۔
اَنَا اٰتِیْكَ بِهٖ قَبْلَ اَنْ یَّرْتَدَّ اِلَیْكَ طَرْفُكَؕ-فَلَمَّا رَاٰهُ مُسْتَقِرًّا عِنْدَهٗ قَالَ هٰذَا مِنْ فَضْلِ رَبِّیْ
(پ 19، النمل:40)
ترجمہ:میں اُسے حضور میں حاضر کردوں گا ایک پل مارنے سے پہلے پھر جب سلیمان نے اس تخت کو اپنے پاس رکھا دیکھا کہا یہ میرے رب کے فضل سے ہے۔
كُلَّمَا دَخَلَ عَلَیْهَا زَكَرِیَّا الْمِحْرَابَۙ-وَجَدَ عِنْدَهَا رِزْقًاۚ-
(پ 3، اٰلِ عمرٰن:37)
ترجمہ:جب زکریا اس کے پاس اس کی نماز پڑھنے کی جگہ جاتے اس کے پاس نیا رزق پاتے۔
وَ لَبِثُوْا فِیْ كَهْفِهِمْ ثَلٰثَ مِائَةٍ سِنِیْنَ وَ ازْدَادُوْا تِسْعًا(۲۵)
(پ 15، الکہف:25 )
ترجمہ: اور وہ اپنے غار میں تین سو برس ٹھہرے نو اوپر۔
پہلی چار آیات میں انبیائے کرام علیہمُ السّلام کے درج ذیل چھ معجزات ذکر ہوئے ہیں:
_ عصا کا سانپ بنا دینا
_ مٹی سے پرندے کی تخلیق
_ مبروص کو شفا دینا
_ مردے زندہ کرنا
_ مادرزاد اندھے کو بینا کرنا
_ ہاتھ کا روشن ہوجانا
جبکہ دیگر تین آیات میں اولیائے کرام کی درج ذیل تین کرامات بیان ہوئی ہیں :
_بے موسم کے پھل ملنا _مسلسل 309 سال سوئے رہنا
_سینکڑوں میل دور رکھا تخت لمحہ میں حاضر کرنا
انبیائے کرام اور اولیائے عظام کے ان کمالات سے معلوم ہوتا ہے کہ انہیں بارگاہِ الٰہی سے زبردست طاقت و قوت عطا کی جاتی ہے، ان قدسی نفوس زمینی ہستیوں کی ارواح عالمِ ملائکہ سے بھی بالاتر ہوتی ہیں، لباسِ بشری پہننے والے یہ لوگ باطن میں خدائی طاقتیں لیے ہوتے ہیں، فنا فی اللہ کے مقام پر فائز ان ہستیوں کے اعضاء سے صادر ہونے والے افعال در حقیقت افعالِ الٰہیہ ہی ہوتے ہیں، جیسا کہ آیتِ مبارکہ ہے: ﴿وَ مَا رَمَیْتَ اِذْ رَمَیْتَ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ رَمٰىۚ-﴾(1) ترجمہ: ”اے محبوب وہ خاک جو تم نے پھینکی تم نے نہ پھینکی تھی بلکہ اللہ نے پھینکی۔“ اور حدیثِ مبارک ہے:
كُنْتُ سَمْعَهُ الَّذِيْ يَسْمَعُ بِهٖ وَبَصَرَهُ الَّذِي يُبْصِرُ بِهٖ وَيَدَهُ الَّتِي يَبْطِشُ بِهَا ، وَرِجْلَهُ الَّتِي يَمْشِي بِهَا
یعنی میں اس کے کان بن جاتا ہوں جن سے وہ سنتا ہے، اس کی آنکھیں بن جاتا ہوں جن سے وہ دیکھتا ہے، اس کے ہاتھ بن جاتا ہوں جن سے وہ پکڑتا ہے اور اس کے پاؤں بن جاتا ہوں جن سے وہ چلتا ہے۔ (2)
ذیل میں معجزہ و کرامت کی تعریف اور ان کے معنیٰ و مفہوم سے متعلق اہم کلام ذکر کیا جارہا ہے، ملاحظہ کیجیے:
معجزے کی لغوی تحقیق:
”معجزہ“ اعجاز سے مشتق ہے جس کا مادہ عجز ہے اور عجز انسان کے پچھلے حصے کو کہتے ہیں۔ پھر اس عجز سے کسی کام میں مؤخر رہنے کا مفہوم لے کر اس سے درماندگی اور کسی چیز کی کمی مراد لی جانے لگی اور اسی مفہوم کے مختلف معانی میں یہ مادہ قرآن پاک میں استعمال کیا گیا ہے،چند آیات ملاحظہ کیجیے:
قَالَ یٰوَیْلَتٰۤى اَعَجَزْتُ اَنْ اَكُوْنَ مِثْلَ هٰذَا الْغُرَابِ
(پ 6، المائدۃ:31)
ترجمہ: بولا ہائے خرابی میں اس کوّے جیسا بھی نہ ہوسکا۔
وَّ اعْلَمُوْۤا اَنَّكُمْ غَیْرُ مُعْجِزِی اللّٰهِۙ-
(پ 10، التوبۃ:2)
ترجمہ: جان رکھو کہ تم اللہ کو تھکا نہیں سکتے۔
وَّ اَنَّا ظَنَنَّاۤ اَنْ لَّنْ نُّعْجِزَ اللّٰهَ فِی الْاَرْضِ وَ لَنْ نُّعْجِزَهٗ هَرَبًاۙ(۱۲)
(پ 29، الجن:12)
ترجمہ: اور یہ کہ ہم کو یقین ہوا کہ ہرگز زمین میں اللہ کے قابو سے نہ نکل سکیں گے اور نہ بھاگ کر اس کے قبضہ سے باہر ہوں۔
قَالَتْ یٰوَیْلَتٰۤى ءَاَلِدُ وَ اَنَا عَجُوْزٌ
(پ 12، ہود:72)
ترجمہ: بولی ہائے خرابی کیا میرے بچہ ہوگا اور میں بوڑھی ہوں۔
ان آیات میں درماندگی اور کمی کا مفہوم واضح ہے۔ اہلِ عرب اپنے ارادے پر قادر نہ ہونے کو ”عجز“ کہتے ہیں اور اس کے مقابلہ میں لفظ ”قدرت“ استعمال کرتے ہیں۔(3) معجزہ کی وجہ تسمیہ بھی یہی ہے کہ خلقِ خدا اس کے مثل کام سے عاجز ہوجاتی ہے، (2) لہٰذا اس کو معجزہ یعنی عاجز کردینے والی چیز کہا جاتا ہے۔
معجزہ كے قرآنی کلمات:
قرآن پاک میں معجزات کے لیے درج ذیل تین کلمات مذکور ہوئے ہیں:
(1)آیات(2) بینات(3) برہان (3)
1- آیات: آیت کا معنیٰ ہے ”علامت“ چونکہ معجزہ بھی نبی کی سچائی کی ایک علامت ہوتا ہے، اسی لیے معجزہ کو قرآن پا ک میں آیت کہا گیا ہے، چند آیات ملاحظہ کیجیے:
قَالَ اِنْ كُنْتَ جِئْتَ بِاٰیَةٍ فَاْتِ بِهَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ(۱۰۶)
(پ 9، الاعراف:106)
ترجمہ: بولا اگر تم کوئی نشانی لے کر آئے ہو تو لاؤ اگر سچے ہو۔
وَ قَالَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ لَوْ لَا یُكَلِّمُنَا اللّٰهُ اَوْ تَاْتِیْنَاۤ اٰیَةٌؕ-
(پ 1، البقرۃ:118)
ترجمہ: اور جاہل بولے اللہ ہم سے کیوں نہیں کلام کرتا یا ہمیں کوئی نشانی ملے۔
سَلْ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ كَمْ اٰتَیْنٰهُمْ مِّنْ اٰیَةٍۭ بَیِّنَةٍؕ-
(پ 2، البقرۃ:211)
ترجمہ: بنی اسرائیل سے پوچھو ہم نے کتنی روشن نشانیاں انہیں دیں۔
2 ،3- بینات اور برہان: بینہ اور برہان کا معنیٰ ہے ”دلیل“ چونکہ معجزہ بھی نبی کی سچائی کی دلیل ہوتا ہے، اسی لیے معجزہ کو قرآن پاک میں بینات اور برہان کہا گیا ہے، چند آیات ملاحظہ کیجیے:
وَ اٰتَیْنَا عِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ الْبَیِّنٰتِ
(پ 1، البقرۃ:87)
ترجمہ: اور ہم نے عیسیٰ بن مریم کو کھلی نشانیاں عطا فرمائیں۔
وَ لَقَدْ جَآءَكُمْ مُّوْسٰى بِالْبَیِّنٰتِ
(پ 1، البقرۃ:92)
ترجمہ: اور بےشک تمہارے پاس موسیٰ کھلی نشانیاں لے کر تشریف لایا۔
وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا اقْتَتَلَ الَّذِیْنَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُمُ الْبَیِّنٰتُ
(پ 3، البقرۃ:253)
ترجمہ: اور اللہ چاہتا تو ان کے بعد والے آپس میں نہ لڑتے بعد اس کے کہ ان کے پاس کھلی نشانیاں آچکیں۔
فَذٰنِكَ بُرْهَانٰنِ مِنْ رَّبِّكَ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡىٕهٖؕ-
(پ 20، القَصَص:32)
ترجمہ: تو یہ دوحجتیں ہیں تیرے رب کی فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف۔
معجزہ کی تعریف:
وَ ہِیَ اَمْرٌ یَظْہَرُ بِخِلَافِ الْعَادَۃِ عَلٰی یَدِ مُدَّعِی النُّبُوَّۃِ عِنْدَ تَحَدِّی الْمُنْکِرِیْنَ عَلٰی وَجْہٍ یُعْجِزُ الْمُنْکِرِیْنَ عَنِ الْاِتْیَانِ بِمِثْلِہٖ ۔ (4)
یعنی معجزہ وہ کام ہے جو منکرین کے مقابلہ میں نبوت کا دعوی کرنے والے سے یوں خلافِ عادت ظاہر ہوتا ہے کہ منکرین اس کی مثل لانے سے عاجز ہوتے ہیں۔
خلافِ عادت یا خرقِ عادت سے مراد:
عادت سے مراد عادتِ الٰہیہ ہے۔ عادت کا معنیٰ ہوتا ہے: ”ہر وہ فعل جس کا صدور باربار ہو،“ اس کی نسبت صانع کی طرف ہوتی ہے، جیسے کھانے سے بھوک کا مٹنا اور پینےسے پیاس کا بجھنا وغیرہ کہ صانع نے یہی عادت مقرر فرمائی ہے۔ اگر اس عادت کے خلاف فعل صادر ہو تو اسے خرقِ عادت یا خلافِ عادت سے تعبیر کرتے ہیں، جیسے پیے بغیر پیاس بجھنا اور کھائے بغیر بھوک مٹنا۔(5)
خوارقِ عادت کی مختلف صورتیں :
خلافِ عادت امور کی وہ صورتیں جو معجزہ یا کرامت کے طور پر رونما ہوچکی ہیں، ان میں سے چند ملاحظہ کیجیے:
بغیر باپ کی پیدائش بے آب و غذا زندہ رہنا مردے زندہ کرنا
معراج انگلیوں سے چشمے جاری ہونا پتھر سے اونٹنی پیدا ہونا
طی زمان و مکان حیوانات کا تابع فرمان ہونا چاند کے دو ٹکڑے کردینا
بے جان اشیاء کا کلمہ پڑھنا دور دراز مقام کا مشاہدہ کرنا کسی چیز کی اصل کو بدلنا
پانی پر چلنا
مختلف شکلیں اختیار کرنا(6)
خوارقِ عادت کی اقسام:
خوارقِ عادت کی سات قسمیں ہیں:
1- معجزہ: جو خلافِ عادت چیز نبی سے اعلانِ نبوت کے بعد صادر ہو، اسے ”معجزہ“ کہتے ہیں۔
2- کرامت: جو خلافِ عادت چیز ولی سے صادر ہو، اسے ”کرامت“ کہتے ہیں۔
3- معونت: جو خلافِ عادت چیز عام مومنین سے صادر ہو، اسے ”معونت“ کہتے ہیں۔
4- ارہاص: جو خلافِ عادت چیز نبی سے قبلِ نبوت ظاہر ہو، اسے ”اِرہاص“ کہتے ہیں۔ اسے کرامت میں بھی شمار کیا جاتا ہے اور مجازاً ”معجزہ“ بھی کہہ دیا جاتا ہے۔
5- استدراج: جو خلافِ عادت چیز کافر یا فاسق سے اس کے موافق ظاہر ہو، اسے ”اِسْتِدْرَاج“ کہتے ہیں۔
6- اہانت: جو خلافِ عادت چیز کافر یا فاسق سے اسی کے ارادے کے خلاف ظاہر ہو، اسے ”اِہانت“ کہتے ہیں۔
7- سحر: جو خلافِ عادت چیز عملیات کے ذریعے شیاطین کی مدد سے ظاہر ہو، اسے ”سحر“ کہا جاتا ہے۔(7)
مدعی نبوت و الوہیت سے خرقِ عادت کا ظہور:
جو شخص نبی نہ ہو اور نبوت کا دعویٰ کرے، وہ کوئی محالِ عادی اپنے دعوے کے مطابق ظاہر نہیں کرسکتا، ورنہ سچے اور جھوٹے میں فرق نہیں رہے گا۔ (2) البتہ اگر کوئی الوہیت کا مدعی ہو تو اس سے خرقِ عادت کام اس کے موافق ظاہر ہوسکتا ہے، کیونکہ ظاہر حال، اس کا عالمِ حادث میں پیدا ہونا اور ضروریاتِ زندگی کے لیے محتاج ہونا وغیرہ وہ امور ہیں جو اس کے دعوے کی تکذیب کے لیے کافی ہیں۔ (3)
معجزات و کرامات کا انبیا و اولیا کے کسب و اختیار میں ہونا:
اللہ پاک قرآن مجید میں فرماتا ہے:
وَ اللّٰهُ خَلَقَكُمْ وَ مَا تَعْمَلُوْنَ(۹۶)
( پ 23، الصّٰفّٰت:96)
ترجمہ: اور اللہ نے تمہیں پیدا کیا اور تمہارے اعمال کو۔
ہر کام بطور تخلیق اللہ پاک کی طرف منسوب ہوتا ہے اور بطور کسب بندے کی طرف۔(8) بعض لوگ انبیا و اولیا کو مجبور بندہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور مشیت الٰہی کے سامنے ان کی حیثیت ایسی سمجھتے ہیں جیسے کاتب کے لیے قلم کی ہوتی ہے کہ جس طرح کتابت میں قلم کا کوئی کسب و اختیار نہیں ہوتا اور وہ کاتب کی مرضی کے بغیر نہیں چل سکتا، اسی طرح انبیا و اولیا کا خرقِ عادت میں کوئی کسب و اختیار نہیں ہوتا اور وہ مجبور ہوتے ہیں، حالانکہ یہ خیال اسلامی تعلیمات و شواہد کے بالکل خلاف ہے۔
درست نظریہ یہ ہے کہ امورِ عادیہ ہوں یا غیر عادیہ، بعض چیزوں میں بندے کے کسب و اختیار کو دخل ہوتا ہے اور بعض میں نہیں ہوتا، مثلاً بندہ اپنے کسب و اختیار سے آنکھ کھول سکتا ہے، لیکن بصارت اس کے کسب و اختیار سے باہر ہے، یعنی وہ ایسا نہیں کرسکتا کہ آنکھ کھولنے کے بعد نہ دیکھے۔ بالکل اسی طرح وحی و الہام کی کیفیات بھی کسب و اختیار سے باہر ہوتی ہیں۔ جو معجزات و کرامات احوال و کیفیات سے متعلق ہیں ان میں نبی و ولی کے کسب و اختیار کا دخل نہیں ہوتا، جبکہ جن کا تعلق افعال سے ہے وہ ان کے کسب و اختیار میں ہوتے ہیں۔ عام انسانوں کو امور عادیہ کا اور انبیا و اولیا کو خوارقِ عادت امور کا اختیار دیا جاتا ہے۔(9)
قلبِ حقیقت اور خرقِ عادت:
وہ معجزات جن کا تعلق کسی چیز کی تبدیلی سے ہوتا ہے ان میں شے کی حقیقت ہی بدل جاتی ہے، ایسا نہیں ہوتا کہ شے اپنی سابقہ حقیقت پر بر قرار رہے اور لوگوں کی نظروں میں دوسری شے ہو، مثلاً حضرت موسیٰ علیہ السلام کا عصا صرف لوگوں کو ہی اژدہا نظر نہیں آرہا تھا بلکہ وہ حقیقۃً اژدہا بن گیا تھا۔ اس طرح قلبِ حقیقت ممکنات میں سے ہے کہ پہلی حقیقت فنا ہوجائے اور اللہ دوسری حقیقت پیدا فرمادے۔ پہلی حقیقت باقی رہتے ہوئے دوسری حقیقت پیدا ہونا محال ہے کہ اس سے اجتماعِ ضدین لازم آئے گا۔ البتہ سحر میں اصل شے بالکل بھی متغیر نہیں ہوتی، جیساکہ فرعون کے جادوگروں کے بارے میں اللہ پاک نے فرمایا:
سَحَرُوْۤا اَعْیُنَ النَّاسِ وَ اسْتَرْهَبُوْهُمْ
(پ 9،الاعراف:116)
ترجمہ: لوگوں کی نگاہوں پر جادو کر دیا اور انہیں ڈرا دیا۔
ایک دوسرے مقام پر فرمایا:
فَاِذَا حِبَالُهُمْ وَ عِصِیُّهُمْ یُخَیَّلُ اِلَیْهِ مِنْ سِحْرِهِمْ اَنَّهَا تَسْعٰى(۶۶)
(پ 16،طٰہٰ:66)
ترجمہ:جبھی اُن کی رسیاں اور لاٹھیاں ان کے جادو کے زور سے ان کے خیال میں دوڑتی معلوم ہوئیں۔ (10)
شبہات اور ان کی توضیحات:
بعض مادہ پرست خرق عادت سے متعلق کچھ شبہات پیش کرتے ہیں، ذیل میں ایسے شبہات اور ان کی توضیحا ت ملاحظہ کیجیے:
1- شبہ:خرقِ عادت کا صدور فطرت کے منافی ہے، قرآن پاک میں ہے:
فِطْرَتَ اللّٰهِ الَّتِیْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَیْهَاؕ-لَا تَبْدِیْلَ لِخَلْقِ اللّٰهِؕ-
(پ 21، الروم: 30)
ترجمہ: اللہ کی ڈالی ہوئی بِنا جس پر لوگوں کوپیدا کیا اللہ کی بنائی چیز نہ بدلنا۔
توضیح: اس آیت کا مفہوم صرف یہ ہے کہ اللہ پاک نے مخلوق کو اس عہد پر پیدا فرمایا ہے جو ﴿ اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْؕ ﴾(11) ترجمہ: ”کیا میں تمہارا رب نہیں۔“ فرما کر لیا گیا تھا۔ اسی فطریایمان اور دین پر قائم رہنے کا آیت میں حکم ہے اور اسے تبدیل کرنے کی ممانعت ہے، اگر آیت کے ماقبل اور مابعد کو دیکھا جائے تو بھی اس آیت کا درست مفہوم واضح ہوجائے گا، مکمل آیت ملاحظہ کیجیے:
فَاَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّیْنِ حَنِیْفًاؕ-فِطْرَتَ اللّٰهِ الَّتِیْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَیْهَاؕ-لَا تَبْدِیْلَ لِخَلْقِ اللّٰهِؕ-ذٰلِكَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُۗۙ-وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَۗۙ(۳۰)
(پ 21، الروم: 30)
ترجمہ: تو اپنا منہ سیدھا کرو اللہ کی اطاعت کے لیے ایک اکیلے اسی کے ہوکر اللہ کی ڈالی ہوئی بِنا جس پر لوگوں کو پیدا کیا اللہ کی بنائی چیز نہ بدلنا یہی سیدھا دین ہے مگر بہت لوگ نہیں جانتے۔
دینِ حنیف اور دینِ قیم کا ذکر کرنا اسی طرف اشارہ کرتا ہے کہ یہاں فطرت سے مراد دینِ اسلام ہے۔ انسان اگرچہ اپنے اختیار سے یہودی یا مجوسی بن جائے لیکن اس کے باطن میں دینِ حق کا جوہر باقی رہتا ہے اور یہ صلاحیت کبھی تبدیل نہیں ہوتی، (12) لہٰذا یہ آیت خرقِ عادت کے منافی نہیں ہے، اگر یہاں خرقِ عادت کی نفی مراد ہوتو جن آیات میں خوارقِ عادت کا ذکر ہے ان سے تضاد لازم آئے گا۔
2- شبہ: ایک آیت میں اس جانب اشارہ ہے کہ نبی کو معجزہ پر قدرت ہی نہیں ہوتی، آیت ملاحظہ کیجیے:
وَ مَا كَانَ لِرَسُوْلٍ اَنْ یَّاْتِیَ بِاٰیَةٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِؕ-لِكُلِّ اَجَلٍ كِتَابٌ(۳۸)
(پ 13، الرعد:38)
ترجمہ: اور کسی رسول کا کام نہیں کہ کوئی نشانی لے آئے مگر اللہ کے حکم سےہر وعدہ کی ایک لکھت(تحریر) ہے۔
توضیح: اس آیت میں نشانی سے مراد کفار کے فرمائشی معجزات ہیں، آیت کا مطلب یہ ہوا کہ میں اللہ کی اجازت کے بغیر تمہارے فرمائشی معجزات ظاہر نہیں کرسکتا، یہ نہیں فرمایاگیا کہ اللہ کی دی ہوئی قدرت و طاقت سے بھی معجزات ظاہر نہیں کرسکتا۔ یہ بات یاد رکھیے کہ اللہ پاک جب معجزات پر قدرت عطا فرماتا ہے تو وہ اللہ کا اذن ہی ہوتا ہے، معجزات کے لیے اللہ پاک کا یہی مطلق اذن کافی ہوتا ہے، ہر مرتبہ جدید اذن لینے کی حاجت نہیں ہوتی۔ انبیائے کرام علیہمُ السّلام کے تمام معجزات اللہ کی اجازت سے ہی ہوتے ہیں۔ (13)
معجزہ و کرامت کے انکار کا حکم:
کراماتِ اولیا کا انکار گمراہی ہے۔ (2) جبکہ معجزات کا مطلقاً انکار کرنا کفرِ صریح ہے اور ایسا شخص کافر، ملحد اور زندیق ہے، کیونکہ انبیائے کِرام کے بیسیوں معجزات قرآن مجید میں صراحۃً موجود ہیں، مثلاً چاند شق ہونا ، ایرانیوں کا مغلوب ہونا، حضرت موسیٰ علیہ السلام کے نو معجزات، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا مردے جِلانا، مبروص اور مادرزاد اندھے کو شفا دینا وغیرہ۔ (3) نیز جو معجزہ دلیل قطعی سے ثابت ہو جیسے ”معراج کی رات میں حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا مسجد حرام سے مسجد اقصی تک کی سیر فرمانا ۔“ اس پر ایمان لانا فرض اور اس کا انکار کر نے والا کافر ہے۔ اسی طرح جو معجزہ احادیث ِمشہورہ سے ثابت ہو جیسے ”حضور کا معراج کی رات آسمانوں کی سیر فرمانا۔“ اس کا ماننا لازم و ضروری ہے اور اس کا منکر گمراہ بدمذہب ہے ۔ (14)
_ _ _ _
مشق
1- فصل کی تمہید کو بغور پڑھیے اور نکات کی صورت میں خلاصہ لکھیے۔
2- معجزہ کا لغوی و اصطلاحی معنیٰ بیان کیجیے۔
3- معجزہ و کرامت کے انکار کا حکم بیان کیجیے۔
4- خرق عادت کا معنیٰ، صورتیں اور اقسام بیان کیجیے۔
5- معجزے اور جادو میں فرق بتائیے۔
6- شبہات کی توضیحات کا خلاصہ لکھیے۔
7- قرآن پاک میں معجزے کے لیے کتنے اور کون کون سے کلمات آئے ہیں؟
8- نظام کائنات کے تناظر میں منکرین معجزہ کا رد کیجیے۔
9- مدعی نبوت سے خارق عادت کام صادر نہیں ہوسکتا، مدعی الوہیت سے ہوسکتا ہے، وجہ بتائیے۔
10- کیا انبیائے کِرام اور اولیائے عظام خارق عادت کام کے صدور میں مجبور محض ہیں؟ تفصیلاً لکھیے۔
پانچویں فصل: شفاعت
اللہ پاک کی تمام مخلوق؛ نبی ہوں یا امتی، بادشاہ ہوں یا فقیر، انسان ہوں یا فرشتے اس کی بارگاہ میں بندگی کے اعتبار سے یکساں نسبت رکھتے ہیں، کسی کو کسی بھی لحاظ سے اللہ تعالیٰ کے ملک و اقتدار میں شراکت حاصل نہیں ، ارادہ و اختیار میں مزاحمت کی قدرت نہیں اور حکم و فعل میں تابِ مقابلہ نہیں، اس کا نہ کوئی شریک ہے نہ ہمسر، نہ مددگار ہے نہ کارساز۔ اسے کسی وزیر کی امداد یا کسی مددگار کے تعاون کی حاجت نہیں، کسی کی خوشنودی سے اس کی مملکت کی رونق میں اضافہ نہیں ہوتا اور نہ ہی کسی کی ناراضگی سے اس کے کارخانۂ حکمت میں خلل پیدا ہوتا ہے۔
البتہ اس نے اپنی مخلوق کو مختلف مراتب مقدر فرماکر پیدا کیا ہے، کسی کو بارگاہِ قدس کا مقرب بنایا ہے، تو کسی کو مردود، ذلیل اور گمراہ کیا ہے، اور ان دوقسموں میں بھی مختلف مراتب اور کئی درجات رکھے ہیں؛ اسی نے مقربینِ بارگاہ کو ان کے درجات کے مطابق مقام کا شفیع بنایا ہے اور وہی ان کی شفاعت قبول فرماکر اس عزت افزائی کے ذریعے انہیں مخلوق میں ممتاز فرمانے والا ہے۔(15)
1…… پ 9، الانفال:17۔
2…… بخاری،4/248، حدیث: 6502۔
3…… مفردات الفاظ القرآن، ص 547۔ 2…… الشفا، 1/252۔ 3…… المواہب اللدنیہ، 2/194۔
4…… شرح العقائد النسفیہ، ص 298۔
5…… النبراس، ص 271-المعجزات، ص 6۔
6…… خازن، پ3، اٰلِ عمرٰن، تحت الآیۃ 59، 1/257- خازن، پ8، الاعراف، تحت الآیۃ 173، 2/112- بخاری، 2/493، حدیث: 3573- بخاری،2/579، حدیث: 3868- سنن دارمی، 1/22، حدیث: 16-طبقات الشافعیۃ الکبریٰ، 2/338 تا 344 ملتقطاً۔
7…… النبراس، ص 272۔ 2…… شرح المقاصد، 3/279-النبراس، ص 272-المعتقد المنتقد، ص 218۔
3……تمہید ابو شکور سالمی، ص 43- النبراس، ص 273۔
8……شرح العقائد النسفیہ، ص 213۔
9…… فتاویٰ شارح بخاری، 1/561-احیاء العلوم، 4/240-روح البیان، پ 19، النمل، تحت الآیۃ:40، 6/351-شرح المواقف، 8/247۔
10…… ملفوظات اعلیٰ حضرت، ص 475 – 477 ملتقطاً۔
11…… پ 9، الاعراف:172۔
12…… تفسیر نسفی، پ 21، الروم، تحت الآیۃ:30، ص 908 ماخوذاً -تفسیرِ خازن، پ 21، الروم، تحت الآیۃ:30 ، 3/463ماخوذاً۔
13…… تفسیرِ خازن، پ 13، الرعد، تحت الآیۃ:38 ، 3/69ماخوذاً۔ 2…… فتاویٰ رضویہ، 14/324۔
3…… فتاویٰ رضویہ، 14/323 ماخوذاً -فتاویٰ شارح بخاری، 1/572۔
14…… اشعۃ اللمعات، 4/550-تفسیرات احمدیہ، ص 503- ہدایۃ المرید، 2/854۔
15…… تحقیق الفتویٰ (مترجم)، ص 76 تا 77 ۔ 2…… مفردات الفاظ القرآن، ص 457۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع